کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: یاجوج ماجوج کا ظہور بھی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے¤یاجوج ماجوج کے حلیے کا بیان
حدیث نمبر: 13023
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هُشَيْمٌ أَنَا الْعَوَّامُ عَنْ جَبْلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ عَنْ مُؤَثِّرِ بْنِ عَفَازَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَقِيتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى قَالَ: فَتَذَاكَرُوا أَمْرَ السَّاعَةِ فَرَدُّوا أَمْرَهُمْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي بِهَا، فَرَدُّوا الْأَمْرَ إِلَى عِيسَى، فَقَالَ: أَمَّا وَجَبَتُهَا فَلَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ ذَلِكَ وَفِيمَا عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الدَّجَّالَ خَارِجٌ قَالَ: وَمَعِي قَضِيبَانِ، فَإِذَا رَآنِي ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الرَّصَّاصُ قَالَ: فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ وَالشَّجَرَ لَيَقُولُ: يَا مُسْلِمُ! إِنَّ تَحْتِي كَافِرًا، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَيُهْلِكُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَى بِلَادِهِمْ وَأَوْطَانِهِمْ قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ، فَيَطَئُونَ بِلَادَهُمْ وَهُمْ لَا يَأْتُونَ عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَهْلَكُوهُ وَلَا يَمُرُّونَ عَلَى مَاءٍ إِلَّا شَرِبُوهُ ثُمَّ يَرْجِعُ النَّاسُ إِلَيَّ فَيَشْكُونَهُمْ، فَأَدْعُو اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَيُهْلِكُهُمُ اللَّهُ وَيُمِيتُهُمْ حَتَّى تَجْوَى الْأَرْضُ مِنْ نَتْنِ رِيحِهِمْ، قَالَ: فَيُنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَطَرَ فَتَجْرِفُ أَجْسَادَهُمْ حَتَّى يَقْذِفَهُمْ فِي الْبَحْرِ“ قَالَ أَبِي: ذَهَبَ عَلَيَّ هَاهُنَا شَيْءٌ لَمْ أَفْهَمْهُ، كَأَدِيمٍ وَقَالَ يَزِيدُ: يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ: ثُمَّ تَنْسِفُ الْجِبَالُ وَتُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ هُشَيْمٍ قَالَ: فَفِيمَا ”عَهِدَ إِلَيَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ ذَلِكَ إِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَإِنَّ السَّاعَةَ كَالْحَامِلِ الْمُتِمِّ الَّتِي لَا يَدْرِي أَهْلُهَا مَتَى تَفْجَؤُهُمْ بِوِلَادِهَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسراء والی رات ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ علیہ السلام سے میری ملاقات ہوئی، جب انہوں نے قیامت کا ذکر کیا تو سب نے بات کو ابراہیم علیہ السلام کی طرف لوٹایا، لیکن انہوں نے فرمایا: مجھے تو اس کا کوئی علم نہیں ہے،پھر انھوں نے بات کو موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کر دیا، لیکن انہوں نے بھی فرمایا: مجھے اس کا علم نہیں ہے، اور انہوں نے اس معاملے کو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف ڈال دیا، انہوں نے کہا: جہاں تک قیامت کے واقع ہونے کی بات ہے، تو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، البتہ میرے ربّ نے مجھے بتایا تھا کہ قیامت سے پہلے دجال کا ظہور ہوگا، (جب میں عیسی کا نزول ہو گا تو) میرے پاس دو لاٹھیاں (یا تلواریں) ہوں گی، وہ جب مجھے دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا، جیسے تانبا پگھلتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کر دے گا، یہاں تک کے ہر پتھر اور درخت بول کر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ کافر چھپا ہوا ہے،آکر اسے قتل کر دو، اس طرح اللہ تعالیٰ انہیں نیست و نابود کر دے گا، اس کے بعد لوگ اپنے اپنے شہروں اور وطنوں کی طرف لوٹ جائیں گے، بعد ازاں یا جوج و ماجوج کا ظہور ہوگا اور وہ ہر بلندی کی طرف سے نکل آئیں گے اور آکر لوگوں کے شہروں پر چھا جائیں گے، وہ جس چیز پر بھی پہنچیں گے، اسے ختم کر دیں گے، وہ جس پانی کے پاس سے گزریں گے، اسے پی جائیں گے۔ پھر لوگ ان کی شکایت کرنے کے لیے میرے پاس آئیں گے، میں اللہ تعالیٰ سے ان پر بد دعا کروں گا، پس اللہ تعالیٰ ان کو ختم کر دے گا اور ان کے اجسام کی بو سے پوری روئے زمین بدبودار ہوجائے گی، پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو ان کے اجسام کو بہا کر سمندر میں جا ڈال دے گی۔ امام احمد کہتے ہیں: یہاں حدیث کا بعض حصہ مجھے سمجھ نہ آ سکا، ابن ہارون نے یوں بیان کیا: پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور زمین کو چمڑے کی طرح پھیلا دیا جائے گا، اس کے بعد وہ ہشیم کی روایت کی طرف لوٹ آئے او رکہا: (عیسیٰ علیہ السلام کہیں کے کہ) میرے رب نے مجھ سے جو کچھ کہا اس میں یہ بھی ہے کہ جب اس قسم کے حالات پیدا ہوجائیں گے تو قیامت کسی بھی وقت آسکتی ہے، بالکل اس طرح جیسے مدت پوری کر لینے والی حاملہ خاتون کی ہوتی ہے کہ اس کے گھر والوں کو کوئی علم نہیں ہوتا کہ دن یا رات کے کس وقت میں وہ اچانک بچہ پیدا کر دے گی۔
حدیث نمبر: 13024
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ لَيَحْفِرَنَّ السَّدَّ كُلَّ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا، فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ كَأَشَدِّ مَا كَانَ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ مُدَّتُهُمْ وَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْعَثَهُمْ عَلَى النَّاسِ (وَفِي رِوَايَةٍ: عَلَى النَّاسِ) حَفَرُوا حَتَّى إِذَا كَادُوا يَرَوْنَ شُعَاعَ الشَّمْسِ قَالَ الَّذِي عَلَيْهِمْ: ارْجِعُوا فَسَتَحْفِرُونَهُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَِّهُ وَيَسْتَثْنِي فَيَعُودُونَ إِلَيْهِ وَهُوَ كَهَيْئَتِهِ حِينَ تَرَكُوهُ، فَيَحْفِرُونَهُ وَيَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ فَيَنْشِفُونَ الْمِيَاهَ وَيَتَحَصَّنَ النَّاسُ مِنْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج ماجوج روزانہ دیوار کو کھودتے ہیں، جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو ان کا امیر کہتا ہے: واپس چلو، کل تم اسے کھود لو گے، لیکن جب وہ دوسرے دن آتے ہیں، تو وہ دیوارپہلے سے بھی زیادہ سخت ہوچکی ہوتی ہے، (ہر روز یہی کچھ ہوتا ہے) حتی کہ جب ان کا مقررہ وقت پورا ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کر لے گا کہ وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں، تو اسی طرح کھودنا شروع کریں گے، جب سورج غروب ہونے کے قریب ہوگا تو اس بار ان کا امیر ان سے کہے گا: واپس چلو، اگر اللہ نے چاہا تو باقی کل کھود لیں گے، اس دفعہ وہ ان شاء اللہ کہے گا، دوسرے دن جب وہ وہاں آئیں گے تو اسے اسی حالت میں پائیں گے، جس میں چھوڑ کر گئے ہیں، چنانچہ وہ اسے کھود لیں گے اور لوگوں کی طرف نکل جائیں گے، وہ سارے پانیوں کو چوس جائیں گے اور لوگ ان سے ڈر کر اپنے اپنے قلعوں میں بند ہوجائیں گے،(زمین پر قبضہ جما لینے کے بعد) یاجوج ماجوج آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے، وہ تیر خون آلود ہو کر واپس آئیں گے، یہ دیکھ کروہ کہیں گے کہ ہم زمین والوں پر بھی اور آسمان والوں پر بھی غالب آگئے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ ان کی گدیوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا، جس کی وجہ سے وہ مر جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان کے گوشت اور خون کھا کھا کر زمین کے جانور خوب موٹے تازے ہوجائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حافظ ابن کثیر نے مسند احمد کے حوالے سے یہ حدیث ذو القرنین اور یاجوج و ماجوج کے قصے میں اس آیت کے ضمن میں ذکر کی ہے: {فَمَا اسْطَاعُوْٓا اَنْ یَّظْہَرُوْہُ وَ مَااسْتَطَاعُوْالَہٗ نَقْبًا} (سورۂ کہف: ۹۷) … پس نہ تو ان (یاجوج ماجوج) میں اس دیوار پر چڑھنے کی طاقت تھی اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے تھے۔
پھر انھوں نے یہ قصہ ذکر کرنے کے بعد کہا: اس حدیث کی سند تو جیّد ہے، لیکن اس کے متن کو مرفوع بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا کہ وہ دیوار اتنی مضبوط اور سخت ہے کہ نہ وہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں۔
میں (البانی) کہتا ہوں: یہ آیت کسی طرح بھی اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی کہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ آیت ِ مبارکہ میں ماضی کی خبر دی گئی ہے اور حدیث میں مسقبل کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث درج ذیل آیت کا مکمل مفہوم ادا کر رہی ہے: {حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔} (سورۂ انبیا: ۹۶) … یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
