کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اچھی گفتگو کرے اور کھانا کھلائے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 504
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنِ ابْنِ هَانِئٍ أَنَّ هَانِئًا لَمَّا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ قَوْمِهِ فَسَمِعَهُمْ يُكَنُّونَ هَانِئًا أَبَا الْحَكَمِ ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَكَمُ وَإِلَيْهِ الْحُكْمُ ، فَلِمَ تُكَنَّى أَبَا الْحَكَمِ " ؟ قَالَ : قَوْمِي إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ رَضُوا بِي حَكَمًا فَأَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ، فقَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ لَحَسَنٌ ، فَمَا لَكَ مِنَ الْوَلَدِ " ؟ قَالَ شُرَيْحٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ، وَمُسْلِمٌ ، قَالَ : " فَأَيُّهُمْ أَكْبَرُ " ؟ قَالَ : شُرَيْحٌ ، قَالَ : " فَأَنْتَ أَبُو شُرَيْحٍ " فَدَعَا لَهُ وَلِوَلَدِهِ ، فَلَمَّا أَرَادَ الْقَوْمُ الرُّجُوعَ إِلَى بِلادِهِمْ ، أَعْطَى كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أَرْضًا حَيْثُ أَحَبَّ فِي بِلادِهِ ، قَالَ أَبُو شُرَيْحٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ يُوجِبُ لِيَ الْجَنَّةَ ، قَالَ : " طِيبُ الْكَلامِ ، وَبَذْلُ السَّلامِ ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ " .
ابن ہانی بیان کرتے ہیں: جب سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ہمراہ وفد کی شکل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قوم کے افراد کو سنا کہ وہ سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ کو ابوالحکم کی کنیت کے ساتھ ہلا رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور ارشاد فرمایا: بیشکاللہ تعالیٰ ہی ” حکم “ ہے اور ” حکم “ اسی کی طرف لوٹتا ہے، تو پھر تمہاری کنیت ” ابوالحکم “ کیوں ہے؟ سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جب میری قوم کے افراد کسی چیز کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں، تو وہ میرے حکم (ثالث) ہونے سے راضی ہوتے ہیں، تو میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ، تو اچھی بات ہے اور یہ جو بچے ہیں شریح، عبداللہ اور مسلم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ان میں کون بڑا ہے؟ انہوں نے عرض کی: شریح، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ابوشریح ہو، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور ان کے بچوں کو بلایا جب ان کی قوم کے افراد اپنے علاقے میں واپس جانے لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہر ایک شخص کو وہ زمین عطا کی جو اسے اپنے علاقے میں پسند ہو، تو سیدنا ابوشریح نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جو میرے لئے جنت کو واجب کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاکیزہ کلام کرنا سلام کو عام کرنا اور کھانا کھلانا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 504
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1939)، «الإرواء» (2615). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده جيد، يزيد بن المقدام صدوق، روى له أبو داود والنسائي وابن ماجة، وباقي رجاله رجال الصحيح غير صحابيه فمن رجال أبي داود والنسائي.
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 504»