کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مسافر پوری نماز کب پڑھے؟
حدیث نمبر: 1229
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وَهَذَا لَفْظُهُ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِي عَشْرَةَ لَيْلَةً لَا يُصَلِّي إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ، وَيَقُولُ : " يَا أَهْلَ الْبَلَدِ ، صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا ، آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے : ” اے مکہ والو ! تم چار پڑھو ، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس قسم کی ضعیف حدیثوں سے قصر کی مدت کی تحدید درست نہیں کیونکہ ان میں اس طرح کا چنداں اشارہ بھی نہیں ملتا کہ اللہ کے رسول اگر مزید ٹھہرنے کا ارادہ کرتے تو نماز پوری پڑھتے اس بات کے لئے واضح ثبوت غزوہ تبوک کا وہ سفر ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن تک قیام کیا اور برابر قصر کرتے رہے، اور غزوہ حنین میں چالیس روز تک قصر فرماتے رہے، نیز غازی کی مثال ایسے مسافر کی ہے جس کو اپنے سفر یا قیام کے بارے میں کوئی واضح بات نہ معلوم ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (545), علي بن زيد بن جدعان ضعيف مشهور, ولأصل الحديث شواهد كثيرة جدًا, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 52
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (545)، (تحفة الأشراف: 10862)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/430، 431، 432، 440) (ضعیف) » (اس کے راوی ”علی بن زید بن جدعان“ ضعیف ہیں )
حدیث نمبر: 1230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ " . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَمَنْ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَصَرَ ، وَمَنْ أَقَامَ أَكْثَرَ أَتَمَّ . قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ . .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سترہ دن مکہ میں مقیم رہے ، اور نماز قصر کرتے رہے ، تو جو شخص سترہ دن قیام کرے وہ قصر کرے ، اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ اتمام کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عباد بن منصور نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے ، اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم انیس دن تک مقیم رہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح خ بلفظ تسع عشرة وهو الأرجح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1080)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 1 (1080)، المغازي 52 (4298)، سنن الترمذی/الصلاة 275 (الجمعة 40) (549)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 76 (1075)، (تحفة الأشراف: 6134)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/223) (شاذ) » ( اس کے راوی حفص بن غیاث گرچہ ثقات میں سے ہیں، مگر اخیر عمر میں ذرا مختلط ہو گئے تھے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ عاصم الأحول کے تمام تلامذہ کے برخلاف سترہ دن کی روایت کر بیٹھے ہیں )
حدیث نمبر: 1231
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : "أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلَاةَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز قصر کرتے رہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث عبدہ بن سلیمان ، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے ، اس میں ان لوگوں نے ” ابن عباس رضی اللہ عنہما “ کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1231
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف منكر , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وله شاھد عند النسائي (1454 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 76 (1067)، (تحفة الأشراف: 5849) (ضعیف منکر) » (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے اور اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
حدیث نمبر: 1232
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقَامَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں سترہ دن تک مقیم رہے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف منكر , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وله شاھد انظر الحديث السابق (1230)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3021، 315) (ضعیف منکر) » (کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، اور اس کے راوی شریک حافظہ کے کمزور ہیں)
حدیث نمبر: 1233
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ :خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ " فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ " ، فَقُلْنَا : هَلْ أَقَمْتُمْ بِهَا شَيْئًا ؟ قَالَ : أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے ، آپ ( اس سفر میں ) دو رکعتیں پڑھتے رہے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے تو ہم لوگوں نے پوچھا : کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے ؟ انہوں نے جواب دیا : مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ حدیث حجۃ الوداع کے سفر کے بارے میں ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث فتح مکہ کے بارے میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1233
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1081) صحيح مسلم (693)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 1 (1081)، والمغازي 52 (4297)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (693)، سنن الترمذی/الصلاة 275 (الجمعة40) (548)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 1 (1437)، 4 (1451)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 76 (1077) ، مسند احمد (3/187، 190، 282)، سنن الدارمی/الصلاة 180 (1551)، (تحفة الأشراف: 1652) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1234
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : ابْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " كَانَ إِذَا سَافَرَ سَارَ بَعْدَ مَا تَغْرُبُ الشَّمْسُ حَتَّى تَكَادَ أَنْ تُظْلِمَ ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ يَدْعُوا بِعَشَائِهِ فَيَتَعَشَّى ، ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ ، ثُمَّ يَرْتَحِلُ ، وَيَقُولُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ " . قَالَ عُثْمَانُ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، سَمِعْت أَبَا دَاوُد ، يَقُولُ : وَرَوَى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ أَنَسًا " كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ ، وَيَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ " ، وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ` علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا ، پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے ۔ پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے ۔ پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ عثمان کی روایت میں «أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» کے بجائے «عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» ہے ۔ ( ابوعلی لولؤی کہتے ہیں ) میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ ( بن انس بن مالک ) سے روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہو جاتی تو دونوں ( مغرب اور عشاء ) کو جمع کرتے اور کہتے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة السفر / حدیث: 1234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، سنن النسائی/المواقیت 44 (592)، (تحفة الأشراف: 10250) (صحیح لغیرہ) » ( اس کے راوی عبداللہ بن محمد بن عمر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ، جن میں سے ایک انس کی اگلی حدیث بھی ہے) « وحدیث أنس أخرجہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 14 (1111، 1112) (مقتصرا علی الظہر والعصر فقط)، صحیح مسلم/المسافرین 5 (704)، سنن النسائی/المواقیت 42 (595)، (مقتصرا علی الشق الأول مثل البخاری)، (تحفة الأشراف: 1515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/247، 265) (صحیح) »