حدیث نمبر: 13185
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ”أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ أَشْعَثَ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلانہ دوں کہ جہنم والے کو ن ہیں اور جنت والے کون ہیں؟ ہر وہ آدمی جو دنیوی طور پر کمزور ہو، جسے لوگ کمزور سمجھتے ہوں، پراگندہ اور غبار آلودہ ہو اور دو بوسیدہ سی چادریں پہن رکھی ہوں،یہ لوگ جنتی ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقام ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھادے تو وہ ان کی قسم کو ضرور پورا کر دیتا ہے اور سخت مزاج، بد اخلاق، متکبر، مال و دولت جمع کرنے والا و بخیل اور موٹا تازہ آدمی (جو از راہِ تکبر) لوگوں سے آگے آگے چلنا پسند کرتا ہو، وہ جہنمی ہے۔
حدیث نمبر: 13186
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَهْلُ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ وَأَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ آدمی جو بد مزاج ،متکبر ، مال و دولت جمع کرنے والا اور بخیل ہو، وہ جہنمی ہے۔اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب سمجھے جاتے ہوں، وہ جنتی ہیں۔
حدیث نمبر: 13187
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ هُمُ الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جنتی ہیں؟ جو دنیوی لحاظ سے کمزور اور مظلوم ہوں ۔ اورکیامیں تمہیں یہ بھی بتلا نہ دوں کہ جہنمی لوگ کون ہیں؟ ہر وہ آدمی جو سخت مزاج اور بد مزاج ہو، وہ جہنمی ہے۔
حدیث نمبر: 13188
وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشَمٍ الْمُدْلِجِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ ”يَا سُرَاقَةُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ“ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: سراقہ ! کیا میں تم کو بتلا نہ دوں کہ کون لوگ جتنی ہیں اور کون لوگ جہنمی ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ضرور، اے اللہ کے رسول !آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بد اخلاق ، بد مزاج اور متکبر آدمی جہنمی ہے اور جو لوگ دنیوی لحاظ سے کمزور اور مغلوب ہوں، وہ جنتی ہیں۔
حدیث نمبر: 13189
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الشَّهِيدُ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَفَقِيرٌ عَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ ثَلَاثٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ سُلْطَانٌ مُتَسَلِّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهُ وَفَقِيرٌ فَخُورٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے جانے والے تین قسم کے لوگوں کو میں جانتا ہوں: شہید ، وہ غلام جو اللہ کے حقوق اور اپنے مالکوں کے حقوق صحیح طو رپر ادا کرتا ہو اور وہ پاکدامن فقیر جو دست ِ سوال دراز کرنے سے بچتا ہے، اور میں جہنم میں سب سے پہلے جانے والے تین قسم کے لوگوں کو (بھی) جانتا ہوں: وہ بادشاہ جو زبردستی لوگوں پر حکمرانی کرے، مال دار جو مال کے حقوق کو پورا نہ کرے اور غریب آدمی جو متکبر ہو۔
حدیث نمبر: 13190
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا أَهْلُ النَّارِ الَّذِينَ هُمْ أَهْلُهَا لَا يَمُوتُونَ وَلَا يَحْيَوْنَ وَأَمَّا أُنَاسٌ يُرِيدُ اللَّهُ بِهِمُ الرَّحْمَةَ فَيُمِيتُهُمْ فِي النَّارِ فَيَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الشُّفَعَاءُ فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ أَنْصَارَهُ فَيَبُثُّهُمْ أَوْ قَالَ فَيَنْبُتُونَ عَلَى نَهْرِ الْحَيَاءِ أَوْ قَالَ الْحَيَوَانِ أَوْ قَالَ الْحَيَاةِ أَوْ قَالَ نَهْرِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحَبَّةِ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ“ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَا تَرَوْنَ الشَّجَرَةَ تَكُونُ خَضْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ صَفْرَاءَ أَوْ قَالَ تَكُونُ صَفْرَاءَ ثُمَّ تَكُونُ خَضْرَاءَ“ قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ كَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْبَادِيَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اہل جہنم، جنہوں نے جہنم میں ہی رہنا ہو گا، وہ وہاں نہ مریں گے اور نہ جی سکیں گے، اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر رحم کرنا چاہتا ہو گا، وہ انہیں جہنم میں موت دے دے گا، پھر سفارش کرنے والے ان کے پاس پہنچیں گے اوران کے مدد گار ان کو لے جائیں گے اور ان کو نَہْرُ الْحَیَاءِ یا نَھْرُ الْحَیَوَانِ یا نَھْرُ الْحَیَاۃِ یا نَہْرُ الْجَنَّۃِ میں ڈال دیں گے اور اس میں وہ اس طرح اگیں گے، جیسے جیسے سیلاب کی جھاگ میں دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے دیکھا نہیں درخت سبز ہوتے ہیں پھر زرد ہو جاتے ہیں، یا وہ زرد ہوتے ہیں اور سبز ہو جاتے ہیں۔ یہ سن کر صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا: ایسے لگتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو دیہات میں رہتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ـ(۱) اس فصل میں اہل جنت اور اہل جہنم کی بعض صفات بیان ہوئی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق جو لوگ دنیا میں کمزور ہیں، لوگ جنہیں کم زور، حقیر یا گھٹیا سمجھتے ہیں۔ اور جنہوں نے سر پر بالوں کی لٹیں رکھی ہوئی ہیں۔ جو خیال رکھنے کے باوجود بکھر جاتے ہیں۔ در حقیقت یہ لوگ دین دار ہیں۔ اور جنت میں جائیں گے۔ ان کے بالمقابل جو لوگ تند مزاج، بد اخلاق، مال کے حریص اور بخیل ہیں اور متکبرانہ مزاج ہونے کی وجہ سے لوگوں سے آگے آگے چلنا پسند کرتے ہیں ایسے لوگوں کا انجام جہنم ہے۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جام ِ شہادت نوش کرنے والے، اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے اور اپنے آقاؤں کے حقوق کو صحیح طو رپر بجا لانے والے اور وہ غریب جو دوسروں کے سامنے اپنی احتیاج کے اظہار اور دست سوال دراز کرنے سے اجتناب کرنے والے یہ تینوں قسم کے لوگ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے۔
(۳) او رلوگوں پر زبردستی حاکم بننے والے اور غریب ہونے کے باوجود متکبرانہ مزاج رکھنے والے لوگ سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔
(۴) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل جہنم کی حالت نہیں تو زندوں کی سی ہوگی۔اور نہیں مردوں کی سی۔ ان کی زندگی موت سے اور موت زندگی سے بد تر ہوگی۔
(۵) اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر کرم کرنا چاہے گا انہیں موت سے دو چار کر دے گا پھر سفارش کرنے والے لوگ جا کران کوجہنم سے باہر نکال لائیں گے۔
(۶) نیز فصل کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کے لیے مثالوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔
(۲) نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جام ِ شہادت نوش کرنے والے، اور وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے اور اپنے آقاؤں کے حقوق کو صحیح طو رپر بجا لانے والے اور وہ غریب جو دوسروں کے سامنے اپنی احتیاج کے اظہار اور دست سوال دراز کرنے سے اجتناب کرنے والے یہ تینوں قسم کے لوگ سب سے پہلے جنت میں جائیں گے۔
(۳) او رلوگوں پر زبردستی حاکم بننے والے اور غریب ہونے کے باوجود متکبرانہ مزاج رکھنے والے لوگ سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔
(۴) اس فصل سے یہ بھی معلوم ہواکہ اہل جہنم کی حالت نہیں تو زندوں کی سی ہوگی۔اور نہیں مردوں کی سی۔ ان کی زندگی موت سے اور موت زندگی سے بد تر ہوگی۔
(۵) اور اللہ تعالیٰ جن جہنمیوں پر کرم کرنا چاہے گا انہیں موت سے دو چار کر دے گا پھر سفارش کرنے والے لوگ جا کران کوجہنم سے باہر نکال لائیں گے۔
(۶) نیز فصل کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کو اپنی بات سمجھانے کے لیے مثالوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