کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
حدیث نمبر: 13151
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ ثُمَّ يَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ ثُمَّ يَنْظُرُ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ“ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَقِيَ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ براہ راست گفتگو کرے گا اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان بھی نہیں ہوگا، اُس دن انسان اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے صرف اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال ہی دکھائی دیں گے، پھر وہ اپنی بائیں جانب دیکھے گا، اُدھر بھی اسے صرف اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال ہی نظر آئیں گے، پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ اس کا سامنا کر رہی ہوگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے جوکوئی اپنے آپ کو جہنم سے بچانے کا سامان کر سکتا ہے، تو وہ کرے، خواہ وہ کھجور کے ایک حصے کو صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔
حدیث نمبر: 13152
وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ ذُكِرَ بِتَمَامِهِ فِي تَرْجَمَةِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ مِنْ كِتَابِ الْفَضَائِلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَحَدَكُمْ لَاقِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالًا وَوَلَدًا فَمَاذَا قَدَّمْتَ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَمَا يَتَّقِي النَّارَ إِلَّا بِوَجْهِهِ فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوهُ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، جو کتاب الفضائل میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے حالات کے ضمن میں گزر چکی ہے، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہونے والی ہے، اللہ تعالیٰ کہے گا: کیا میں نے تمہیں سننے والا اور دیکھنے والا نہیں بنایا تھا؟ کیا میں نے تمہیں مال و اولاد سے نہیں نوازا تھا؟ سو تو نے کون سا عمل آگے بھیجا ہے؟ وہ اپنے آگے پیچھے اور دائیں بائیں میں دیکھے گا، لیکن کوئی اچھا عمل اسے دکھائی نہیں دے گا، پھر جب اسے جہنم میں بھیجا جائے گا تو وہ اپنے چہرے سے جہنم سے بچنے کی کوشش کرے گا، لہذا تم جہنم سے بچنے کا سامان کرتے رہو، خواہ وہ کھجور کے ایک حصہ کو صدقہ کرنے کی صورت میں ہو اور اگر تم اتنی چیز کے بھی مالک نہ ہو تو اچھی بات کر لیا کرو۔
حدیث نمبر: 13153
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ عَبْدًا خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى أَنْ يَمُوتَ هَرَمًا فِي طَاعَةِ اللَّهِ لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَوَدَّ أَنَّهُ يُرَدُّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا محمد بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ صحابی ٔ رسول تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اگر کوئی آدمی اپنے یوم پیدائش سے لے کر بوڑھا ہو کر مرنے تک ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں چہرے کے بل پڑا رہے، تب بھی وہ قیامت کے دن اس اطاعت کو کم تر سمجھتے ہوئے تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تاکہ وہ مزید نیکیاں کر کے زیادہ اجر و ثواب حاصل کر سکے۔
حدیث نمبر: 13154
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَوْ أَنَّ رَجُلًا يُجَرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی آدمی اپنے یوم پیدائش سے بوڑھا ہو کر مرنے تک ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی رضامندی میں چہرے کے بل گھسیٹا جاتا رہے تو وہ اس عمل کو بھی قیامت کے دن معمولی اور کم تر سمجھے گا۔
حدیث نمبر: 13155
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَنْتَ مُفْتَدٍ بِهِ قَالَ فَيَقُولُ نَعَمْ قَالَ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہا جائے گا: کیا تیرایہ خیال ہے کہ اگر تیرے پاس زمین پر پائے جانے والے سارے خزانے ہوتے تو کیا تو جہنم سے آزاد ہونے کے لیے وہ اس فدیے میں دے دیتا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے بھی آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، جب تو آدم علیہ السلام کی پشت میں تھا تو میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، مگر تو تو میرے ساتھ شرک کرنے پر ہی مصر رہا۔
حدیث نمبر: 13156
