کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ ایک صف امام کے ساتھ کھڑی ہو اور دوسری صف دشمن کے سامنے ہو۔
حدیث نمبر: 1237
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي خَوْفٍ فَجَعَلَهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً ، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ حالت خوف میں نماز ادا کی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں پھر جو آپ سے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر کھڑے ہو گئے اور برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے جو پہلی صف کے پیچھے تھے ، ایک رکعت ادا کی ، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے ، آپ کے پیچھے آ گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی پھر آپ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے ایک رکعت اور پڑھی پھر آپ نے سلام پھیرا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4131) صحيح مسلم (841)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/المغازي 32 (4131)، صحیح مسلم/المسافرین 57 (841و842)، سنن الترمذی/الصلاة 281 (الجمعة 46) (566)، سنن النسائی/صلاة الخوف (1537)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 151 (1259)، (تحفة الأشراف: 4645)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 1 (2)، مسند احمد (3/448)، سنن الدارمی/الصلاة 185(1563) (صحیح) »