کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو دو دو رکعتیں پڑھائے۔
حدیث نمبر: 1248
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَوْفٍ الظُّهْرَ ، فَصَفَّ بَعْضُهُمْ خَلْفَهُ ، وَبَعْضُهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْطَلَقَ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَهُ فَوَقَفُوا مَوْقِفَ أَصْحَابِهِمْ ، ثُمَّ جَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا وَلِأَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ " . وَبِذَلِكَ كَانَ يُفْتِي الْحَسَنُ. قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ يَكُونُ لِلْإِمَامِ سِتُّ رَكَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ ثَلَاثٌ ثَلَاثٌ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَذَلِكَ قَالَ سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ : عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف کی حالت میں ظہر ادا کی تو بعض لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور بعض دشمن کے سامنے رہے ، آپ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا ، تو جو لوگ آپ کے ساتھ نماز میں تھے ، وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کر کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ یہاں آ گئے پھر آپ کے پیچھے انہوں نے نماز پڑھی تو آپ نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا ، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں اور صحابہ کرام کی دو دو رکعتیں ہوئیں ، اور حسن بصری اسی کا فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح مغرب میں امام کی چھ ، اور دیگر لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوں گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوسلمہ سے ، ابوسلمہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ، اور اسی طرح سلیمان یشکری نے «عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1248
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحسن البصري مدلس وعنعن, وحديث يحيي بن أبي كثير رواه مسلم (2/ 843) وھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52
تخریج حدیث « سنن النسائی/الخوف18 (1552)، (تحفة الأشراف: 11663)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/39، 49) (صحیح) »