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَعْضِ صَلَاتِهِ ”اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا“ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ قَالَ ”أَنْ يَنْظُرَ فِي كِتَابِهِ فَيَتَجَاوَزَ عَنْهُ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ الرَّجُلُ تُعْرَضُ عَلَيْهِ ذُنُوبُهُ ثُمَّ يُتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا إِنَّ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ يَا عَائِشَةُ هَلَكَ وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ عَنْهُ حَتَّى الشَّوْكَةَ تَشُوكُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک نماز میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَسِیْرًا۔ (اے اللہ! میراحساب آسان لینا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کا نامہ اعمال دیکھے اور درگزر فرمائے (ایک روایت کے مطابق) بندے پر اس کے گناہ پیش کیے جائیں اور پھر ان کو فوراً معاف بھی کر دیا جائے، اے عائشہ! قیامت کے دن جس آدمی سے تفصیلی حساب لیا گیا، وہ تو ہلاک ہو جائے گا، اور (یہ بھی یاد رکھو کہ) مومن کو جوبھی تکلیف یا پریشانی لاحق ہوتی ہے، یہاں تک کہ جب اسے کوئی کانٹا چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 13157
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدٌ فَيُغْفَرَ لَهُ يَرَى الْمُسْلِمُ عَمَلَهُ فِي قَبْرِهِ وَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَيَوْمَئِذٍ لَا يُسْأَلُ عَنْ ذَنْبِهِ إِنْسٌ وَلَا جَانٌّ} {فَيُعْرَفُ الْمُجْرِمُونَ بِسِيمَاهُمْ}“ [سورة الرحمن: 39، 41]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے راویت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جس آدمی کا تفصیل سے حساب لیا گیا، اس کی مغفرت نہیں ہوسکے گی، مسلمان اپنی قبر میں اپنے اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَیَوْمَئِذٍ لّاَ یُسْاَلُ عَنْ ذَنْبِہِ اِِنسٌ وَلاَ جَآنٌّ } {اس روز نہ تو کسی انسان سے اس کے گناہوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور نہ کسی جن سے۔) (سورۂ رحمن: ۳۹)نیز فرمایا: {یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیمَاہُمْ} (گنہگاروں کو ان کی علامتوں سے ہی پہچان لیا جائے گا۔ (سورۂ رحمن: ۴۱)
حدیث نمبر: 13158
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ يُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! بے شک نیکیوں اور گناہوں کو مجسم شکل میں پیدا کر کے قیامت کے دن لوگوں کے سامنے لایا جائے گا۔ نیکی، نیکیاں کرنے والوں کو خوش خبریاں دے گی اور ان سے اچھے انجام کا وعدہ کرے گی اور گناہ ، گنہگاروں سے کہے گا: ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ، مگر وہ اس کے ساتھ ہی چمٹے رہیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ۱۔ اس فصل کی احادیث سے معلوم ہوا کہ کلام کرنا اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔
۲۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر بندے کے ساتھ براہِ راست کلام کرے گا۔ اور ان کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔
۳۔ نیز معلوم ہوا کہ انسانوں کے اعمال کو قیامت کے دن ایک شکل اور جسم دیا جائے گا اور وہ اعمال انسان کو دکھائی دیں گے۔
۴۔ نیز معلوم ہوا کہ جہنم سے بچاؤ کے لیے انسان کو تدبیر کرتے رہنا چاہیے۔
۵۔ جہنم سے بچنے کے لیے کسی بھی نیکی کا موقعہ ملے اسے انسان حقیر نہ سمجھے۔ حتیٰ کہ اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں پوری کھجور دینے کی توفیق نہ ہو تو آدھی کھجور ہی دے دے اگر یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجائے تو انسان کی مغفرت اور بلندی درجات کا ذریعہ بنے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
۶۔ نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مال و اولاد کے علاوہ دیکھنے اور سننے وغیرہ کی بھی جو صلاحیتیں اور نعمتیں عطا کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کا ذکر کر کے بندوں سے پوچھے گا کہ کیا میں نے تمہیں فلاں فلاں نعمتوں سے نہیں نواز ا تھا۔ ان کے نتیجے میں تم نے کیا کچھ کیا؟
۷۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں نیکیوں کا ثواب بے حد و بے حساب ہے۔ انسان اگر اپنی پیدائش کے دن سے بوڑھا ہو کر مرنے تک ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزار دے۔ لیکن جب قیامت کے دن اعمال کا بدلہ اور ثواب دیکھے گا۔ تو اپنی زندگی بھر کی نیکیوں کو وہ معمولی سمجھے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش مجھے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو میں مزید نیکیاں کر کے اللہ تعالیٰ سے مزید اجر و ثواب حاصل کر سکوں۔
