کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے اور توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13029
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا فَذَلِكَ حِينٌ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہ ہوجائے اور جب یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا وقت ہوگا کہ کسی ایسے شخص کو اس کا ایما ن لانا فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُھَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْکَسَبَتْ فِیْٓ اِیْمَانِھَا خَیْرًا} … جس دن تیرے رب کی کوئی نشانی آئے گی کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا، یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی تھی۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸)
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
اس نشانی کے ظہور کے وقت جس کے ایمان یا کفر اور نیکی یا برائی کی جو کیفیت ہو گی، وہی معتبر ہو گی، اگرچہ نشانی کو دیکھنے کے بعد سارے لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایمان ان کو نفع نہیں دے گا، نیز اس علامت کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں ہو گی۔
اس آیت میں مذکورہ نشانی سے مراد مغرب سے سورج کا طلوع ہونا ہے، جب سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہو گا تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا اور کسی کا ایمان لانا اس کو فائدہ نہیں دے گا۔
اس نشانی کے ظہور کے وقت جس کے ایمان یا کفر اور نیکی یا برائی کی جو کیفیت ہو گی، وہی معتبر ہو گی، اگرچہ نشانی کو دیکھنے کے بعد سارے لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایمان ان کو نفع نہیں دے گا، نیز اس علامت کے بعد کوئی نیکی فائدہ مند نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 13030
وَعَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا دَامَ الْعَدُوُّ يُقَاتَلُ“ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الْهِجْرَةَ خَصْلَتَانِ إِحْدَاهُمَا أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ وَالْأُخْرَى أَنْ تُهَاجِرَ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَلَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ مَا تُقُبِّلَتِ التَّوْبَةُ وَلَا تَزَالُ التَّوْبَةُ مَقْبُولَةً حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ فَإِذَا طَلَعَتْ طُبِعَ عَلَى كُلِّ قَلْبٍ بِمَا فِيهِ وَكُفِيَ النَّاسُ الْعَمَلَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن سعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی، اس وقت تک ہجرت منقطع نہیں ہو سکتی۔ اور سیدنامعاویہ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت کی دو قسمیں ہیں، ایک یہ کہ تم برائیوں کو ترک کر دو۔ اور دوسری یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرو، جب تک اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ قبول ہوتی رہے گی، تب تک ہجرت کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا اور تو بہ اس وقت تک قبول ہوتی رہے گی، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہو جاتا اور جب سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوجائے گا، تب ہر دل میں (کفر یا ایمان اور عمل کی صورت میں) جو کچھ ہو گا، اس پر مہر لگا دی جائے گی اور اس وقت لوگوں کو عمل سے بے نیاز کر دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13031
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے سے پہلے پہلے توبہ کر لی، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا۔
حدیث نمبر: 13032
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ وَعَلَيْهِ بَرْذَعَةٌ أَوْ قَطِيفَةٌ قَالَ فَذَلِكَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ لِي ”يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغِيبُ هَذِهِ“ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِئَةٍ تَنْطَلِقُ حَتَّى تَخِرَّ لِرَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ سَاجِدَةً تَحْتَ الْعَرْشِ فَإِذَا حَانَ خُرُوجُهَا أَذِنَ اللَّهُ لَهَا فَتَخْرُجُ فَتَطْلُعُ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُطْلِعَهَا مِنْ حَيْثُ تَغْرُبُ حَبَسَهَا فَتَقُولُ يَا رَبِّ إِنَّ مَسِيرِي بَعِيدٌ فَيَقُولُ لَهَا اطْلَعِي مِنْ حَيْثُ غِبْتِ فَذَلِكَ حِينٌ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گدھے پر سوار تھا، اور اس گدھے پر ایک کمبل چادر تھی (جو جانور کے پالان کے نیچے رکھی جاتی ہے) یہ غروب آفتاب کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دلدل والے ایک چشمہ میں غروب ہوتا ہے، پھر یہ چلتے چلتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہوتا ہے، جب اس کے طلوع کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے طلوع ہونے کی اجازت دیتا ہے اور یہ جا کر طلوع ہوجاتا ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ یہ مغرب ہی کی طرف سے طلوع ہو تو اللہ تعالیٰ اسے روک لے گا، سورج کہے گا: اے رب! میرا سفر بہت طویل ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جو جہاں غروب ہوا ہے، وہیں سے طلوع ہو جا، یہ ایسا وقت ہوگا کہ اس وقت ایمان لانا کسی کے لیے مفید نہیں ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … سورج کا دلدل والے چشمے میں غروب ہونا، اللہ تعالیٰ نے ذو القرنین کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: {اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَہَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَۃٍ وَّوَجَدَ عِنْدَہَا قَوْمًا قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّآ اَنْ تُعَذِّبَ وَاِمَّآ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْہِمْ حُسْنًا} … یہاں تک کہ جب وہ سورج غروب ہونے کے مقام پر پہنچا تو اسے پایا کہ وہ دلدل والے چشمے میں غروب ہو رہا ہے اور اس کے پاس ایک قوم کو پایا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین! یا تو یہ ہے کہ تو (انھیں) سزا دے اور یا یہ کہ تو ان کے بارے میں کوئی اچھا سلوک کرے۔ (سورۂ کہف: ۸۶)
