کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان احادیث کا تذکرہ، جن میں دجال کے ظہور ، زمین میں اس کے قیام کی مدت، عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنے، یا جوج ماجوج کے ظہور اور ان کی ہلاکت، عیسیٰ علیہ السلام کے دنوـں میں لوگوں کی خوش حالی اور پھر اہلِ خیر و اہلِ ایمان کے فوت ہو جانے اور بد ترین لوگوں کے باقی رہ جانے، پھر صور پھونکے جانے اور قبر والوں کے جی اٹھنے کا بیان ہے
حدیث نمبر: 13012
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ الدِّمَشْقِيُّ بِمَكَّةَ إِمْلَاءً قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ قَاضِي حِمْصَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدَّجَّالَ ذَاتَ غَدَاةٍ فَخَفَضَ فِيهِ وَرَفَعَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ فَلَمَّا رُحْنَا إِلَيْهِ عَرَفَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِنَا فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتَ الدَّجَّالَ الْغَدَاةَ فَخَفَضْتَ فِيهِ وَرَفَعْتَ حَتَّى ظَنَنَّاهُ فِي طَائِفَةِ النَّخْلِ قَالَ ”غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوفُ مِنِّي عَلَيْكُمْ فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ دُونَكُمْ وَإِنْ يَخْرُجْ وَلَسْتُ فِيكُمْ فَامْرُؤٌ حَجِيجُ نَفْسِهِ وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ إِنَّهُ شَابٌّ جَعْدٌ قَطَطٌ عَيْنُهُ طَافِئَةٌ وَإِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خُلَّةٍ بَيْنَ الشَّامِ وَالْعِرَاقِ فَعَاثَ يَمِينًا وَشِمَالًا يَا عِبَادَ اللَّهِ اثْبُتُوا“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَبْثُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ ”أَرْبَعِينَ يَوْمًا يَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَسَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي هُوَ كَسَنَةٍ أَيَكْفِينَا فِيهِ صَلَاةُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ ”لَا اقْدُرُوا لَهُ قَدْرَهُ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ قَالَ ”كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ قَالَ فَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَسْتَجِيبُونَ لَهُ فَيَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ وَالْأَرْضَ فَتُنْبِتُ وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ سَارِحَتُهُمْ وَهِيَ أَطْوَلُ مَا كَانَتْ ذُرًى وَأَمَدُّهُ خَوَاصِرَ وَأَسْبَغُهُ ضُرُوعًا وَيَمُرُّ بِالْحَيِّ فَيَدْعُوهُمْ فَيَرُدُّوا عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَتَتَّبِعُهُ أَمْوَالُهُمْ فَيُصْبِحُوا مُمْحِلِينَ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ شَيْءٌ وَيَمُرُّ بِالْخَرِبَةِ فَيَقُولُ لَهَا أَخْرِجِي كُنُوزَكِ فَتَتَّبِعُهُ كُنُوزُهَا كَيَعَاسِيبِ النَّخْلِ قَالَ وَيَأْمُرُ بِرَجُلٍ فَيُقْتَلُ فَيَضْرِبُهُ بِالسَّيْفِ فَيَقْطَعُهُ جَزْلَتَيْنِ رَمْيَةَ الْغَرَضِ ثُمَّ يَدْعُو فَيُقْبِلُ إِلَيْهِ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَسِيحَ بْنَ مَرْيَمَ فَيَنْزِلُ عِنْدَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيِّ دِمَشْقَ بَيْنَ مَهْرُودَتَيْنِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى أَجْنِحَةِ مَلَكَيْنِ فَيَتْبَعُهُ فَيُدْرِكُهُ فَيَقْتُلُهُ عِنْدَ بَابِ لُدٍّ الشَّرْقِيِّ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ أَنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِي لَا يَدَانِ لَكَ بِقِتَالِهِمْ فَحَوِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَهُمْ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ} فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ نَغْفًا فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَيَهْبِطُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ بَيْتًا إِلَّا قَدْ مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ فَيَرْغَبُ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرْسِلُ عَلَيْهِمْ طَيْرًا كَأَعْنَاقِ الْبُخْتِ فَتَحْمِلُهُمْ فَتَطْرَحُهُمْ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ“ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَحَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ السِّكْسَكِيُّ مِنْ كَعْبٍ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ فَتَطْرَحُهُمْ بِالْمُهَبَّلِ قَالَ ابْنُ جَابِرٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا يَزِيدَ وَأَيْنَ الْمُهَبَّلُ قَالَ مَطْلِعُ الشَّمْسِ قَالَ ”وَيُرْسِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَطَرًا لَا يَكِنُّ مِنْهُ بَيْتُ وَبَرٍ وَلَا مَدَرٍ أَرْبَعِينَ يَوْمًا فَيَغْسِلُ الْأَرْضَ حَتَّى يَتْرُكَهَا كَالزَّلَفَةِ وَيُقَالُ لِلْأَرْضِ أَنْبِتِي ثَمَرَتَكِ وَرَدِّي بَرَكَتَكِ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ يَأْكُلُ النَّفَرُ مِنَ الرُّمَّانَةِ وَيَسْتَظِلُّونَ بِقِحْفِهَا وَيُبَارَكُ فِي الرِّسْلِ حَتَّى إِنَّ اللِّقْحَةَ مِنَ الْإِبِلِ لَتَكْفِي الْفِئَامَ مِنَ النَّاسِ وَاللِّقْحَةَ مِنَ الْبَقَرِ تَكْفِي الْفَخِذَ وَالشَّاةُ مِنَ الْغَنَمِ تَكْفِي أَهْلَ الْبَيْتِ قَالَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رِيحًا طَيِّبَةً تَحْتَ آبَاطِهِمْ فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ قَالَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ يَتَهَارَجُونَ تَهَارُجَ الْحَمِيرِ وَعَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ وَعَلَيْهِ تَقُومُ السَّاعَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن صبح کو دجال کا ذکر کیا، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کبھی اپنی آواز کو پست کر لیتے اور کبھی بلند، یہاں تک کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ وہ یہیں کھجوروں کے کسی جھنڈ میں موجود ہے، ہم اس سے اس قدر خوف زدہ ہوگئے کہ جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہمارے چہروں پر دہشت سی محسوس کر لی، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے متعلق مزید دریافت کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آج دجال کا ذکر کیا اور اس دوران اپنی آواز کو کبھی پست کیا اور کبھی بلند، یہاں تک کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے کہ وہ یہیں کہیں کھجوروں کے جھنڈ میں موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے متعلق دجال کے علاوہ دوسری بات کا اندیشہ زیادہ ہے، کیونکہ اگر میری موجودگی میں دجال آگیا تو میں تم سے آگے اس کا مقابلہ کر لوں گا اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر آدمی اپنا دفاع خود کر لے گا اور ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ میری طرف سے خلیفہ ہے، (یعنی اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو فتنہ ٔ دجال سے محفوظ رکھے گا)، دجال نوجوان ہوگا، اس کے بال گھنگریالے ہوں گے، اس کی آنکھ خوشۂ انگور میں ابھرے ہوئے دانے کی طرح ہو گی،وہ شام اور عراق کے درمیان کے علاقوں میں ظاہر ہوگا اور دائیں بائیں (زمین پر) گھومے گا، اللہ کے بندو! تم اس وقت دین پر ثابت قدم رہنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا؟ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن، لیکن اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا جو دن ایک سال کے برابر ہوگا ،تو کیا اس میں ہمیں ایک ہی دن کی نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’جی نہیں،تم وقت کا اندازہ کر کے (وقفے وقفے سے نمازیں) ادا کرتے رہنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ زمین میں کس رفتار سے جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی رفتار اس بادل کی سی ہوگی، جسے ہوا آگے کو دھکیل رہی ہو۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال ایک قبیلے کے پاس سے گزرے گا اور انہیں (اپنی ربوبیت) کی دعوت دے گا، لوگ اس کی بات مان لیں گے، پھر وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین نباتات اگائے گی، جنگلوں میں چرنے والے ان کے جانور پہلے سے بڑی کوہانوں والے، بھری ہوئی کو کھوں والے اور بڑے تھنوں والے ہو کر واپس آئیں گے، اسی طرح جب وہ ایک دوسرے قبیلے کے پاس سے گزر ے گا اور ان کو (اپنی ربوبیت پر ایمان لانے کی) دعوت دے گا اور وہ اس کی بات کو ردّ کردیں گے، ان کے اموال (ان کو چھوڑ کر) دجال کے پیچھے چل پڑیں گے اور وہ لوگ تنگ دست ہو کر رہ جائیں گے، ان کے پاس ان کے مالوں میں سے کچھ بھی نہیں بچے گا۔ دجال ایک شور زدہ زمین سے گزرتے ہوئے اس سے کہے گا کہ کہ تو اپنے خزانے اُگل دے، تو اس زمین کے خزانے نکل کر اس کے پیچھے یوں چلیں گے، جیسے شہد کی مکھیوں کے لشکر جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ دجال تلوار کی ضرب سے ایک آدمی کے یک لخت اس طرح دو ٹکڑے کر دے گا، جیسے تیر جلدی سے اور اچانک اپنے ہدف پر جا کر لگتا ہے، پھر وہ اس مقتول کو اپنی طرف بلائے گا تو وہ زندہ ہو کر اس کی طرف آ جائے گا اور اس کا چہرہ بے خوفی اور اطمینان کی وجہ سے خوب روشن ہوگا، دجال اسی طرح لوگوں کو شعبدے دکھا دکھا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرما دے گا، وہ دمشق کے مشرق میں سفید رنگ کی بلند جگہ پر اتریں گے، انھوں نے ورس اور زعفران کے ساتھ رنگے ہوئے دو کپڑے زیب ِ تن کیے ہوں گے اور فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے، وہ اتر کر دجال کا پیچھا کر کے اسے لُدّ کے مشرقی دروازے کے قریب قتل کر دیں گے، اتنے میں اللہ تعالی، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا کہ اب میں ایسے بندے بھیجنے لگا ہوں کہ آپ ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے، لہٰذا آپ اہل ِ ایمان بندوں کو لے کر کوہِ طور کی طرف چلے جائیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کو ظاہر کرے گا، ان کی وہی کیفیت اور حالت ہوگی جو قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے: {مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ} (وہ ہر بلندی سے تیزی سے دوڑتے آئیں گے)۔ (سورۂ انبیاء: ۹۶) پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں گے اور اللہ تعالیٰ یا جوج ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا،اس سے وہ بہت جلد مر جائیں گے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کوہِ طور سے نیچے آئیں گیاور جب وہ دیکھیں گے کہ ان کی لاشیں اور بدبو زمین پر ہر ہر گھر میں پڑی ہوئی ہے، تو وہ اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے اوراللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے بڑے بڑے پرندے بھیج دے گا، جو ان کے لاشوں کو اٹھا اٹھا کر ادھر پھینک آئیں گے، جہاں اللہ کو منظور ہوگا۔ یحییٰ بن جابر کہتے ہیں: عطا ء بن یزید سکسکی نے مجھے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کی روایت سے بیان کیا کہ وہ پرندے یا جوج ماجوج کی لاشوں کو مَھْبَل میں جا پھینکیں گے، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ مَھْبَل کہاں ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا، جو چالیس دن تک جاری رہے گی، اس بارش سے کوئی خیمہ یا کوئی گھر محروم نہیں رہے گا، اللہ تعالیٰ اس بارش کے ذریعے زمین کو اچھی طرح دھو دے گا اور زمین صاف چٹیل پتھر کی طرح صاف ہوجائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین کو حکم دیا جائے گا کہ تو وہ اپنے پھل اگا دے اور اپنی برکات اگل دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان دنوں میں پھلوں اور باقی چیزوں میں اس قدر برکت ہوگی کہ ایک انار کو لوگوں کی بڑی جماعت کھائے گی اور وہ لوگ اس کے چھلکے کے سائے میں بھی بیٹھ سکیں گے اور دودھ میں بھی اس قدر برکت ہوگی کہ ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی بڑی بڑی جماعتوں کو کفایت کرے گی اور ایک گائے کا دودھ بھی ایک جماعت کی ضرورت پوری کرے گا اور ایک بکری کا دودھ ایک گھر والوں کے لیے کافی رہے گا، لوگ اسی طرح خوش حالی کی زندگی گزار رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی بغلوں کے نیچے سے ایک بہترین خوش بو دار قسم کی ہوا چلائے گا، جو ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور صرف بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے اور وہ اس قدر بے حیا ہوں گے کہ گدھوں کی مانند بر سرِعام عورتوں کو استعمال کریں گے، پھر ایسے لوگوں پر قیامت قائم ہو جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں ایک اہم فقہی مسئلے کا بیان بھی ہے کہ زمین کے جن خطوں میں چھ چھ ماہ تک دن یا رات کا وقت رہتاہے، وہاں ہر چوبیس گھنٹوں میں اندازہ کر کے پانچ نمازیں ادا کی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 13013
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي خَفْقَةٍ مِنَ الدِّينِ وَإِدْبَارٍ مِنَ الْعِلْمِ فَلَهُ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً يَسِيحُهَا فِي الْأَرْضِ الْيَوْمُ مِنْهَا كَالسَّنَةِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالشَّهْرِ وَالْيَوْمُ مِنْهَا كَالْجُمُعَةِ ثُمَّ سَائِرُ أَيَّامِهِ كَأَيَّامِكُمْ هَذِهِ وَلَهُ حِمَارٌ يَرْكَبُهُ عَرْضُ مَا بَيْنَ أُذُنَيْهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا فَيَقُولُ لِلنَّاسِ أَنَا رَبُّكُمْ وَهُوَ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ ك ف ر مُهَجَّأَةً يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ يَرِدُ كُلَّ مَاءٍ وَمَنْهَلٍ إِلَّا الْمَدِينَةَ وَمَكَّةَ حَرَّمَهُمَا اللَّهُ عَلَيْهِ وَقَامَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَبْوَابِهَا وَمَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَالنَّاسُ فِي جَهْدٍ إِلَّا مَنْ تَبِعَهُ وَمَعَهُ نَهْرَانِ أَنَا أَعْلَمُ بِهِمَا مِنْهُ نَهْرٌ يَقُولُ الْجَنَّةُ وَنَهْرٌ يَقُولُ النَّارُ فَمَنْ أَدْخَلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ الْجَنَّةَ فَهُوَ النَّارُ وَمَنْ أَدْخَلَ الَّذِي يُسَمِّيهِ النَّارَ فَهُوَ الْجَنَّةُ قَالَ وَيَبْعَثُ اللَّهُ مَعَهُ شَيَاطِينَ تُكَلِّمُ النَّاسَ وَمَعَهُ فِتْنَةٌ عَظِيمَةٌ يَأْمُرُ السَّمَاءَ فَتُمْطِرُ فِيمَا يَرَى النَّاسُ وَيَقْتُلُ نَفْسًا ثُمَّ يُحْيِيهَا فِيمَا يَرَى النَّاسَ لَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا مِنَ النَّاسِ وَيَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ هَلْ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَيَفِرُّ الْمُسْلِمُونَ إِلَى جَبَلِ الدُّخَانِ بِالشَّامِ فَيَأْتِيهِمْ فَيُحَاصِرُهُمْ فَيَشْتَدُّ حِصَارُهُمْ وَيُجْهِدُهُمْ جَهْدًا شَدِيدًا ثُمَّ يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيُنَادِي مِنَ السَّحَرِ فَيَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تَخْرُجُوا إِلَى الْكَذَّابِ الْخَبِيثِ فَيَقُولُونَ هَذَا رَجُلٌ جِنِّيٌّ فَيَنْطَلِقُونَ فَإِذَا هُمْ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَتُقَامُ الصَّلَاةُ فَيُقَالُ لَهُ تَقَدَّمْ يَا