کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: فجر کی سنت کے بعد لیٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ " ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ : أَمَا يُجْزِئُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : " لَا " ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ ، قَالَ : فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا ، قَالَ : فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا ؟ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے “ ، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا : کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے ؟ عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : نہیں ، تو پھر یہ خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا : ابوہریرہ نے ( کثرت سے روایت کر کے ) خود پر زیادتی کی ہے ( اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہو گا ) ، وہ کہتے ہیں : ابن عمر سے پوچھا گیا : جو ابوہریرہ کہتے ہیں ، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے ؟ تو ابن عمر نے جواب دیا : نہیں ، البتہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( روایت کثرت سے بیان کرنے میں ) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں ، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا : اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ترمذی، ابن حبان (۲۴۵۹) اور عبدالحق اشبیلی وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے، بعض روایات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ثابت ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول وفعل دونوں نقل کیا ہے، جبکہ ابو صالح سمان راوی نے آپ سے قول نقل کیا، اور اعمش نے ابو صالح سے امر (قول) یاد رکھا، اور ابن اسحاق نے فعل، اور ہر راوی نے جو بات یاد تھی روایت کی، اس طرح سے سبھوں نے صحیح نقل کیا ہے، اس طرح سے ابوہریرہ سے امر والی روایت کے محفوظ رکھنے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فعل نبوی کے محفوظ ہونے کی بات میں تطبیق ہو جائے گی، ابوہریرہ کے بیان میں حدیث قولی کا مرفوع ہونا ثابت ہے، بعض اہل علم نے فعل رسول کو راجح قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: اعلام اہل العصر بأحکام رکعتی الفجر، للمحدث شمس الحق العظیم آبادی، وشیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، للفریوائی، وصحیح ابی داود للألبانی ۴؍ ۴۲۹)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1261
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (420), الأ عمش مدلس مشھور وعنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصلاة 195 (420)، (تحفة الأشراف: 12435)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/415) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1262
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي ، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي ، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے ، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے ، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے ، پھر نماز کے لیے نکل جاتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1262
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لكن ذكر الحديث والاضطجاع قبل ركعتي الصبح شاذ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1119) صحيح مسلم (743)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/التھجد 24 (1161)، 25 (1162)، 26 (1168)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (743)، سنن الترمذی/الصلاة 197 (418)، (تحفة الأشراف: 17711)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/35)، وانظر ما یأتي برقم (1335) (صحیح) » (فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے یا بات کرنے والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد بات کرتے یا لیٹ جاتے، جیساکہ صحیحین کی روایتوں میں ہے)
حدیث نمبر: 1263
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَمَّنْ حَدَّثَه ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَو ، غَيْرُهُ ، عَن أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1263
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1262)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/المسافرین 17 (743)، وفیہ ’’زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب‘‘ بلا شک (تحفة الأشراف: 17707، 17732) (صحیح لغیرہ) » ( حدیث نمبر 1336 سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے)
حدیث نمبر: 1264
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ ، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ " فَكَانَ لَا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلَّا نَادَاهُ بِالصَّلَاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ " . قَالَ زِيَادٌ: قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کے لیے نکلا ، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے ۔ زیاد کی روایت میں «حدثنا أبو الفضل» کے بجائے «حدثنا أبو الفضيل» ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب التطوع / حدیث: 1264
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو الفضل الأنصاري مجهول (تقريب التهذيب: 8307), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 53
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11703) (ضعیف) » (اس کے راوی ابو الفضل انصاری مجہول ہیں)