کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جس کی فجر کی سنتیں چھوٹ گئی ہوں تو ان کو کب پڑھے؟
حدیث نمبر: 1267
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ ، " فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فجر دو ہی رکعت ہے “ ، اس شخص نے جواب دیا : میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں ، وہ اب پڑھی ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1267
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (1044), صححه ابن خزيمة (1116) وابن حبان (624) تصحيح الحديث يدل عليٰ أن سعيد بن قيس سمع من أبيه وزعم ابن عبد البر خلافه ولكن قوله مرجوح في مقابلة ابن خزيمة وابن حبان والحاكم وغيرهم۔ والله أعلم
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 197 (422)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 104(1154)، (تحفة الأشراف: 11102)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/447) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1268
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَ : قَالَ سُفْيَانُ : كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ ، وَيَحْيَى ابْنَا سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلًا ، أَنَّ جَدَّهُمْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے` ابوداؤد کہتے ہیں : سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1268
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره وقوله جدهم زيدا خطأ والصواب جدهم قيس , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (1267)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11102) (صحیح) » (پچھلی حدیثوں سے تقویت پاکر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن زید کی بجائے، صحیح نام قیس ہے)