مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: نماز استسقا اور اس کے احکام و مسائل۔
حدیث نمبر: 1161
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ بِالنَّاسِ لِيَسْتَسْقِيَ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهِمَا ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا وَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ نماز استسقا کے لیے نکلے ، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی ، جن میں بلند آواز سے قرأت کی اور اپنی چادر پلٹی اور قبلہ رخ ہو کر بارش کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اوپر کا حصہ نیچے ہو گیا اور نیچے کا اوپر، اور داہنا کنارہ بائیں طرف ہو گیا اور بایاں کنارہ داہنی طرف، اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے چادر کا نیچے کا بایاں کونہ اور بائیں ہاتھ سے نیچے کا داہنا کونہ پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھرا دے اس طرح سے کہ جو کونہ داہنے ہاتھ سے پکڑا ہے وہ داہنے کندھے پر آ جائے، اور جو بائیں ہاتھ سے پکڑا ہے وہ بائیں کندھے پر آ جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 1161
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1023) صحيح مسلم (894)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الاستسقاء 1 (1005)، 4 (1012)، 15 (1023)، والدعوات 25 (6343)، صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (894)، سنن الترمذی/الصلاة 278 (الجمعة 43) (556)، سنن النسائی/الاستسقاء 2 (1504)، 3 (1506)، 5 (1508)، 6 (1509)، 7 (1510)، 8 (1511)، 12 (1519)، 14 (1521)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 153 (1267)، (تحفة الأشراف: 5297)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الاستسقاء 1(1)، مسند احمد (4/38، 39، 40، 41، 42)، سنن الدارمی/الصلاة 188 (1541) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1162
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي ، فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " . قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ : " وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " . قَالَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ : " وَقَرَأَ فِيهِمَا " . زَادَ ابْنُ السَّرْحِ : " يُرِيدُ الْجَهْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ` مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ ) سے ( جو صحابی رسول تھے ) سنا کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ساتھ لے کر نماز استسقا کے لیے نکلے اور لوگوں کی طرف اپنی پیٹھ کر کے اللہ عزوجل سے دعا کرتے رہے ۔ سلیمان بن داود کی روایت میں ہے کہ آپ نے قبلہ کا استقبال کیا اور اپنی چادر پلٹی پھر دو رکعتیں پڑھیں ۔ اور ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان دونوں میں قرآت کی ۔ ابن سرح نے یہ اضافہ کیا ہے کہ قرآت سے ان کی مراد جہری قرآت ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 1162
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح ق وليس عند م القراءة والجهر , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1023) صحيح مسلم (894)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5297) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ فِي كِتَابِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ يَعْنِي الْحِمْصِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ ، لَمْ يَذْكُرِ الصَّلَاةَ ، قَالَ : " وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ فَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ ، وَجَعَلَ عِطَافَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی محمد بن مسلم ( ابن شہاب زہری ) سے سابقہ سند سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں راوی نے نماز کا ذکر نہیں کیا ہے اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پلٹی تو چادر کا داہنا کنارہ اپنے بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ اپنے داہنے کندھے پر کر لیا ، پھر اللہ عزوجل سے دعا کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 1163
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (1502), وله شواھد، و انظر صحيح البخاري (1024) و مسلم (894) قلت: و عمرو بن الحارث الحمصي و ثقه ابن خزيمة (571) و ابن حبان (482) والحاكم (1/223) والذهبي والدارقطني (1/335) وغيرهم، وانظر الحديثين السابقين (1161، 1162)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : (1161)، (تحفة الأشراف: 5297) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1164
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ ، قَالَ : " اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ بِأَسْفَلِهَا فَيَجْعَلَهُ أَعْلَاهَا ، فَلَمَّا ثَقُلَتْ قَلَبَهَا عَلَى عَاتِقِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقا پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایک سیاہ چادر تھی تو آپ نے اس کے نچلے کنارے کو پکڑنے اور پلٹ کر اسے اوپر کرنے کا ارادہ کیا جب وہ بھاری لگی تو اسے اپنے کندھے ہی پر پلٹ لیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 1164
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1503)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : (1161)، (تحفة الأشراف: 5297) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1165
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ نَحْوَهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، قَالَ :أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : أَرْسَلَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُقَبَةَ ، قَالَ عُثْمَانُ ابْنُ عُقْبَةَ : وَكَانَ أَمِيرَ الْمَدِينَةِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ ، فَقَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا حَتَّى أَتَى الْمُصَلَّى ، زَادَ عُثْمَانُ : فَرَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطَبَكُمْ هَذِهِ ، وَلَكِنْ لَمْ يَزَلْ فِي الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّعِ وَالتَّكْبِيرِ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَالْإِخْبَارُ لِلنُّفَيْلِيِّ، وَالصَّوَابُ ابْنُ عُقْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ` میرے والد نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے ولید بن عتبہ نے ( عثمان کی روایت میں ولید بن عقبہ ہے ، جو مدینہ کے حاکم تھے ) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا کہ میں جا کر ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز استسقا کے بارے پوچھوں تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھٹے پرانے لباس میں عاجزی کے ساتھ گریہ وزاری کرتے ہوئے عید گاہ تک تشریف لائے ، عثمان بن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ منبر پر چڑھے ، آگے دونوں راوی روایت میں متفق ہیں : آپ نے تمہارے ان خطبوں کی طرح خطبہ نہیں دیا ، بلکہ آپ برابر دعا ، گریہ وزاری اور تکبیر میں لگے رہے ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جیسے عید میں دو رکعتیں پڑھتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : روایت نفیلی کی ہے اور صحیح ولید بن عقبہ ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب صلاة الاستسقاء / حدیث: 1165
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1505), أخرجه الترمذي (558 وسنده حسن)
حدیث تخریج « سنن الترمذی/الصلاة 278 (558)، سنن النسائی/الاستسقاء 3 (1507)، سنن ابن ماجہ/إقامة 153 (1266)، (تحفة الأشراف: 5359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/230، 269، 355) (حسن) »

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