کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کا حریص ہونا
حدیث نمبر: 13091
عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَعْبٌ، فَجَعَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ كَعْبًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَعْبٌ يُحَدِّثُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنِ الْكُتُبِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدناکعب رضی اللہ عنہ اکٹھے ہوئے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا کعب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرنے لگے اور وہ اِن کو سابقہ کتب کی باتیں سنانے لگے، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے لیے ایک دعا قبول شدہ ہوتی ہے اور میں نے اس دعا کو چھپا رکھا ہے، تاکہ قیامت کے دن اپنی امت کے لیے سفارش کر سکوں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کمال صبر، دور رسی اور حکمت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو یہ اختیار دیا کہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ایک دعا قبول کروا لینے کا حق حاصل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ حق بروز قیامت استعمال کریں گے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا مصداق بنا دے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13091
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7474، ومسلم: 198، 336، 337، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7700»
حدیث نمبر: 13092
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”قَدْ أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ عَطِيَّةً، فَكُلٌّ قَدْ تَعَجَّلَهَا، وَإِنِّي أَخَّرْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر نبی کو ایک قبول شدہ دعا دی گئی ہے، ہر نبی نے اس کے معاملے میں جلدی کی (اور دنیا میں ہی اس کو وصول کر لیا ہے)، البتہ میں نے اپنی امت کے حق میں سفارش کرنے کے لیے اس کو مؤخر کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13092
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 454، وابويعلي: 1014، والبزار: 3458 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11165»
حدیث نمبر: 13093
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: خَطَبَ بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا لَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي قَدِ اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نضرہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے منبر پر ہم سے خطاب کیا اورکہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو ایک ایک قبول شدہ دعا کرنے کا اختیار دیا گیا، اور ہر ایک نے دنیا ہی میں وہ دعا کرلی، البتہ میں نے اپنی دعا کو امت کے حق میں سفارش کر نے کے لیے چھپا رکھا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13093
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھو حديث طويل، أخرجه الطيالسي: 2711، وابن ابي شيبة: 14/ 135، وابويعلي: 2328، وأخرجه بنحوه الترمذي: 3148 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2546»
حدیث نمبر: 13094
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا رَدَّ إِلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! مَا يَهُمُّنِي مِنْ انْقِصَافِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ شفاعت کے بارے میں آپ کی درخواست پر آپ کے رب نے آپ کو کیا جواب دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی جان ہے! میرا خیال تھا کہ میری امت میں سے تم ہی اس کے بارے میں مجھ سے سب سے پہلے سوال کرو گے، کیونکہ میں نے تم کو علم پر حریص پایا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے! میرے نزدیک جنت کے دروازوں پر لوگوں کے ہجوم کی بہ نسبت اپنی شفاعت کی تکمیل زیادہ اہم ہے اور میری یہ سفارش ہر اس آدمی کے حق میں ہو گی، جو اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کی شہادت اس طرح دیتا ہے کہ اس کا دل، اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہے اور اس کی زبان اس کے دل کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13094
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الحاكم: 1/ 69، وابن خزيمة: 2/ 698 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8056»
حدیث نمبر: 13095
