فہرستِ ابواب

ذكر ركوب المصطفى صلى الله عليه وسلم البراق وإتيانه عليه بيت المقدس من مكة في بعض الليل-

باب: - اس واقعہ کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ نے براق پر سوار ہو کر مکہ سے بیت المقدس کا سفر ایک رات کے کچھ حصے میں طے فرمایا۔

حدیث 45–45

ذكر استصعاب البراق عند إرادة ركوب النبي صلى الله عليه وسلم إياه-

باب: - اس واقعہ کا ذکر کہ جب نبی کریم ﷺ براق پر سوار ہونا چاہتے تھے تو وہ ابتدا میں بھڑک گیا (یعنی سوار ہونے میں مشکل پیش آئی)۔

حدیث 46–46

ذكر البيان بأن جبريل شد البراق بالصخرة عند إرادة الإسراء-

باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ جبریل علیہ السلام نے براق کو معراج کے وقت پتھر سے باندھا۔

حدیث 47–47

ذكر وصف الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم من بيت المقدس-

باب: - اس کیفیت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ کو بیت المقدس سے (آسمانوں کی طرف) سیر کرائی گئی۔

حدیث 48–48

ذكر خبر أوهم عالما من الناس أنه مضاد لخبر مالك بن صعصعة الذي ذكرناه-

باب: - اس خبر کا ذکر جس سے بعض اہلِ علم کو وہم ہوا کہ یہ روایت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مخالف ہے جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔

حدیث 49–49

ذكر الموضع الذي فيه رأى المصطفى صلى الله عليه وسلم موسى صلى الله عليه وسلم يصلي في قبره-

باب: - اس جگہ کا ذکر جہاں نبی کریم ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی قبر میں نماز پڑھتے دیکھا۔

حدیث 50–50

ذكر وصف المصطفى صلى الله عليه وسلم موسى وعيسى وإبراهيم صلوات الله عليهم حيث رآهم ليلة أسري به-

باب: - اس کیفیت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم السلام کو جس حالت میں دیکھا۔

حدیث 51–51

ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم فقيل هديت الفطرة أراد به أن جبريل قال له ذلك-

باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ کے فرمان «فقيل هديت الفطرة» سے مراد یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے یہ کہا تھا۔

حدیث 52–52

ذكر وصف الخطباء الذين يتكلون على القول دون العمل حيث رآهم صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به-

باب: - ان خطباء کا بیان جنہیں نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات دیکھا جو صرف قول پر اعتماد کرتے تھے اور عمل نہیں کرتے تھے۔

حدیث 53–53

ذكر وصف المصطفى صلى الله عليه وسلم قصر عمر بن الخطاب رضي الله عنه في الجنة حيث رآه ليلة أسري به-

باب: - نبی کریم ﷺ کے اس مشاہدے کا ذکر کہ آپ ﷺ نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا محل جنت میں دیکھا۔

حدیث 54–54

ذكر البيان بأن الله جل وعلا أرى بيت المقدس صفيه صلى الله عليه وسلم لينظر إليها ويصفها لقريش لما كذبته بالإسراء-

باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ اللہ جل و علا نے نبی کریم ﷺ کو بیت المقدس دکھایا تاکہ آپ ﷺ اسے دیکھیں اور قریش کو اس کی تفصیل بیان کریں جب انہوں نے معراج کو جھٹلایا۔

حدیث 55–55

ذكر البيان بأن الإسراء كان ذلك برؤية عين لا رؤية نوم-

باب: - اس وضاحت کا ذکر کہ معراج کا واقعہ خواب میں نہیں بلکہ بیداری میں آنکھوں سے دیکھا گیا۔

حدیث 56–56

ذكر الإخبار عن رؤية المصطفى صلى الله عليه وسلم ربه جل وعلا-

باب: - اس خبر کا ذکر کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے رب جل و علا کا دیدار فرمایا۔

حدیث 57–57

ذكر الخبر الدال على صحة ما ذكرناه-

باب: - اس خبر کا ذکر جو ہمارے بیان کردہ موقف کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔

حدیث 58–58

ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه مضاد للخبر الذي ذكرناه-

باب: - اس خبر کا ذکر جس سے ان لوگوں کو وہم ہوا جو علم کے فن میں پختہ نہیں کہ یہ ہمارے ذکر کردہ بیان کے مخالف ہے۔

حدیث 59–59

ذكر تعداد عائشة قول ابن عباس الذي ذكرناه من أعظم الفرية-

باب: - حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا اس قول کو (جو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) سب سے بڑی تہمت قرار دینے کا ذکر۔

حدیث 60–60

اس باب کی تمام احادیث