میں نے اس تحریر کے بعد امام ابن کثیر کی (البدایۃ والنھایۃ: ۲/۱۲۲) میں اس قصے کا مراجعہ کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اِسی قسم کا جواب دیا، ہاں اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے امور بھی ذکر کیے۔ (صحیحہ: ۱۷۳۵)
پھر انھوں نے یہ قصہ ذکر کرنے کے بعد کہا: اس حدیث کی سند تو جیّد ہے، لیکن اس کے متن کو مرفوع بیان کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتا کہ وہ دیوار اتنی مضبوط اور سخت ہے کہ نہ وہ اس پر چڑھ سکتے ہیں اور نہ اس میں کوئی سوراخ کر سکتے ہیں۔
میں (البانی) کہتا ہوں: یہ آیت کسی طرح بھی اس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی کہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہو گی۔ آیت ِ مبارکہ میں ماضی کی خبر دی گئی ہے اور حدیث میں مسقبل کے بارے میں خبر دی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا کہ آیت اور حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ یہ حدیث درج ذیل آیت کا مکمل مفہوم ادا کر رہی ہے: {حَتّٰٓی اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ ہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ۔} (سورۂ انبیا: ۹۶) … یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔
میں نے اس تحریر کے بعد امام ابن کثیر کی (البدایۃ والنھایۃ: ۲/۱۲۲) میں اس قصے کا مراجعہ کیا، کیا دیکھتا ہوں کہ انھوں نے اِسی قسم کا جواب دیا، ہاں اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے امور بھی ذکر کیے۔ (صحیحہ: ۱۷۳۵)
حدیث نمبر: 13025
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ ثَنَا وُهَيْبٌ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاؤُوسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”فُتِحَ الْيَوْمُ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا“ وَعَقَدَ وُهَيْبٌ تِسْعِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے۔ وضاحت کرنے کے لیے حدیث کے راوی وہیب نے نوے (۹۰) کی گرہ لگائی۔
وضاحت:
فوائد: … عربوں کے ہاں نوے (۹۰) کی گرہ یہ ہے: انگشتِ شہادت کا سرا انگوٹھے کی جڑ پر رکھیں پھر انگوٹھے کو انگلی کے ساتھ ملا دیں (کہ اندر گول دائرے کا سوراخ بن جائے)۔اگر دوسری روایات کو دیکھا جائے تو اس سوراخ سے مراد ان کے فتنے کا قریب ہونا ہے۔
حدیث نمبر: 13026
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُفْتَحُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ يَخْرُجُونَ عَلَى النَّاسِ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} فَيُغَشُّونَ الْأَرْضَ وَيَنْحَازُ الْمُسْلِمُونَ عَنْهُمْ إِلَى مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ وَيَضُمُّونَ إِلَيْهِمْ مَوَاشِيَهُمْ وَيَشْرَبُونَ مِيَاهَ الْأَرْضِ حَتَّى إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَمُرُّ بِالنَّهْرِ فَيَشْرَبُونَ مَا فِيهِ حَتَّى يَتْرُكُوهُ يَبَسًا حَتَّى إِنَّ مَنْ بَعْدَهُمْ لَيَمُرُّ بِذَلِكَ النَّهْرِ فَيَقُولُ قَدْ كَانَ هَاهُنَا مَاءٌ مَرَّةً حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّاسِ إِلَّا أَحَدٌ فِي حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ قَالَ قَائِلُهُمْ هَؤُلَاءِ أَهْلُ الْأَرْضِ قَدْ فَرَغْنَا مِنْهُمْ بَقِيَ أَهْلُ السَّمَاءِ قَالَ ثُمَّ يَهُزُّ أَحَدُهُمْ حَرْبَتَهُ ثُمَّ يَرْمِي بِهَا إِلَى السَّمَاءِ فَتَرْجِعُ مُخْتَضِبَةً دَمًا لِلْبَلَاءِ وَالْفِتْنَةِ فَبَيْنَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ دُودًا فِي أَعْنَاقِهِمْ كَنَغَفِ الْجَرَادِ الَّذِي يَخْرُجُ فِي أَعْنَاقِهِمْ فَيُصْبِحُونَ مَوْتَى لَا يُسْمَعُ لَهُمْ حِسٌّ فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ أَلَا رَجُلٌ يَشْرِي نَفْسَهُ فَيَنْظُرُ مَا فَعَلَ هَذَا الْعَدُوُّ قَالَ فَيَتَجَرَّدُ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِذَلِكَ مُحْتَسِبًا لِنَفْسِهِ قَدْ أَظَنَّهَا عَلَى أَنَّهُ مَقْتُولٌ فَيَنْزِلُ فَيَجِدُهُمْ مَوْتَى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَيُنَادِي يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ أَلَا أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَاكُمْ عَدُوَّكُمْ فَيَخْرُجُونَ مِنْ مَدَائِنِهِمْ وَحُصُونِهِمْ وَيَسْرَحُونَ مَوَاشِيَهُمْ فَمَا يَكُونُ لَهَا رَعْيٌ إِلَّا لُحُومُهُمْ فَتَشْكَرُ عَنْهُ كَأَحْسَنِ مَا تَشْكَرُ عَنْ شَيْءٍ مِنَ النَّبَاتِ أَصَابَتْهُ قَطُّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالآخر یاجوج ماجوج کے لیے دیوار کھول دی جائے گی اور وہ لوگوں کی طرف نکل آئیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} (سورۂ انبیاء: ۹۶) (وہ ہر بلندی سے تیزی سے دوڑتے آئیں گے)، وہ زمین پر چھا جائیں گے، مسلمان ان کے شر اور فتنوں سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور قلعوں میں بند ہوجائیں گے اور اپنے مویشیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے، یاجوج ماجوج زمین سے اس قدر پانی پئیں گے کہ جب ان میں سے بعض افراد پانی کی نہرکے پاس سے گزریں گے، تو اس طرح پانی پی جائیں گے کہ نہر خشک ہو جائے گی، ان کے بعد گزرنے والے اس نہر کے بارے میں یہ کہیں گے کہ یہاں کبھی پانی ہوتا تھا،جب ہر آدمی اپنے قلعے یا شہر میں بند ہو جائے گا (اور زمین پر ان کا مکمل قبضہ ہو جائے گا تو) وہ یاجوج ماجوج میں سے ایک فرد کہے گا: ہم اہل زمین سے تو فارغ ہوگئے ہیں، البتہ آسمان والے باقی ہیں، پھر ان میں سے ایک اپنے نیزے کو حرکت دے کر آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ نیزہ ان کے امتحان و آزمائش کے لیے خون آلود ہو کر واپس گرے گا۔ ( یہ دیکھ کر وہ کہیں گے کہ ہم آسمان والوں پر بھی غالب آ گئے ہیں)۔ وہ اسی قسم کی کیفیات میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں کیڑا پیدا کردے گا، جیسے ٹڈی دل کا لاروا ان کی گردنوں میں ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ سارے اس طرح مر جائیں گے کہ ان کی حرکت تک بھی سنائی نہیں دے گی، مسلمان آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کیا کوئی ایسا فرد ہے جو اپنے آپ کو قربان کرے اور یہ خبر لائے کہ یاجوج ماجوج کا کیا بنا ہے، ایک مسلمان دشمن کے حالات کو دیکھنے کے لیے اس خیال سے جائے گا کہ وہ وہاں قتل ہوجائے گا، لیکن جب وہ ان کے درمیان پہنچے گا تو دیکھے گا کہ وہ تو سب ایک دوسرے کے اوپر گرے مرے پڑے ہیں، وہ مسلمانوں کو آواز دے گا: مسلمانوں کی جماعت! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمن کا صفایا کر دیا ہے، پھر مسلمان اپنے شہروں ور قلعوں سے باہر نکل آئیں گے اور اپنے مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیں گے، ان مویشیوں کی خوراک یاجوج ماجوج کا گوشت ہوگا، وہ اس سے پہلے کبھی گھاس کھا کھا کر اس قدر سیر نہیں ہوئے ہوں گے، جس قدر ان کا گوشت کھا کر سیر ہوں گے۔
حدیث نمبر: 13027
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَيُحَجَّنَّ الْبَيْتُ وَلَيُعْتَمَرَنَّ بَعْدَ خُرُوجِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یاجوج و ماجوج کے ظہور کے بعد بھی بیت اللہ کا حج اور عمرہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13028
عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ خَالَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاصِبٌ إِصْبَعَهُ مِنْ لَدْغَةِ عَقْرَبَ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ تَقُولُونَ لَا عَدُوَّ وَإِنَّكُمْ لَا تَزَالُونَ تُقَاتِلُونَ عَدُوًّا حَتَّى يَأْتِي يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْعُيُونِ صُهْبُ الشِّعَافِ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن حرملہ اپنی خالہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ دیا، جبکہ بچھو کے ڈسنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی پر پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں فرمایا: تم کہتے ہو کہ اب تمہارا کوئی دشمن باقی نہیں رہا، یاد رکھو تم اپنے دشمنوں سے لڑتے رہو گے حتی کہ یا جوج ما جوج آ جائیں گے، ان کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی ہوں گے اور سر کے بالوں میں بھورا پن ہو گا، وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