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَى، أَتَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ؟ لَا، وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّاءِ“، قَالَ زِيَادٌ: أَمَا إِنَّهَا لَحْنٌ، وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اِن دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا، یا تو میں سفارش کرلوں یا پھر میری نصف امت جنت میں چلی جائے، میں نے سفارش کو اختیار کیا، کیونکہ اس میں زیادہ وسعت اور عموم ہے اور یہ زیادہ لوگوں کو کفایت کرنے والی ہے۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میری یہ سفارش متقی لوگوں کے لیے ہے؟ نہیں نہیں، یہ تو گناہوں میں ملوّث ہو جانے والوں کے لیے ہے، جو خطا کار ہوتے ہیں۔ زیاد نے کہا: اس متن میں الْخَطَّاؤُوْنَ پڑھنا خطا ہے، بہرحال ہمیں بیان کرنے والوں نے ایسے ہی بیان کیا۔
وضاحت:
فوائد: … متن کے الفاظ الْخَطَّاؤُوْنَ‘مبتدا محذوف ھُمْ کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہو سکتے ہیں، اس لیے زیاد راوی کی بات درست نہیں ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ اگر الْخَطَّاؤُوْنَ کو اَلْمُتَلَوِّثِیْنَ کی صفت یا بدل بنایا جائے تو نحوی قواعد کی روشنی میں اسے الْخَطَّائِیْنَ پڑھا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13095
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام راويه عن ابن عمر، ولجھالة علي بن النعمان بن قراد ، ولاضطرابه، أخرجه ابن ماجه: 4311 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5452»
حدیث نمبر: 13096
عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”رَأَيْتُ مَا تَلْقَى أُمَّتِي بَعْدِي وَسَفْكَ بَعْضِهِمْ دِمَاءَ بَعْضٍ، وَسَبَقَ ذَلِكَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى كَمَا سَبَقَ لِأُمَمٍ قَبْلَهُمْ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يُوَلِّيَنِي شَفَاعَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيهِمْ فَفَعَلَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ میری امت میرے بعد کیسے کیسے گناہوں میں پڑ جائے گی، یہ ایک دوسرے کا خون بھی بہا دیں گے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ اسی طرح ہو چکا ہے، جیسے سابقہ امتوں کے حق میں ہوا تھا، اس لیے میں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ وہ مجھے قیامت کے دن ان کے حق میں شفاعت کی اجازت دے، سو اس نے میری دعا قبول فرمالی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13096
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 409، والحاكم: 1/ 68 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27410 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27955»
حدیث نمبر: 13097
عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَإِذَا رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ: يَا مُعَاوِيَةُ! فَأْذَنْ لِي فِي الْكَلَامِ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ سَيَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَشْفَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدَدَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ وَمَدَرَةٍ“، قَالَ: أَفَتَرْجُوهَا أَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ؟ وَلَا يَرْجُوهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور وہاں ایک آدمی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ناروا گفتگو) کر رہا تھا، سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: معاویہ! مجھے بات کرنے کی اجازت دو۔ سیدنامعاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جی کرو بات، جبکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ بھی اسی آدمی کی طرح بات کریں گے، لیکن سیدہ بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھے امید ہے کہ میں قیامت کے دن روئے زمین پر موجود درختوں اور اینٹوں کے برابر لوگوں کے حق میں شفاعت کروں گا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ ! اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ تم اس سفارش کے امیدوار ہوسکتے ہیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہیں ہوسکتے؟
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میدانِ حشر میں سب سے پہلے سفارش کریں گے اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سفارش ہی قبول ہو گی، اگلے ابواب کا موضوع سفارش ہے، ہم ذیل میں اس مسئلہ کی حقیقت واضح کر دیتے ہیں: کسی کہنے والے نے کیا خوب کہا: مَا لِلْعِبَادِ عَلَیْہِ حَقٌّ وَّاجِبٗ کَلَّا، وَلَا سَعْیَ لَدَیْہِ ضَـائِعٗ
اِنْ عُذِّبُوْا فَبِعَدْلِہٖ، اَوْ نُعِّمُوْا فَبِفَضْلِہٖ وَھُوَ الْکَرِیْمُ السَّامِعٗ
اللہ تعالیٰ پر بندوں کا کوئی حق واجب نہیں ہے۔ ہر گز نہیں، لیکن اس کے ہاں محنت اور کوشش کو ضائع بھی نہیں کیا جاتا۔ اگر لوگوں کو عذاب دیا جائے گا تو وہ اس کے انصاف کا تقاضا ہو گا، یا اگر لوگوں پر انعام کیا جائے گا تو وہ اس کا فضل ہو گا، پس وہ کریم ہے اور سب کچھ سننے والا ہے۔
ہمارے ہاں سفارش کا مفہوم واضح ہے، سفارش کرنے والے کو جن تعظیمی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، اتنی قدر و منزلت تو اس بیچارے کو بھی نصیب نہیں ہوتی، جو سفارش قبول کر کے ہماری ضروریات پوری کرتا ہے، دنیا و آخرت میں یہی قدر مشترک ہے کہ سفارش سے سفارش کرنے والے کے مقام و مرتبہ میں اضافہ ہوتا ہے۔
