کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ عام لوگوں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کو مستحب قرار دیا گیا ہے، حکمرانوں کو نہیں جب انسان اپنی جان کے خطرے سے محفوظ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 301
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَثَلُ الْمُدَاهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ ، وَالآمِرِ بِهَا ، وَالنَّاهِيَ عَنْهَا ، كَمَثَلِ قَوْمٍ ، اسْتَهُمْوا ، سَفِينَةً مِنْ سُفُنِ الْبَحْرِ ، فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي مُؤَخَّرِ السَّفِينَةِ ، وَأَبَعْدَهُمْ مِنَ الْمِرْفَقِ ، وَبَعْضُهُمْ فِي أَعْلَى السَّفِينَةِ ، فَكَانُوا أَرَادَوا الْمَاءَ وَهُمْ فِي آخِرِ السَّفِينَةِ ، آذَوْا رِحَالَهُمْ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : نَحْنُ أَقْرَبُ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبَعْدَ مِنَ الْمَاءِ ، نَخْرِقَ دَفَّةَ السَّفِينَةِ وَنَسْتَقِي ، فَاسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ سَدَّدَنَاهُ ، فَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنْهُمْ : افْعَلُوا ، قَالَ : فَأَخَذَ الْفَأْسَ فَضَرَبَ عَرَضَ السَّفِينَةِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ رُشَيْدٌ : مَا تَصْنَعُ ؟ قَالَ : نَحْنُ أَقْرَبُ مِنَ الْمِرْفَقِ وَأَبَعْدَ مِنَ الْمَاءِ ، نَكْسِرُ دَفَ السَّفِينَةِ ، فَنَسْتَقِي ، فَاسْتَغْنَيْنَا عَنْهُ سَدَّدَنَاهُ ، فَقَالَ : لا تَفْعَلْ ، فَإِنَّكَ تَهْلِكُ وَنَهْلِكُ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے اور اس پر (عمل کرنے کا) حکم دینے والا اور اس کی (خلاف ورزی) سے روکنے والے شخص کی مثال ایسے لوگوں کی مانند ہے، جو سمندر میں کسی کشتی کے بارے میں قرعہ اندازی کرتے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگوں کو کشتی کا پیچھے والا حصہ ملتا ہے۔ وہ لوگ سہولت سے دور ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بالائی حصے میں چلے جاتے ہیں جب وہ لوگ پانی لینے کا ارادہ کرتے ہیں، تو وہ کشتی کے آخری حصے میں ہوتے ہیں، تو وہ سوار لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں، تو ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہے ہم سہولت سے زیادہ قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں ہم کشتی کے ایک حصے کو توڑ دیتے ہیں اور پانی حاصل کر لیتے ہیں، جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی، تو ہم اسے بند کر دیں گے، تو ان میں سے بے وقوف لوگ یہ کہتے ہیں: تم لوگ ایسا کر لو۔ تو ان میں سے ایک شخص کلہاڑی پکڑتا ہے، اور کشتی کے فرش پر مارتا ہے، تو ان میں سے ایک سمجھدار شخص کہتا ہے: کیا کرنے لگے ہو؟ وہ کہتا ہے: ہم سہولت سے قریب ہیں اور پانی سے زیادہ دور ہیں، ہم کشتی کا فرش توڑنے لگے ہیں، تاکہ پانی حاصل کر لیں۔ جب ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی، تو ہم اسے بند کر دیں گے، تو وہ شخص کہتا ہے: تم ایسا نہ کرو، کیونکہ اس صورت میں تم بھی ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے اور ہم بھی ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب البر والإحسان / حدیث: 301
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (69): خ نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، وهو مكرر (298).