حدیث نمبر: 13123
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْكَوْثَرُ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ وَالْمَاءُ يَجْرِي عَلَى اللُّؤْلُؤِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جنت میں ایک نہر کا نام کوثر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اس کا پانی موتیوں پر بہتا ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے۔
حدیث نمبر: 13124
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي إِلَى مَا يَجْرِي فِيهِ الْمَاءُ فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ قُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا، میں نے وہاں ایک ایسی نہر دیکھی، اس کے کنارے خیموں والے موتیوں کے تھے، میں نے اس میں بہتے ہوئے پانی میں ہاتھ ڈالا تو اس میں سے انتہائی تیز مہکنے والی کستوری تھی، میں نے کہا: جبرائیل ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ کوثر ہے، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کی ہے۔
حدیث نمبر: 13125
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”الْكَوْثَرُ نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں ایک نہر کا نام کوثر ہے اور میرے ربّ نے مجھ سے اس کا وعدہ کیا ہے۔
حدیث نمبر: 13126
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْكَوْثَرِ فَقَالَ ”نَهْرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَفِيهِ طَيْرٌ كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ“ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ تِلْكَ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ ”أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا يَا عُمَرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوثر کے متعلق پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک نہر ہے، جو میرے ربّ نے مجھے عطا کی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے او راس میں اونٹ کی گردن جیسے بڑے بڑے پرندے ہوں گے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرندے تو بڑے عمدہ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمر! ان کو کھانے والے ان سے بھی بہتر اور افضل ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذَاتَ یَوْمٍ بَیْنَ أَظْہُرِنَا إِذْ أَغْفَی إِغْفَائٰ ۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا: مَا أَضْحَکَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ!؟ قَالَ: ((أُنْزِلَتْ عَلَیَّ آنِفًا سُورَۃٌ فَقَرَأَ {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔ إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْأَبْتَرُ۔}۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَتَدْرُونَ مَا الْکَوْثَرُ؟)) فَقُلْنَا: اللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ قَالَ: ((فَإِنَّہُ نَہْرٌ وَعَدَنِیہِ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ عَلَیْہِ خَیْرٌ کَثِیرٌ ہُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَیْہِ أُمَّتِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ آنِیَتُہُ عَدَدُ النُّجُومِ۔)) … ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اندر موجود تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہلکی سی نیند طاری ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تلاوت کی: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔ إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْأَبْتَرُ۔} پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک نہر ہے، اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اس کا وعدہ کیا ہے، اس میں بڑی خیر ہے، یہ حوض ہے، میری امت قیامت والے اس پر وارد ہو گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد کے برابر ہیں۔ (صحیح مسلم: ۶۰۷)سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ آیت {اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَر}پڑھی اور کہا: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((اُعْطِیْتُ الْکَوْثَرَ، فَاِذَا ھُوَنَھْرٌ یَجْرِیْ (کَذَا عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ) وَلَمْ یَشُقَّ شَقًّا، فَاِذَا حَافَتَاہُ قِبَابُ اللُّؤْلُوئِ، فَضَرَبْتُ بِیَدِيْ اِلٰی تُرْبَتِہٖ، فَاِذَا ھُوْ مِسْکَۃٌ ذَفِرَۃٌ، وَاِذَاحَصَاہُ اللُّؤْلُؤُ۔)) … اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے کوثر عطا کی گئی ہے، وہ ایک نہر ہے جو بغیر شق کے سطحِ زمین پر چلتی ہے، اس کے کناروں پر موتیوں کے قبے ہیں، میں نے اپنا ہاتھ اس کی مٹی پر مارا تو کیا دیکھا کہ وہ تو انتہائی تیز مہکنے والی کستوری ہے اور اس کی کنکریاں بھی موتی ہیں۔ (احمد: ۳/۱۵۲، صحیحہ:۲۵۱۳)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے (حادی الأرواح: ۱/ ۲۸۶) میں کہا کہ ابن ابی الدنیا اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ جنت کی نہریں زمین میں لمبے کھڈوں کی طرح ہوں گی، حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے۔ جنت کی نہریں تو سطحِ زمین پر چلنے والی ہیں، ایک کنارہ موتی کا ہو گا اور دوسرا یاقوت کا اور ان کی مٹی اذفر کستوری ہو گی۔ معاویہ بن قرہ نے پوچھا: اذفر کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس کستوری کو کہتے ہیں جو خالص ہو اور اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو۔ (یعقوب بن عبید صدوق ہے، باقی سند صحیح ہے، ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں اس روایت کو مرفوعا پیش کیا ہے، لیکن ان کی سند میں مہدی بن حکیم ہے، جس کے حالات نہیں مل سکے۔ موقوف روایت صحیح ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع والا ہی ہے، کیونکہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔
مسروق نے {مَائٍ مَّکْسُوْب}کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جو کھڈوں کے بغیر چلتا ہو گا۔
میں (البانی) کہتا ہوں: ابن مردویہ نے (الدر المنثور: ۶/ ۴۰۲) میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے {اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَر}کی تفسیر نقل کی ہے، انھوں نے کہا کہ جنت میں ایک نہر کو کوثر کہتے ہیں، اس کی زمین میں گہرائی ستر ہزار فرسخ ہے۔
منذری نے اس قول کو ابن ابی الدنیا کی طرف منسوب کیا اور اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا، میں تو کہتا ہوں کہ یہ قول منکر ہے، کیونکہ اس سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی مخالفت ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۵۱۳)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ امام ابن قیم رحمتہ اللہ علیہ نے (حادی الأرواح: ۱/ ۲۸۶) میں کہا کہ ابن ابی الدنیا اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ جنت کی نہریں زمین میں لمبے کھڈوں کی طرح ہوں گی، حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے۔ جنت کی نہریں تو سطحِ زمین پر چلنے والی ہیں، ایک کنارہ موتی کا ہو گا اور دوسرا یاقوت کا اور ان کی مٹی اذفر کستوری ہو گی۔ معاویہ بن قرہ نے پوچھا: اذفر کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس کستوری کو کہتے ہیں جو خالص ہو اور اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو۔ (یعقوب بن عبید صدوق ہے، باقی سند صحیح ہے، ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں اس روایت کو مرفوعا پیش کیا ہے، لیکن ان کی سند میں مہدی بن حکیم ہے، جس کے حالات نہیں مل سکے۔ موقوف روایت صحیح ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع والا ہی ہے، کیونکہ ایسی بات رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔
مسروق نے {مَائٍ مَّکْسُوْب}کی تفسیر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد وہ پانی ہے جو کھڈوں کے بغیر چلتا ہو گا۔
میں (البانی) کہتا ہوں: ابن مردویہ نے (الدر المنثور: ۶/ ۴۰۲) میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے {اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَر}کی تفسیر نقل کی ہے، انھوں نے کہا کہ جنت میں ایک نہر کو کوثر کہتے ہیں، اس کی زمین میں گہرائی ستر ہزار فرسخ ہے۔
منذری نے اس قول کو ابن ابی الدنیا کی طرف منسوب کیا اور اس کے ضعف کی طرف اشارہ کیا، میں تو کہتا ہوں کہ یہ قول منکر ہے، کیونکہ اس سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی مخالفت ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۵۱۳)
حدیث نمبر: 13127
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا إِنَّ أُمَّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ قَالَ وَذَكَرَ الضَّيْفَ غَيْرَ أَنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ ”أُمُّكُمَا فِي النَّارِ“ فَأَدْبَرَا وَالشَّرُّ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُدَّا فَرَجَعَا وَالسَّرُورُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا رَجَيَا أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ شَيْءٌ فَقَالَ ”أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا“ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ وَمَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ شَيْئًا وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَيْهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ وَعَدَكَ رَبُّكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا قَالَ فَظَنَّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ قَدْ سَمِعَهُ فَقَالَ ”مَا سَأَلْتُهُ رَبِّي وَمَا أَطْمَعَنِي فِيهِ وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ قَالَ ”ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ عُرَاةً حُفَاةً غُرْلًا فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَقُولُ اكْسُوا