حدیث نمبر: 1297
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : " يَا عَبَّاسُ ، يَا عَمَّاهُ ، أَلَا أُعْطِيكَ ، أَلَا أَمْنَحُكَ ، أَلَا أَحْبُوكَ ، أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ ، عَشْرَ خِصَالٍ أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ ، قُلْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، ثُمَّ تَرْكَعُ ، فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اے عباس ! اے میرے چچا ! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں ؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں ؟ کیا میں آپ کو نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے ، نئے پرانے ، جانے انجانے ، چھوٹے بڑے ، چھپے اور کھلے ، سارے گناہ معاف کر دے گا ، وہ دس باتیں یہ ہیں : آپ چار رکعت نماز پڑھیں ، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھیں ، جب پہلی رکعت کی قرآت کر لیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ «سبحان الله ، والحمد لله ، ولا إله إلا الله ، والله أكبر» کہیں ، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں ، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں ، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں ، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں ، پھر ( دوسرا ) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب ( دوسرے ) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں ، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا ، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں ، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں ، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں ، ایسا بھی نہ کر سکیں تو ہر مہینے میں ایک بار ، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں “ ۔
حدیث نمبر: 1298
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ الْأُبُلِّيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ أَبُو حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يَرَوْنَ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتِنِي غَدًا أَحْبُوكَ وَأُثِيبُكَ وَأُعْطِيكَ " حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُعْطِينِي عَطِيَّةً ، قَالَ : " إِذَا زَالَ النَّهَارُ ، فَقُمْ فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، قَالَ : " ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ ، يَعْنِي مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ ، فَاسْتَوِ جَالِسًا وَلَا تَقُمْ حَتَّى تُسَبِّحَ عَشْرًا ، وَتَحْمَدَ عَشْرًا ، وَتُكَبِّرَ عَشْرًا ، وَتُهَلِّلَ عَشْرًا ، ثُمَّ تَصْنَعَ ذَلِكَ فِي الْأَرْبَعِ رَكَعَاتِ ، قَالَ : فَإِنَّكَ لَوْ كُنْتَ أَعْظَمَ أَهْلِ الْأَرْضِ ذَنْبًا غُفِرَ لَكَ بِذَلِكَ " قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُصَلِّيَهَا تِلْكَ السَّاعَةَ ؟ قَالَ : " صَلِّهَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ خَالُ هِلَالٍ الرَّأْيِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو مَوْقُوفًا ، وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ،وَجَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ : فَقَالَ : حَدِيثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ` مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے ، انہوں نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کل تم میرے پاس آنا ، میں تمہیں دوں گا ، عنایت کروں گا اور نوازوں گا “ ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے ( جب میں کل پہنچا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو “ ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے ، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ : ” پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی “ ، میں نے عرض کیا : اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حبان بن ہلال : ہلال الرای کے ماموں ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے ، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے ، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ( تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی ) کے جملے کا اضافہ کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1299
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ، حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِجَعْفَرٍ : بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُمْ ، قَالَ فِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى كَمَا قَالَ فِي حَدِيثِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ` مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی ، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا ، البتہ اس میں ہے : پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے ۔