۸۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جہنم کا عذاب بہت سخت ہے۔ اور مال و دولت چونکہ انسان کے پاس نہیں ہوگا۔ اس لیے وہاں سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ جہنمی لوگ تمنا کریں گے کہ کاش اگر ہمارے پاس دنیا بھر کی دولت ہو تو ہم وہ ادا کر کے جہنم سے رہائی کے لیے فدیہ دے دیں مگر ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تو تم سے اس سے بھی آسان مطالبہ کیا تھا کہ تم میرے ساتھ شرک نہیں کرو۔
۹۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشرک کا انجام جہنم ہے۔
۱۰۔ نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے آسان حساب کی دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمارا آسان حساب لے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے اعمال دیکھنے کے باوجود درگزر کر دے۔
۱۱۔ اور اگر کسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایسی پرسش کر لی کہ تم نے فلاں فلاں کام کیوں کیے اور فلاں کام نہیں کیے؟ تو ایسا آدمی ہلاک ہوجائے گا۔ اس کی نجات کی کوئی امید نہیں۔ (نسأل اللہ تعالیٰ العافیۃ، آمین)
۱۲۔ نیز معلوم ہوا کہ مسلمان کو اگر کوئی دکھ، درد، تکلیف یا پریشانی لاحق ہوحتیٰ کہ اسے کانٹا بھی چبھے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
۱۳۔ قیامت کے دن کسی جن یا انسان سے اعمال کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ ہر آدمی اپنے چہرے سے پہچانا جائے گا کہ یہ کیسے اعمال کر کے آیا اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے؟
۲۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر بندے کے ساتھ براہِ راست کلام کرے گا۔ اور ان کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔
۳۔ نیز معلوم ہوا کہ انسانوں کے اعمال کو قیامت کے دن ایک شکل اور جسم دیا جائے گا اور وہ اعمال انسان کو دکھائی دیں گے۔
۴۔ نیز معلوم ہوا کہ جہنم سے بچاؤ کے لیے انسان کو تدبیر کرتے رہنا چاہیے۔
۵۔ جہنم سے بچنے کے لیے کسی بھی نیکی کا موقعہ ملے اسے انسان حقیر نہ سمجھے۔ حتیٰ کہ اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں پوری کھجور دینے کی توفیق نہ ہو تو آدھی کھجور ہی دے دے اگر یہ نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجائے تو انسان کی مغفرت اور بلندی درجات کا ذریعہ بنے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ!
۶۔ نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مال و اولاد کے علاوہ دیکھنے اور سننے وغیرہ کی بھی جو صلاحیتیں اور نعمتیں عطا کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کا ذکر کر کے بندوں سے پوچھے گا کہ کیا میں نے تمہیں فلاں فلاں نعمتوں سے نہیں نواز ا تھا۔ ان کے نتیجے میں تم نے کیا کچھ کیا؟
۷۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں نیکیوں کا ثواب بے حد و بے حساب ہے۔ انسان اگر اپنی پیدائش کے دن سے بوڑھا ہو کر مرنے تک ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گزار دے۔ لیکن جب قیامت کے دن اعمال کا بدلہ اور ثواب دیکھے گا۔ تو اپنی زندگی بھر کی نیکیوں کو وہ معمولی سمجھے گا اور تمنا کرے گا کہ کاش مجھے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو میں مزید نیکیاں کر کے اللہ تعالیٰ سے مزید اجر و ثواب حاصل کر سکوں۔
۸۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جہنم کا عذاب بہت سخت ہے۔ اور مال و دولت چونکہ انسان کے پاس نہیں ہوگا۔ اس لیے وہاں سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ جہنمی لوگ تمنا کریں گے کہ کاش اگر ہمارے پاس دنیا بھر کی دولت ہو تو ہم وہ ادا کر کے جہنم سے رہائی کے لیے فدیہ دے دیں مگر ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تو تم سے اس سے بھی آسان مطالبہ کیا تھا کہ تم میرے ساتھ شرک نہیں کرو۔
۹۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشرک کا انجام جہنم ہے۔
۱۰۔ نیز معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے آسان حساب کی دعا بھی کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمارا آسان حساب لے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمارے اعمال دیکھنے کے باوجود درگزر کر دے۔
۱۱۔ اور اگر کسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایسی پرسش کر لی کہ تم نے فلاں فلاں کام کیوں کیے اور فلاں کام نہیں کیے؟ تو ایسا آدمی ہلاک ہوجائے گا۔ اس کی نجات کی کوئی امید نہیں۔ (نسأل اللہ تعالیٰ العافیۃ، آمین)
۱۲۔ نیز معلوم ہوا کہ مسلمان کو اگر کوئی دکھ، درد، تکلیف یا پریشانی لاحق ہوحتیٰ کہ اسے کانٹا بھی چبھے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
۱۳۔ قیامت کے دن کسی جن یا انسان سے اعمال کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ ہر آدمی اپنے چہرے سے پہچانا جائے گا کہ یہ کیسے اعمال کر کے آیا اور اس کا انجام کیا ہونے والا ہے؟