خَلِيلِي فَيُؤْتَى بِرَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ فَيُلْبِسُهُمَا ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَسْتَقْبِلُ الْعَرْشَ ثُمَّ أُوتِيَ بِكِسْوَتِي فَأَلْبِسُهَا فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي يَغْبِطُنِي بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ قَالَ وَيُفْتَحُ نَهْرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى الْحَوْضِ“ فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ فَإِنَّهُ مَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ قَالَ ”حَالُهُ الْمِسْكُ وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ“ قَالَ الْمُنَافِقُ لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَلَّمَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبْتٌ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَهُ نَبْتٌ قَالَ ”نَعَمْ قُضْبَانُ الذَّهَبِ“ قَالَ الْمُنَافِقُ لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ فَإِنَّهُ قَلَّمَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَوْرَقَ وَإِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ قَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ مِنْ ثَمَرٍ قَالَ ”نَعَمْ أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ إِنَّ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ وَإِنْ حُرِمَهُ لَمْ يُرْوَ بَعْدَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ملیکہ کے دو بیٹے، نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہماری والدہ اپنے شوہرکی بڑی عزت کرتی تھی،اپنی اولاد پر بھی بڑی شفیق تھی اور مہمانوں کی ضیافت بھی خوب کرتی تھی، البتہ اس سے ایک خطا سرزد ہوئی تھی کہ اس نے دورِ جاہلیت میں اپنی اولاد کو زندہ درگور کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں جہنم میں ہے۔ یہ سن کر وہ واپس چلے گئے اور ان کے چہروں پر مایوسی اور غم نمایاں تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو واپس بلوایا، جب وہ واپس ہوئے تو ان کے چہروں پر خوشی کے آثار تھے، انہیں امید تھی کہ کوئی نئی بات واقع ہو چکی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میری ماں بھی تمہاری ماں کے ساتھ ہی ہے۔ ایک منافق بولا:ہم اس رسول کے پیچھے چلتے ہیں اور یہ اپنی والدہ کو بھی جہنم سے نہیں بچا سکا،ایک انصاری، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت زیادہ سوالات کرتا تھا، اس نے کہا: کیا آپ کے ربّ نے آپ سے آپ کی اور ان کی والدہ کے بارے میں کچھ کہا ہے؟ اس نے سمجھا کہ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اللہ تعالیٰ سے سنی ہوئی باتوں میں سے کوئی بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس بارے میں اپنے ربّ سے تو کوئی بات دریافت نہیں کی اور نہ مجھے اس کی ضرورت ہے، میں قیامت کے دن ـمقام ِ محمود پر کھڑا ہوں گا۔ وہ انصاری بولا: مقامِ محمود سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن جب تم لوگوں کو برہنہ جسم، ننگے پاؤں اور غیر مختون حالت میں لایا جائے گا، تو سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس مہیا کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میرے خلیل کو لباس پہناؤ ، پھر دو سفید چادریں لا کر ان کو دی جائیں گی اور وہ ان کو زیب تن کر لیں گے، وہ اس کے بعد عرش کی طرف رخ کر کے بیٹھ جائیں گے، پھر میرے پاس میرا لباس لایا جائے گا، میں بھی اسے زیب تن کر کے عرش کی داہنی جانب اس جگہ پر کھڑا ہو جاؤں گا، جہاں میرے سوا کوئی کھڑا نہیں ہو سکے گا، اگلے پچھلے سب لوگ اس اعزاز پر مجھ سے رشک کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہر کوثر سے حوض کی طرف ایک نہر چلائی جائے گی۔ یہ سن کر منافقوں نے کہا: نہروں کا پانی تومٹی اور کنکریوں پر بہتا ہے۔ اس انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوثر کا پانی مٹی اور کنکروں پر بہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی مٹی کستوری اور اس کے کنکر موتی ہوں گے۔ منافق بولا: ہم نے تو آج تک یہی سنا ہے کہ نہروں کا پانی جس مٹی اور کنکر پر بہتا ہے،اس سے فصل اگتی ہے۔ اس انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس پانی سے کچھ اُگے گا بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں، سونے کی کونپلیں نکلیں گی۔ منافق بولا: ہم نے تو ایسی بات کبھی نہیں سنی، کم ہی کوئی کونپل اُگتی ہے مگر اس پر پتے بھی آتے ہیں یا پھر ان پر پھل بھی لگتے ہیں، انصاری نے کہا: اللہ کے رسو ل! کیا اس اُگنے والی چیز کا پھل بھی ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہاں، اس پر جواہرات کے رنگ ہوں گے، ا س کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا، جس نے ایک دفعہ وہ پانی پی لیا، اس کے بعد اسے کبھی پیاس محسوس نہیں ہوگی اور جو کوئی اس سے محروم رہا وہ بعد میں کبھی سیراب نہیں ہو سکے گا۔