رُوحَ اللَّهِ فَيَقُولُ لِيَتَقَدَّمْ إِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ فَإِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ خَرَجُوا إِلَيْهِ قَالَ فَحِينَ يَرَى الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ فَيَمْشِي إِلَيْهِ فَيَقْتُلُهُ حَتَّى إِنَّ الشَّجَرَةَ وَالْحَجَرَ يُنَادِي يَا رُوحَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ فَلَا يَتْرُكُ مِمَّنْ كَانَ يَتْبَعُهُ أَحَدًا إِلَّا قَتَلَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کا ظہور اس وقت ہوگا جب دینی حالت کمزور ہو گی اور علم اٹھ چکا ہوگا، وہ زمین میں چالیس دن گھومے گا، ان میں سے ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، وہ ایک ایسے گدھے پر سوار ہو گاکہ جس کے دو کانوں کے درمیان چالیس ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔ وہ لوگوں سے کہے گا: میں تمہارا رب ہوں، وہ کانا ہوگا، جب کہ تمہارا ربّ کانا نہیں، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یعنی ک ف ر لکھا ہوگا، اس لفظ کو ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا، وہ ہر پانی اور ہر گھاٹ یعنی ہر جگہ پہنچے گا، ماسوائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے، اللہ تعالیٰ نے اِن دونوں حرموں کو اس کے لیے حرام کر دیا ہے، ان دونوں کے دروازوں پر فرشتے حفاظت کے لیے مامور ہیں، دجال کے پاس روٹی کے پہاڑ ہوں گے، اس کی پیروی کرنے والے لوگوں کے علاوہ باقی تمام مسلمان سخت فقرو فاقہ کی حالت میں ہوں گے، اس کے پاس دو نہریں ہوں گی، میں اُن دونوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ ایک نہر کو جنت اور ایک نہر کو جہنم ظاہر کرے گا، لیکن وہ جسے جنت کہے گا اور اس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جہنم ہوگی اور وہ جسے جہنم کہے گا اوراس میں جس کو بھی داخل کرے گا، وہ اس کے لیے جنت ہوگی، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین (جنات) کو بھی بھیجے گا، وہ لوگوں کے ساتھ ہم کلام ہوں گے، لوگوں کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے اس کے پاس ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا، وہ آسمان کو حکم دے گا تو لوگ دیکھ رہے ہوں گے کہ وہ بارش بر سائے گا اور وہ ایک آدمی کو قتل کر کے اسے زندہ بھی کرے گا اور لوگ یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے علاوہ کسی دوسرے آدمی کو قتل کر کے زندہ کرنے کی طاقت نہیں دے گا۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے کہے گا: لوگو! کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی ایسے کام کر سکتا ہے؟ مسلمان ان حالات میں شام میں واقع پہاڑ دخان کی طرف دوڑ جائیں گے، لیکن وہ بھی ادھر جا کر ان کا محاصرہ کرے گا اورسخت محاصرہ کرے گا، وہ لوگ شدید فقر و فاقہ سے دو چار ہوجائیں گے، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور صبح کے وقت یہ آواز دیں گے: لوگو! کیا بات ہے، تم بد ترین کذاب کے مقابلے کے لیے کیوں نہیں نکلتے؟ پہلے تو لوگ سمجھیں گے کہ یہ کسی جن کی آواز ہے، لیکن جب جا کر دیکھیں گے تو وہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے، اتنے میں نماز کی جماعت کھڑی ہو جائے گی اور ان سے کہا جائے گا: اے روح اللہ! آپ آگے تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں، لیکن وہ فرمائیں گے: تمہارا امام ہی آگے آئے اور نماز پڑھائے، وہ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد دجال کی طرف نکلیں گے،جب جھوٹا دجال ان کو دیکھے گا تو وہ پانی میں گھل جانے والے نمک کی طرح گھلنے لگ جائے گا، پھر عیسیٰ علیہ السلام اس کی طرف جا کر اسے قتل کر ڈالیں گے اور حالات مسلمانوں کے حق میں اس حد تک بہتر ہوجائیں گے کہ درخت اور پتھر پکار پکار کر کہیں گے: اے روح اللہ! یہ یہودی یہاں ہے، عیسیٰ علیہ السلام دجال کے ایک ایک پیروکار کو پکڑ پکڑ کر قتل کر دیں گے۔
