کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ایک رکعت پڑھ کر کھڑا رہے۔
حدیث نمبر: 1238
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَوْم ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ ، أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ " فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا ، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا ، وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ، ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ " . قَالَ مَالِكٌ : وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں` جس نے ذات الرقاع کے غزوہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف ادا کی وہ کہتے ہیں : ایک جماعت آپ کے ساتھ صف میں کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والی جماعت کے ساتھ ایک رکعت ادا کی پھر کھڑے رہے اور ان لوگوں نے ( اس دوران میں ) اپنی نماز پوری کر لی ( یعنی دوسری رکعت بھی پڑھ لی ) پھر وہ واپس دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے اور دوسری جماعت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ اپنی رکعت ادا کی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت پوری کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا ۔ مالک کہتے ہیں : یزید بن رومان کی حدیث میری مسموعات میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1238
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4129) صحيح مسلم (842)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4645) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1239
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ : أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ ، وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ، فَيَرْكَعُ الْإِمَامُ رَكْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ ، ثُمَّ يَقُومُ ، فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ، ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالْإِمَامُ قَائِمٌ ، فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ ، ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ ، ثُمَّ يُسَلِّمُونَ . قَالَ أَبُو دَاوُد وَأَمَّا : رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، نَحْوَ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، إِلَّا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي السَّلَامِ ، وَرِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : وَيَثْبُتُ قَائِمًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صالح بن خوات انصاری کہتے ہیں کہ` سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ نماز خوف اس طرح ہو گی کہ امام ( نماز کے لیے ) کھڑا ہو گا اور اس کے ساتھیوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہو گی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہو گی ، امام اور جو اس کے ساتھ ہوں گے رکوع اور سجدہ کریں گے پھر امام کھڑا ہو گا ، جب پورے طور سے سیدھا کھڑا ہو جائے گا تو یونہی کھڑا رہے گا یہاں تک کہ لوگ اپنی باقی ( دوسری ) رکعت بھی ادا کر لیں گے ، پھر وہ لوگ سلام پھیر کر واپس چلے جائیں گے اور امام کھڑا رہے گا ، اب یہ دشمن کے سامنے ہوں گے اور جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی ہے ، وہ آئیں گے اور امام کے پیچھے تکبیر ( تکبیر تحریمہ ) کہیں گے پھر وہ ان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کر کے اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا پھر سلام پھیر دے گا ، اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کریں گے پھر سلام پھیریں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : رہی قاسم سے مروی یحییٰ بن سعید کی روایت تو وہ یزید بن رومان کی روایت ہی کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے سلام میں اختلاف کیا ہے اور عبیداللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح ہے اس میں ہے کہ ” ( امام ) کھڑا رہے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1239
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح خ دون ذكر التسليم في الموضعين وهو موقوف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4129) صحيح مسلم (842)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : (1237)، (تحفة الأشراف: 4645) (صحیح) » (یہ حدیث موقوف ہے اور اس سے پہلے والی مرفوع ہے، پہلی میں جو صورت مذکور ہے وہی زیادہ صحیح ہے، یعنی دوسری جماعت کا امام کے ساتھ سلام پھیرنا)