لیکن یہ واضح اور بنیاد ی فرق ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ دنیا میں زیادہ تر سفارش کرنے والے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اپنی بات منواتے ہیں اور جن کے پاس شفاعت کی جاتی ہے، وہ ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے، اللہ تعالیٰ خود سفارش کرنے والے کو منتخب کریں گے اور پھر اس کے لیے حد مقرر کریں گے، قرآن مجید میں کئی مقامات پر یہ موضوع دوہرایا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ}(سورۂ بقرہ: ۲۵۵) … کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے سفارش کر سکے۔
دوسرے مقام پر ارشاد ہوا: {لَا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًاo} (سورۂ نبا: ۷۸: ۳۸) … وہ کوئی کلام نہیں کریں گے، مگر جس کو رحمن اجازت دے گا اور وہ ٹھیک بات زبان سے نکالے گا۔
یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفارش کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے اس کے حضور طویل سجدہ کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حد مقرر کرے گا۔ (ملاحظہ ہو: مسند احمد، صحیح بخاری، صحیح مسلم)
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق ملائکہ، انبیاء اور دوسرے مومن سفارش کریں گے، لیکن شفاعت ِ عظمی اور دوسری اہم مقامات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منتخب کرناآپ کے عظیم و کریم ہونے کی علامت ہے۔
یہ شافع محشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہیں کہ جو میدانِ حشر میں سب سے پہلے اور ایسے نازک موقع پر سفارش کریں گے کہ تمام دوسرے انبیا و رسل اس موقع سے گھبرائے ہوئے ہوں گے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((… وَاَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْہُ الْقَبْرُ، وَاَوَّلُ شَافِعٍ وَاَوَّلُ مُشَفَّعٍ۔)) … سب سے پہلے میری قبر پھٹے گی اور سب سے پہلے سفارش کرنے والا بھی میں ہوں گا اور سب سے پہلے شفاعت قبول بھی میری ہو گی۔ (صحیح مسلم: ۲۲۷۸)
اس موقع پر آٹھویں صدی کے امام ابن ابی العز الحنفی رحمتہ اللہ علیہ کی بحث کا خلاصہ پیش کرنا ضروری ہے، وہ (شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صـ ۱۹۷ الی ۲۰۴) میں کہتے ہیں: شفاعت کی آٹھ اقسام ہیں، پہلی سات اقسام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص ہیں اور آخری قسم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھرپور حصہ پایا جاتا ہے: الشفاعۃ الاولي: یہ شفاعت ِ عظمی ہے، جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے، بلکہ اس موقع پر بقیہ انبیاء و رسل گھبرائے ہوئے ہوں گے اور نفسی نفسی کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے۔ اس سفارش کے بعد اللہ کی مخلوق کا حساب و کتاب شروع ہو گا۔
الشفاعۃ الثانیۃ والثالثۃ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان لوگوں کے لیے جنت کی سفارش کرنا جن کی حسنات و سیئات برابر برابر ہوں گی اور بعض ایسے لوگوں کو جہنم میں داخل نہ کرنے کی سفارش کرنا، جن کے بارے میں آگ کا حکم دیا چکا ہو گا۔
الشفاعۃ الرابعۃ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بعض جنتی لوگوں کے لیے بلندی ٔ درجات کی سفارش کرنا۔
الشفاعۃ الخامسۃ: بعض لوگوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ وہ حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل کیے جائیں، ممکن ہے کہ اس صورت کا سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ والی حدیث سے استدلال کیا جائے۔
الشفاعۃ السادسۃ: بعض مستقل جہنمیوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ ان کے عذاب میں تخفیف کر دی جائے، جیسا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب کا مسئلہ ہو گا۔
الشفاعۃ السابعۃ: تمام مومنوں کے حق میں یہ سفارش کرنا کہ جنت میں ان کا داخلہ شروع کیا جائے، جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث ہے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَوَّلَ شَفِیْعٍ فِیْ الْجَنَّۃِ۔)) یعنی: جنت میں داخل ہونے کے لیے پہلا سفارشی میں ہوں گا۔
الشفاعۃ الثامنۃ: جہنم میں داخل ہو جانے والے کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے حق میں سفارش کرنا، اس موضوع پر متواتر احادیث موجود ہیں۔ یہ واحد قسم میں جس میں دوسری انبیائ، فرشتے اور مومن بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح سفارش کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار دفعہ یہ سفارش کریں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان الشفاعة للعصاة يوم القيامة / حدیث: 13097
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي اسرائيل، أخرجه الطبراني في الاوسط : 4112، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23331»