کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
حدیث نمبر: 13038
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَخْرُجُ الدَّابَّةُ وَمَعَهَا عَصَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَخَاتَمُ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَتَخْطِمُ الْكَافِرَ وَفِي رِوَايَةٍ وَجْهَ الْكَافِرِ وَفِي أُخْرَى أَنْفَ الْكَافِرِ بِالْخَاتَمِ وَتَجْلُو وَجْهَ الْمُؤْمِنِ بِالْعَصَا حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْخِوَانِ لَيَجْتَمِعُونَ عَلَى خِوَانِهِمْ فَيَقُولُ هَذَا يَا مُؤْمِنُ وَيَقُولُ هَذَا يَا كَافِرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک چوپایہ ظاہر ہوگا، اس کے پاس موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور سلیمان علیہ السلام کی مہر ہوگی، وہ کافر کے چہرے یا ناک پر اس مہر سے نشان لگائے گا، او راس عصا کے ساتھ اہل ایمان کے چہروں کو چمکا دے گا، یہاں تک کہ ایک دسترخوان پر جمع ہو کر لوگ بیٹھے ہوں اور وہ (اس علامت کی وجہ سے شناخت کر کے) کہیں گے: اے مومن، اے کافر! (اس علامت کو دیکھ کر) ایک دوسرے کو کہیں گے کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13038
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الترمذي: 3187، وابن ماجه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7924»
حدیث نمبر: 13039
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَجِينُ بْنُ الْمُثَنَّى ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَسْلَمَةَ الْمَاجِشُونَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ دِلَافٍ الْمُزَنِيِّ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَخْرُجُ الدَّابَّةُ فَتَسِمُ النَّاسَ عَلَى خَرَاطِيمِهِمْ ثُمَّ يَعْمُرُونَ فِيكُمْ حَتَّى يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْبَعِيرَ فَيَقُولُ مِمَّنِ اشْتَرَيْتَهُ فَيَقُولُ مِنْ أَحَدِ الْمُخَطَّمِينَ“ وَقَالَ يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ثُمَّ يَعْمُرُونَ فِيكُمْ وَلَمْ يَشُكَّ قَالَ فَرَفَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک چوپایہ نکلے گا‘ وہ لوگوں کی ناک پر ایک علامت لگائے گا اور وہ تم میں لمبی عمریں پائیں گے‘ حتی کہ ایک آدمی اونٹ خریدے گا، جب کوئی اس سے پوچھے گا کہ تو نے یہ اونٹ کس سے خریدا ہے، تو وہ جواب دے گا: میں نے یہ نشان زدہ لوگوں میں سے ایک آدمی سے خریدا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13039
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 6/ 172 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22664»
حدیث نمبر: 13040
وَعَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَهَبَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَوْضِعٍ بِالْبَادِيَةِ قَرِيبًا مِنْ مَكَّةَ فَإِذَا أَرْضٌ يَابِسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَخْرُجُ الدَّابَّةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ“ فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اپنے ساتھ لیے مکہ کے قریب ایک دیہاتی جگہ تشریف لے گئے، وہاں ایک خشک زمین تھی، اس کے ارد گرد ریت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس مقام سے چوپایہ ظہور پذیر ہوگا۔ وہاں ایک بالشت کے برابر دراڑسی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … دابّۃ (زمین کا چوپایہ)، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اَخْرَجْنَا عَلَیْہِمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ} (سورۂ نمل: ۸۲): جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے، جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13040
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا من اجل خالد بن عبيد ابي عصام العتكي، فھو متروك الحديث، أخرجه ابن ماجه: 4067 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23411»
حدیث نمبر: 13041
عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”تَجِيءُ رِيحٌ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ تُقْبَضُ فِيهَا أَرْوَاحُ كُلِّ مُؤْمِنٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایک ہوا چلے گی، اس میں ہر اہل ایمان کی روح قبض کر لی جائے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13041
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، أخرجه عبد الرزاق: 20802، والحاكم: 4/ 489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15542»
حدیث نمبر: 13042
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ ذَكَرَ فِي أَوَّلِهِ الدَّجَّالَ ثُمَّ نُزُولَ نَبِيِّ اللَّهِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَتْلَهُ الدَّجَّالَ قَالَ: ”ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ، فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ“، قَالَ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ“، الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث ذکر کی، اس کے شروع میں دجال کے ظہور کا اور اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے، بیچ میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارضِ شام کی طرف سے ایک خوشگوار قسم کی ہوا چلائے گا، جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن کسی پہاڑ کے بیچ میں ہوا تو وہ وہاں بھی جا پہنچے گی۔ سیدناعبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے، … … ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13042
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2940، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6555»
حدیث نمبر: 13043
عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ حَتَّى يَبْقَى كَحُثَالَةِ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ، لَا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک لوگ یکے بعد دیگرے فوت ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ بچی ہوئی خراب اور ردی کھجور یا جو کی طرح گھٹیا قسم کے لوگ رہ جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کوئی پروا ہ نہیں کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … جب اس ہوا کی وجہ سے سارے مؤمن فوت ہو جائیں گے تو صرف برے لوگ رہ جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / علامات أخرى / حدیث: 13043
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4156 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17881»