حدیث نمبر: 13014
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّكَ تَقُولُ إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا قَالَ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ شَيْئًا إِنَّمَا قُلْتُ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا كَانَ تَحْرِيقَ الْبَيْتِ قَالَ شُعْبَةُ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي فَيَلْبَثُ فِيهِمْ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ سَنَةً أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا فَيَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ فَيَظْهَرُ فَيُهْلِكُهُ ثُمَّ يَلْبَثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سِنِينَ سَبْعًا لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّامِ فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ قَالَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا قَالَ فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ أَلَا تَسْتَجِيبُونَ فَيَأْمُرُهُمْ بِالْأَوْثَانِ فَيَعْبُدُونَهَا وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لَهُ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَهُ فَيَصْعَقُ ثُمَّ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا يَصْعَقُ ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ أَوْ يُنْزِلُ اللَّهُ قَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} قَالَ ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ قَالَ فَيُقَالُ كَمْ فَيُقَالُ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعِينَ فَيَوْمَئِذٍ يُبْعَثُ الْوِلْدَانُ شِيبًا وَيَوْمَئِذٍ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ“ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ شُعْبَةُ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یعقوب بن عاصم کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سنا، وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہہ رہا تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ قیامت فلاں وقت تک قائم ہوجائے گی؟ اس کی بات سن کر سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ لوگوں کو کوئی چیز بیان نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ تم کچھ عرصہ بعد ایک بہت بڑا حادثہ دیکھو گے اور وہ بیت اللہ کی آتش زدگی کی صورت میں ظاہر ہو چکا ہے،اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میری امت میں دجال رونما ہوگا اور وہ چالیس رہے گا، یہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چالیس دن کہا یا چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس راتیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، ان کا حلیہ عروہ بن مسعود ثقفی سے ملتا ہو گا، وہ آکر دجال کو قتل کریں گے، اس کے بعد مسلمان سات برس اس طرح گزاریں گے کہ کوئی سے دو مسلمانوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، جس آدمی کے دل میں ذرہ بھر ایمان ہوگا، وہ اس ہوا کی وجہ سے فوت ہو جائے گا، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن مسلمان پہاڑوں کے اندر بھی ہوا تو وہ ہوا وہاں بھی جا پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری بات میں نے رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سنی ہیں، اس کے بعد شریر ترین اور بد ترین لوگ باقی بچ جائیں گے، جن کا طرز عمل اور عقل پرندوں اور درندوں کی سی ہوگی، جو کسی اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرتے ہوں گے۔ شیطان ان کے لیے انسانی شکل میں نمودار ہو کر ان سے کہے گا: تم میری بات کیوں نہیں مانتے، پھر وہ انہیں بتوں کی پوجا پاٹ کا کہے گا، چنانچہ وہ لوگ بتوں کی پرستش شروع کردیں گے۔ ان دنوں ان کے پاس رزق وافر اور زندگی خوش حال ہوگی، اس کے بعد صور پھونکا جائے گا، اس کی دہشت اور اثر اس قدر ہو گا کہ جو بھی اس کی آواز سنے گا وہ وہیں ڈھیر ہوجائے گا، سب سے پہلے اس کی آواز سننے والا آدمی اپنے حوض کی مرمت کر رہا ہو گا اور وہ وہیں گر جائے گا، اس کے بعد سب لوگ گرتے چلے جائیں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ خوب بارش نازل فرمائے گا، اس کے اثر سے لوگوں کے اجسام اگیں گے، اس کے بعد پھر صور پھونکا جائے گا، لوگ دیکھتے بھالتے اٹھ کھڑے ہوں گے، پھر لوگوں سے کہا جائے گا: اپنے ربّ کی طرف آجاؤ، اور فرشتوں سے کہا جائے گا۔ {وَقِفُوْھُمْ اِنَّہُمْ مَسْئُوْلُوْنَ} (سورۂ صافات: ۲۴) (اور انہیں کھڑا کر دو، اب ان سے پوچھ گچھ ہوگی۔)۔ پھر کہا جائے گا کہ جہنم کا حصہ ایک طرف کردو۔ پوچھا جائے گا کہ وہ کتنا ہے؟ جواباً کہا جائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے، اس وقت اس قدر دہشت ہو گی کہ کم سن بچے بوڑھے بن جائیں گے، اور اس دن (اللہ تعالیٰ کی) پنڈلی پر سے حجاب اٹھا لیا جائے گا۔ محمدبن جعفر کہتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث کئی مرتبہ مجھے بیان کی اور میں نے بھی اس کے سامنے اس کی قراء ت کی۔
وضاحت:
فوائد: … راوی کو شبہ ہو رہا ہے کہ چالیس سال ہیں یا مہینے یا دن، لیکن پیچھے گزر جانے والی احادیث میں یہ وضاحت گزر چکی ہے کہ وہ چالیس دن قیام کرے گا، لیکن اس کا ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔
حدیث نمبر: 13015
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ لِي ”مَا يُبْكِيكِ“ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَكَرْتُ الدَّجَّالَ فَبَكَيْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ يَخْرُجِ الدَّجَّالُ وَأَنَا حَيٌّ كَفَيْتُكُمُوهُ وَإِنْ يَخْرُجِ الدَّجَّالُ بَعْدِي فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ إِنَّهُ يَخْرُجُ فِي يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَيَنْزِلُ نَاحِيَتَهَا وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ شِرَارُ أَهْلِهَا يَأْتِي الشَّامَ مَدِينَةً بِفِلَسْطِينَ بِبَابِ لُدٍّ“ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ مَرَّةً ”حَتَّى يَأْتِيَ فِلَسْطِينَ بَابَ لُدٍّ“ ”فَيَنْزِلُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يَمْكُثُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً إِمَامًا عَدْلًا وَحَكَمًا مُقْسِطًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، میں اس وقت رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا بات ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول ! دجال کا فتنہ یاد آنے پر رو رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میری زندگی میں دجال آ گیا تو میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہاری طرف سے کافی ہوں گا اور اگر وہ میرے بعد نمودار ہوا تو اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے گا اور یاد رکھو کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، وہ اصبہان کے یہودیوں میں ظاہر ہوگااور مدینہ منورہ کی طرف آ کر اس کے ایک کنارے پر اترے گا، ان دنوں مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے، اس کی حفاظت کے لیے ہر دروازے پر دو دو فرشتے مامور ہوں گے، مدینہ منورہ کے بد ترین لوگ نکل کر اس کے ساتھ جا ملیں گے، پھر وہ شا م میں فلسطین شہر کے بَابِ لُدّ کے پاس جائے گا، اتنے میں عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوکر اسے قتل کر دیں گے، اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام زمین پر ایک عادل اور مصنف حکمران کی حیثیت سے چالیس برس گزاریں گے۔