کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: والدین کے حقوق کا بیان - اس بات پر ڈانٹ کہ کوئی شخص اپنے باپ سے بے رغبتی نہ کرے کیونکہ یہ کفر کی ایک قسم ہے۔
حدیث نمبر: 413
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : انْقَلَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِنًى ، فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فقَالَ : إِنَّ فُلانًا يَقُولُ : لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ بَايَعْتُ فُلانًا ، قَالَ عُمَرُ : إِنِّي قَائِمٌ الْعَشِيَّةَ فِي النَّاسِ ، وَأُحَذِّرُهُمْ هَؤُلاءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ أَمْرَهُمْ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : فَقُلْتُ لا تَفْعَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ ، وَغَوْغَاءَهُمْ ، وَإِنَّ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَغْلِبُونَ عَلَى مَجْلِسِكَ إِذَا أَقَمْتَ فِي النَّاسِ ، فَيَطِيرُوا بِمَقَالَتِكَ ، وَلا يَضَعُوهَا مَوَاضِعَهَا أَمْهِلْ حَتَّى تَقْدُمَ الْمَدِينَةَ ، فَإِنَّهَا دَارُ الْهِجْرَةِ ، فَتَخْلُصَ بِعُلَمَاءِ النَّاسِ وَأَشْرَافِهِمْ ، وَتَقُولُ مَا قُلْتَ مُتَمَكِّنًا ، وَيَعُونَ مَقَالَتَكَ ، وَيَضَعُونَهَا مَوَاضِعَهَا ، فقَالَ عُمَرُ : لَئِنْ قَدِمْتَ الْمَدِينَةَ سَالِمًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لأَتَكَلَّمَنَّ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي عَقِبِ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ عَجَّلْتُ الرَّوَاحَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ ، فَوَجَدْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَدْ سَبَقَنِي ، فَجَلَسَ إِلَى رُكْنِ الْمِنْبَرِ الأَيْمَنِ ، وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ تَمَسُّ رُكْبَتِي رُكْبَتَهُ ، فَلَمْ أَنْ طَلَعَ عُمَرُ ، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ : أَمَا إِنَّهُ سَيَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ مَقَالَةً لَمْ يَقُلْهَا مُنْذُ اسْتُخْلِفَ ، قَالَ : وَمَا عَسَى أَنْ يَقُولَ ؟ فَجَلَسَ عُمَرُ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنِّي قَائِلٌ لَكُمْ مَقَالَةً قُدِّرَ لِي أَنْ أَقُولَهَا ، لا أَدْرِي لَعَلَّهَا بَيْنَ يَدَيْ أَجْلِي ، فَمَنْ عَقَلَهَا وَوَعَاهَا ، فَلْيُحَدِّثْ بِهَا حَيْثُ انْتَهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ ، وَمَنْ لَمْ يَعْقِلْهَا ، فَلا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَكْذِبَ عَلَيَّ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ ، فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ ، فَقَرَأَ بِهَا ، وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ ، وَأَخَافُ إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ : مَا نَجْدُ آيَةَ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ ، وَالرَّجْمُ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ ، إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ ، أَوْ كَانَ حَمْلٌ ، أَوِ اعْتِرَافٌ ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَوْلا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ : زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، لَكَتَبْتُهَا أَلا وَإِنَّا كُنَّا نَقْرَأُ " لا تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ ، فَإِنَّ كُفْرًا بِكُمْ أَنْ تَرْغَبُوا عَنْ آبَائِكُمْ " ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " أَلا وَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ فُلانًا ، قَالَ : لَوْ قَدْ مَاتَ عُمَرُ ، بَايَعْتُ فُلانًا ، فَمَنْ بَايَعَ امْرَأً مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنَّهُ لا بَيْعَةَ لَهُ ، وَلا لِلَّذِي بَايَعَهُ ، فَلا يَغْتَرَّنَّ أَحَدٌ فَيَقُولُ : إِنَّ بَيْعَةَ أَبِي بَكْرٍ كَانَتْ فَلْتَةً ، أَلا وَإِنَّهَا كَانَتْ فَلْتَةً ، إِلا أَنَّ اللَّهَ وَقَى شَرَّهَا وَلَيْسَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَنْ تُقْطَعُ إِلَيْهِ الأَعْنَاقُ مِثْلَ أَبِي بَكْرٍ أَلا وَإِنَّهُ كَانَ مِنْ خَيْرِنَا يَوْمَ تَوَفَّى اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ اجْتَمَعُوا إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، وَتَخَلَّفَ عَنَّا الأَنْصَارُ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، فَقُلْتُ لأَبِي بَكْرٍ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الأَنْصَارِ نَنْظُرُ مَا صَنَعُوا ، فَخَرَجْنَا نَؤُمُّهُمْ ، فَلَقِيَنَا رَجُلانِ صَالِحَانِ مِنْهُمْ ، فَقَالا : أَيْنَ تَذْهَبُونَ يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ؟ فَقُلْتُ : نُرِيدُ إِخْوَانَنَا مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ : فَلا عَلَيْكُمْ أَنْ لا تَأْتُوهُمْ ، اقْضُوا أَمَرَكُمْ ، يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لا نَرْجِعُ حَتَّى نَأْتِيَهُمْ ، فَجِئْنَاهُمْ ، فَإِذَا هُمْ مُجْتَمِعُونَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، وَإِذَا رَجُلٌ مُزَّمِّلٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، فَقُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ، قُلْتُ : مَا لَهُ ؟ قَالُوا : وَجِعٌ ، فَلَمَّا جَلَسْنَا قَامَ خَطِيبُهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَنَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ وَكَتِيبَةُ الإِسْلامِ ، وَقَدْ دَفَّتْ إِلَيْنَا يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مِنْكُمْ دَافَّةٌ ، وَإِذَا هُمْ قَدْ أَرَادُوا أَنْ يَخْتَصُّوا بِالأَمْرِ ، وَيُخْرِجُونَا مِنْ أَصْلِنَا ، قَالَ عُمَرُ : فَلَمَّا سَكَتَ ، أَرَدْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ ، وَقَدْ كُنْتُ زَوَّرْتُ مَقَالَةً قَدْ أَعْجَبَتْنِي أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ ، وَكُنْتُ أُدَارِي مِنْهُ بَعْضَ الْحَدِّ ، وَكَانَ أَحْلَمَ مِنِّي وَأَوْقَرَ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، وَقَالَ : اجْلِسْ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُغْضِبَهُ ، فَتَكَلَّمَ ، فَوَاللَّهِ مَا تَرَكَ مِمَّا زَوَّرْتُهُ فِي مَقَالَتِي إِلا ، قَالَ مِثْلَهُ فِي بَدِيهَتِهِ أَوْ أَفْضَلَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَمَا ذَكَرْتُمْ مِنْ خَيْرٍ ، فَأَنْتُمْ أَهْلُهُ ، وَلَنْ يَعْرِفَ الْعَرَبُ هَذَا الأَمْرَ إِلا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ دَارًا وَنَسَبَا ، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ ، فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ ، وَأَخَذَ بِيَدِي وَيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَنَا ، فَلَمْ أَكْرَهُ شَيْئًا مِنْ مَقَالَتِهِ غَيْرَهَا ، كَانَ وَاللَّهِ لأَنْ أُقَدَّمَ فَتُضْرَبَ عُنُقِي فِي أَمْرٍ لا يُقَرِّبُنِي ذَلِكَ إِلَى إِثْمٍ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُؤَمَّرَ عَلَى قَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ ، فقَالَ فَتَى الأَنْصَارِ : أَنَا جُذَيْلُهَا الْمُحَكَّكُ ، وَعُذَيْقُهَا الْمُرَجَّبُ ، مِنَّا أَمِيرٌ وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، فَكَثُرَ اللَّغَطُ ، وَخَشِيتُ الاخْتِلافَ ، فَقُلْتُ : ابْسُطْ يَدَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ، فَبَسَطَهَا ، فَبَايَعْتُهُ ، وَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ ، وَنَزَوْنَا عَلَى سَعْدٍ ، فقَالَ قَائِلٌ : قَتَلْتُمْ سَعْدًا فَقُلْتُ : قَتَلَ اللَّهُ سَعْدًا فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا هُوَ أَفْضَلَ مِنْ مُبَايَعَةِ أَبِي بَكْرٍ ، خَشِيتُ إِنْ فَارَقْنَا الْقَوْمَ أَنْ يُحْدِثُوا بَعْدَنَا بَيْعَةً ، فَإِمَّا أَنْ نُبَايِعَهُمْ عَلَى مَا لا نَرْضَى ، وَإِمَّا أَنْ نُخَالِفَهُمْ ، فَيَكُونُ فَسَادًا وَاخْتِلافًا ، فَبَايَعْنَا أَبَا بَكْرٍ جَمِيعًا ، وَرَضِينَا بِهِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ قَوْلُ عُمَرَ : " قَتَلَ اللَّهُ سَعْدًا " يُرِيدُ بِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جو آخری حج کیا تھا اس کے دوران سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ اپنی منی میں موجود رہائش گاہ سے واپس آئے اور بولے: فلاں شخص یہ کہہ رہا ہے اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو میں فلاں کی بیعت کر لوں گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آج شام میں لوگوں کے درمیان کھڑا ہوں گا (یعنی ان سے خطاب کروں گا) اور انہیں ان لوگوں سے بچاؤں گا، جو ان کے معاملے کو غصب کرنا چاہتے ہیں۔ سیدنا عبدالرحمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ ایسا نہ کیجئے۔ امیر المؤمنین صبح کے موقع پر ہر طرح کے لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ جب آپ لوگوں کے درمیان (خطاب کرنے کے لئے) کھڑے ہوں گے، تو یہ لوگ آپ کی محفل میں غالب آ جائیں گے اور آپ کی گفتگو کو آگے اپنے رنگ میں پیش کریں گے اور اسے درست طور پر بیان نہیں کریں گے۔ آپ ابھی ٹھہر جائیں۔ جب آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئیں، تو وہ ہجرت کی جگہ ہے وہاں صرف لوگوں میں سے اہل علم اور معززین ہوں گے۔ وہاں آپ جو بھی کہیں پورے اطمینان سے کہیں گے۔ وہ لوگ آپ کی بات کو سمجھیں گے اور اسے صحیح جگہ استعمال کریں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں مدینہ منورہ پہنچ گیا، تو اللہ نے چاہا، تو میں اپنی سب سے پہلی گفتگو (یا خطاب) میں اسی بارے میں بات کروں گا۔ پھر ذوالحجہ کے آخر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آ گئے جب جمعہ کا دن آیا، تو شدید گرمی کے دن کے باوجود میں جلدی مسجد چلا گیا، تو میں نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ مجھ سے بھی پہلے وہاں پہنچ چکے تھے۔ وہ منبر کے دائیں کنارے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ میرا گھٹنا ان کے گھٹنے کے ساتھ مس ہو رہا تھا تھوڑی ہی دیر بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، تو میں نے سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: کہ آج سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایسی بات چیت اس منبر پر کرنی ہے، جو انہوں نے خلیفہ بننے کے بعد کبھی نہیں کی، تو سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کیا بات کریں گے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے انہوں نےاللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق ان کی حمد و ثناء بیان کی پھر انہوں نے یہ فرمایا: ” میں آپ لوگوں کے ساتھ ایسی بات کرنا چاہتا ہوں جسے کرنے کا مجھے موقع دیا گیا ہے مجھے نہیں معلوم ہو سکتا ہے میری موت کا وقت میرے قریب آ چکا ہو اور جو شخص اس بات کو سمجھ لے اور اسے محفوظ رکھ لے وہ اس بات کو یہاں تک پہنچا دے جہاں تک اس کی سواری جا سکتی ہے، جو شخص اس کو نہیں سمجھ پاتا، تو کسی مسلمان کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے۔ بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوص کیا۔ اس نے آپ پر کتاب نازل کی۔ اس نے جو چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی اس میں سنگسار کرنے کے حکم والی آیت بھی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تلاوت بھی کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنگسار کروایا۔ بھی آپ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کروایا۔ مجھے یہ اندیشہ ہے، جب طویل زمانہ گزر جائے گا، تو کوئی شخص یہ کہے گا ہمیں اللہ کی کتاب میں سنگسار کرنے سے حکم سے متعلق آیت نہیں ملتی، تو وہ لوگ ایک ایسے فریضے کو ترک کرنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے، جس کواللہ تعالیٰ نے نازل کیا تھا حالانکہ ہر ایسے شخص کو سنگسار کرنا لازم ہے، جو مرد ہو یا عورت ہو اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہو جبکہ ثبوت کے ذریعے یہ بات ہو جائے یا (عورت) حاملہ ہو جائے یا (مرد یا عورت) اعتراف کر لیں، اگر اللہ کی قسم! اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ یہ کہیں گے کہ عمر نےاللہ تعالیٰ کی کتاب میں اضافہ کر دیا ہے، تو میں اس چیز کو نوٹ کروا دیتا۔ خبردار! ہم پہلے یہ آیت تلاوت کیا کرتے تھے۔ ” تم لوگ اپنے آباؤ اجداد سے منہ نہ موڑو کیونکہ اپنے آباؤ اجداد سے تمہارا منہ موڑنا تمہارا کفر ہے ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ” تم مجھے اس طرح نہ بڑھا دینا، جس طرح عیسائیوں نے عیسی بن مریم کو بڑھا دیا تھا۔ بیشک میں بندہ ہوں، تو تم لوگ یہ کہنا: اللہ کے بندے اور اس کے رسول ۔“ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خبردار! مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ فلاں شخص یہ کہتا ہے کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو میں فلاں کا بیعت کر لوں گا، جو بھی شخص مسلمانوں کے مشورے کے بغیر کسی بھی امیر کی بیعت کرے گا، تو اس کی کوئی بیعت نہیں ہو گی اور نہ ہی اس شخص کی ہو گی، جس کی اس نے بیعت کی ہے۔ کوئی بھی شخص اس غلط فہمی کا شکار ہو کر یہ نہ کہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت اچانک ہو گئی تھی۔ خبردار وہ اچانک ہوئی تھی، لیکناللہ تعالیٰ نے اس کی خرابی سے بچا کے رکھا اور آج تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص نہیں ہے، جس کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح کی حیثیت حاصل ہو، خبردار! جس دن اللہ کے رسول کا انتقال ہوا تھا۔ اس وقت وہ ہم میں سب سے زیادہ بہتر تھے۔ بیشک مہاجرین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (کی بیعت کرنے کے لئے) اکٹھے ہوئے تھے، لیکن انصار ہم سے الگ سقیفہ بنو ساعدہ میں اکٹھے ہوئے میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمارے ساتھ انصار بھائیوں کے ساتھ چلیں تاکہ ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو ہم لوگ روانہ ہوئے۔ ہمارا ارادہ ان کی طرف جانے کا تھا ہماری ملاقات ان میں سے دو نیک آدمیوں سے ہوئی، تو ان دونوں نے دریافت کیا: اے مہاجرین کے گروہ آپ لوگ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: ہم اپنے انصار بھائیوں کے پاس جا رہے ہیں، تو ان صاحب نے کہا: آپ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اگر آپ ان کے پاس نہ جائیں آپ اپنا معاملہ خود نمٹا لیں اے مہاجرین کے گروہ، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک ہم ان لوگوں کے پاس چلے نہیں جاتے پھر ہم ان کے پاس آئے، تو وہ لوگ بنو ساعدہ میں اکٹھے ہو چکے تھے وہاں ان کے درمیان ایک شخص چادر اوڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دریافت کیا: کون ہے؟ یہ تو لوگوں نے بتایا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ہیں میں نے دریافت کیا: انہیں کیا ہوا ہے۔ لوگوں نے بتایا انہیں تکلیف ہے، جب ہم بیٹھ گئے، تو ان کا خطیب کھڑا ہوا۔ اس نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر اس نے یہ کہا: امابعد! ہماللہ تعالیٰ کے مددگار اور اسلام کا لشکر ہیں۔ اے مسلمانوں کے گروہ! اب ہمیں پیچھے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ لوگ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں سرے سے ہی نکال دینا چاہتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب وہ خاموش ہوا، تو میں نے کلام کرنے کا ارادہ کیا۔ میں نے اپنے ذہن میں مضمون سوچ لیا تھا جو مجھے بہت پسند آیا کہ اگر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے اس بیان کو کروں گا، تو یہ بہت عمدہ ہو گا اور میں اس کی وجہ سے ان لوگوں کی ناراضگی کو کسی حد تک کم کر دوں گا، لیکن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے زیادہ بردبار اور زیادہ پروقار تھے۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: تم بیٹھے رہو۔ مجھے انہیں ناراض کرنا پسند نہیں آیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلام کرنا شروع کیا۔ اللہ کی قسم! جو بھی گفتگو میں نے سوچی ہوئی تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فی البدیہہ اس کی مانند بلکہ اس سے بھی بہتر گفتگو کی اور کوئی پہلو نہیں چھوڑا۔ انہوں نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد یہ بات ارشاد فرمائی: اما بعد! تم نے جس بھلائی کا ذکر کیا ہے تم لوگ اس کے اہل ہو، لیکن اہل عرب حکومت کے معاملے میں صرف قریش قبیلے سے واقف ہیں، کیونکہ اپنی رہائش اور نسب کے اعتبار سے یہ عربوں میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ میں تم لوگوں کے لئے ان دو میں سے کسی ایک شخص سے راضی ہوں تم ان دونوں میں سے جسے چاہو اس کی بیعت کر لو پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا وہ ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صرف یہ بات اچھی نہیں لگی۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے آگے کر کے میری گردن اڑا دی جاتی جو بغیر کسی جرم کے ہوتی، تو یہ بات میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ تھی کہ مجھے کسی ایسی قوم کا امیر مقرر کیا جائے، جس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی موجود ہوں۔ انصار کے ایک نوجوان نے کہا: میں ایک ایسی شاخ ہوں جس کے ساتھ خارش کی جاتی ہے (یعنی امور میں میری رائے اور مشورے پر عمل کیا جاتا ہے) اور ایک ایسی کھجور ہوں جسے بچایا جاتا ہے (یعنی میرے قبیلے کے لوگ میرے پس پشت نہ ہیں) ایک امیر ہم میں سے ہو، اے قریش کے گروہ! اور ایک امیر آپ لوگوں میں سے ہو، اس پر آوازیں بلند ہوئیں، لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا، تو میں نے کہا: اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ میں نے ان کی بیعت کر لی پھر مہاجرین اور انصار نے بھی ان کی بیعت کر لی۔ ہم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بالکل نظر انداز کر دیا، تو کسی شخص نے کہا: تم لوگوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا ہے، تو میں نے کہا:اللہ تعالیٰ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے، تو ہمیں اس وقت کوئی ایسی چیز نہیں ملی جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے سے افضل ہو۔ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ اگر ہم ان لوگوں سے جدا ہو گئے، تو وہ کہیں ہمارے بعد نئے سرے سے بیعت نہ کر لیں، تو یا، تو ہمیں اس چیز پر بیعت کرنی پڑے گی، جس سے ہم راضی نہیں ہیں، یا پھر مخالفت کرنی پڑے گی، تو فساد اور اختلاف ہو گا اس لئے ہم سب نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور اس سے راضی ہو گئے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا ہے:اللہ تعالیٰ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: اللہ کی راہ میں ایسا ہوا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 413
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2338) طرف منه: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين.
حدیث تخریج «رقم طبعة با وزير 414»