ذوالقرنین ایک راہ پر چلا اور زمین کے نشانات کے سہارے زمین کی مغربی جانب کوچ کیا، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے، یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے، ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے،ذوالقرنین پہنچ گئے۔
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے، جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔
حَمِئَۃ یا تو مشتق ہے حَمَاۃ سے یعنی چکنی مٹی۔ایک قرأت میں فِیْ عَیْنٍ حَامِیَۃٍ ہے، یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیںاوران کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں، کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی گرم ہو گا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو گا۔
سیدنا معاویہ علیہ السلام نے کعب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَالْأَنْعَامُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} … کیا تو دیکھتا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، مویشی اور بہت زیادہ لوگ۔ (سورۂ حج: ۱۸)
ابو العالیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
ذوالقرنین ایک راہ پر چلا اور زمین کے نشانات کے سہارے زمین کی مغربی جانب کوچ کیا، یہاں تک کہ اب سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گئے، یہ یاد رہے کہ اس سے مراد آسمان کا وہ حصہ نہیں جہاں سورج غروب ہوتا ہے کیونکہ وہاں تک تو کسی کا جانا ناممکن ہے، ہاں اس رخ جہاں تک زمین پر جانا ممکن ہے،ذوالقرنین پہنچ گئے۔
الغرض جب انتہائے مغرب کی سمت پہنچ گئے تو یہ معلوم ہوا کہ گویا بحر محیط میں سورج غروب ہو رہا ہے، جو بھی کسی سمندر کے کنارے کھڑا ہو کر سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھے گا تو بظاہر یہی منظر اس کے سامنے ہو گا کہ گویا سورج پانی میں ڈوب رہا ہے۔
حَمِئَۃ یا تو مشتق ہے حَمَاۃ سے یعنی چکنی مٹی۔ایک قرأت میں فِیْ عَیْنٍ حَامِیَۃٍ ہے، یعنی گرم چشمے میں غروب ہونا پایا۔ یہ دونوں قرأتیں مشہور ہیں اور دونوں درست ہیںاوران کے معنی میں بھی کوئی تفاوت نہیں، کیونکہ سورج کی نزدیکی کی وجہ سے پانی گرم ہو گا اور وہاں کی مٹی کے سیاہ رنگ کی وجہ سے اس کا پانی کیچڑ جیسا ہی ہو گا۔
سیدنا معاویہ علیہ السلام نے کعب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس آدمی بھیجا کہ بتلاؤ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ تورات میں اس کے متعلق کچھ ہے؟ کعب رحمتہ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ اسے عربیت والوں سے پوچھنا چاہئے، وہی اس کے پورے عالم ہیں۔ ہاں تورات میں تو میں یہ پاتا ہوں کہ وہ پانی اور مٹی میں یعنی کیچڑ میں چھپ جاتا ہے اور مغرب کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللَّہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَالْأَنْعَامُ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} … کیا تو دیکھتا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے، مویشی اور بہت زیادہ لوگ۔ (سورۂ حج: ۱۸)
ابو العالیہ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 13033
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا وَتَخْرُجُ الدَّابَّةُ عَلَى النَّاسِ ضُحًى فَأَيُّهُمَا خَرَجَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَالْأُخْرَى مِنْهَا قَرِيبٌ“ وَلَا أَحْسِبُهُ إِلَّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا هِيَ الَّتِي أَوَّلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج غروب ہونے والے اپنے مقام سے طلوع ہوگا اورچاشت کے وقت ایک جانور ظاہر ہوگا، ان میں سے جو علامت بھی پہلے ظاہر ہو گئی تو دوسری اس کے بعد جلد نمایاں ہوجائے گی۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا پہلے ہو گا، یہی پہلی علامت ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … اگلے باب میں چوپائے کا ذکر آ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 13034
وَعَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ قَالَ جَلَسَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَرْوَانَ بِالْمَدِينَةِ فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ فِي الْآيَاتِ إِنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجُ الدَّجَّالِ قَالَ فَانْصَرَفَ النَّفَرُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثُوهُ بِالَّذِي سَمِعُوهُ مِنْ مَرْوَانَ فِي الْآيَاتِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ ضُحًى فَأَيَّتُهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا فَالْأُخْرَى عَلَى أَثَرِهَا“ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ يَقْرَأُ الْكِتَابَ وَأَظُنُّ أَوْلَاهَا خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا وَذَلِكَ أَنَّهَا كَمَا غَرَبَتْ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ وَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ فَأُذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ حَتَّى إِذَا بَدَا لِلَّهِ أَنْ تَطْلُعَ مِنْ مَغْرِبِهَا فَعَلَتْ كَمَا كَانَتْ تَفْعَلُ أَتَتْ تَحْتَ الْعَرْشِ فَسَجَدَتْ فَاسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهَا شَيْءٌ ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فِي الرُّجُوعِ فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهَا شَيْءٌ ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فَلَا يُرَدُّ عَلَيْهَا شَيْءٌ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَذْهَبَ وَعَرَفَتْ أَنَّهُ إِنْ أَذِنَ لَهَا فِي الرُّجُوعِ لَمْ تُدْرِكِ الْمَشْرِقَ قَالَتْ رَبِّ مَا أَبْعَدَ الْمَشْرِقَ مَنْ لِي بِالنَّاسِ حَتَّى إِذَا صَارَ الْأُفُقُ كَأَنَّهُ طُوِّقَ اسْتَأْذَنَتْ فِي الرُّجُوعِ فَيُقَالُ لَهَا مِنْ مَكَانِكِ فَاطْلَعِي فَطَلَعَتْ عَلَى النَّاسِ مِنْ مَغْرِبِهَا“ ثُمَّ تَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: 158]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوذرعہ بن عمرو کہتے ہیں: مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مروان کو سنا وہ علاماتِ قیامت بیان کر رہا تھا، اس نے کہا کہ قیامت کی پہلی علامت دجال کا خروج ہے۔ پھر یہ لوگ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور مروان سے سنی ہوئی علامات ِ قیامت کا ذکر ان سے کیا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مروان نے کوئی علمی بات نہیں کہی، ا س بارے میں مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث یاد ہے، جو مجھے ابھی تک بھولی نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی علامتیں جو ظاہر ہوں گی، وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت چوپائے کا نکلنا ہے، ان میں سے جو علامت پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے بعد جلد ہی ظاہر ہوجائے گی۔ چونکہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ آسمانی کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ سب سے پہلی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہی ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتاہے، پھر واپس جانے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے واپس جانے کی اجازت مل جاتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو، تو یہ معمول کے مطابق سارے امور سرانجام دے گا، عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہونے کے بعد حسب سابق واپس جانے کی اجازت طلب کرے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے کوئی جواب نہیں دے گا، یہ دوبارہ اجازت مانگے گا، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، وہ تیسری مرتبہ اجازت مانگے گا ، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر جائے گا اور سورج کو یقین ہوجائے گا کہ اب اگر اسے واپسی کی اجازت مل بھی جائے تو وہ اپنے مقرر وقت پر مشرق تک نہیں پہنچ سکے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب ! مشرق کس قدر بعید ہے! اب میرا اور لوگوں کا معاملہ، اس کا کیا بنے گا؟ یہاں تک کہ افق جب ایک گول حلقہ کی طرح ہوجائے گا تو وہ پھر ایک دفعہ واپسی کی اجازت طلب کرے گا، اب کی بار اسے کہا جائے گا: آج تم یہیں سے طلوع ہوجاؤ، چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔} (سورۂ انعام: ۱۵۸) (جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔)
حدیث نمبر: 13035
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً لَا يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغرب کی سمت میں توبہ کے لیے ستر سال کی مسافت پر مشتمل ایک بڑا دروازہ کھلا ہوا ہے، وہ دروازہ سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے تک بند نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13036
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَسِيرَةُ عَرْضِهِ سَبْعُونَ عَامًا لِلتَّوْبَةِ لَا يُغْلَقُ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ قِبَلَهُ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا}“ [الأنعام: 158]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مغرب کی جہت میں توبہ کے لیے ایک دروازہ بنایا ہے، اس کی مسافت ستر سال ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہوجاتا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} (جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی، تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا۔) (الانعام: ۱۵۸)۔
حدیث نمبر: 13037
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”فَتَحَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلتَّوْبَةِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يُغْلِقُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان پیدا کیے تھے، اسی دن توبہ کے لیے یہ دروازہ کھولا تھا، اب وہ اس کو اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس کی طرف سے یعنی مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