کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دجال کے ظہور کی خبر دینے اور اس کی جائے ظہور، اوصاف، پیروکار، فتنے اور اس سے ڈرانے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 12978
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَكُونَنَّ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ وَكَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ أَوْ أَكْثَرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قیامت سے قبل مسیح دجال کا ظہور ہو گا اور اس کے علاوہ تیس یا اس سے زیادہ کذاب بھی آئیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … دجال سے پہلے آنے والے جھوٹوں سے مراد جھوٹے مدعیانِ نبوت ہیں، ملاحظہ ہو حدیث نمبر(۱۲۸۳۲)
حدیث نمبر: 12979
عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”أَنَّ الدَّجَّالَ يَخْرُجُ مِنْ أَرْضٍ بِالْمَشْرِقِ يُقَالُ لَهَا خُرَاسَانُ، يَتْبَعُهُ أَقْوَامٌ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی جہت میں واقع خراسان نامی جگہ سے دجال نمودار ہوگا اور ایسے لوگ اس کی پیروی کریں گے جن کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … امام عبدا لرحمن مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ماوراء النہر اور عراق کے علاقوں کے درمیان خراسان کے معروف علاقے ہیں۔ اب ہرات کو خراسان کہتے ہیں، جس کا بیشتر حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی میں مذکورہ خراسان کاہے، بالکل ایسے ہی سمجھیں جیسے دمشق کو شام کہتے ہیں۔ (حالانکہ احادیث میں مذکورہ شام جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ ہے، جوموجودہ شام، انطاکیہ سمیت، اردن اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل ہے۔) رہا مسئلہ اس کی پیروی کرنے والے اس حدیث میںمذکورہ لوگوں کا، تو یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔
حدیث نمبر: 12980
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَأْتِي الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ، ثُمَّ تُصَرِّفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ، وَهُنَاكَ يَهْلِكُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کا ہدف مدینہ منورہ ہوگا، لیکن جب وہ احد پہاڑ کے پیچھے پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی سر زمین کی طرف موڑ دیں گے اور وہ وہیں ہلاک ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 12981
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خُوزَ وَكِرْمَانَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا، وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال ستر ہزار افراد کے ساتھ خوز اور کرمان کے علاقوں میں جاکر ٹھہرے گا، اس کا ساتھ دینے والوں کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12982
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَنْزِلُ الدَّجَّالُ فِي هَذِهِ السَّبَخَةِ بِمَرِّ قَنَاةٍ، فَيَكُونُ أَكْثَرُ مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْجِعُ إِلَى حَمِيمِهِ وَإِلَى أُمِّهِ وَابْنَتِهِ وَأُخْتِهِ وَعَمَّتِهِ فَيُوثِقُهَا رِبَاطًا مَخَافَةَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّطُ اللَّهُ الْمُسْلِمِينَ عَلَيْهِ، فَيَقْتُلُونَهُ وَيَقْتُلُونَ شِيعَتَهُ، حَتَّى إِنَّ الْيَهُودِيَّ يَخْتَبِئُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَوِ الْحَجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرَةُ لِلْمُسْلِمِ: هَذَا يَهُودِيٌّ تَحْتِي فَاقْتُلْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال مدینہ منورہ کے قریب وادیٔ قناۃ کے بہاؤ والی جگہ میں شور زدہ جگہ میں آکر ٹھہرے گا، اس کی طرف جانے والوں میں اتنی زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی کہ ایک آدمی اپنے رشتہ داروں، ماں، بیٹی ، بہن، پھوپھی وغیرہ کی طرف جا کر ان کو مضبوطی سے باندھ دے گا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ ان میں سے کوئی دجال کی طرف چلی جائے، پھراللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر غلبہ عطا کرے گا اور وہ اس کو اور اس کی حمایت کرنے والوں کو قتل کریں گے، یہاں تک کہ جب کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے جا کر چھپے گا تو وہ پتھر یادرخت بول کر مسلمان سے کہے گا: یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، تم اسے قتل کردو۔
حدیث نمبر: 12983
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ يَهُودِيَّةِ أَصْبَهَانَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ، عَلَيْهِمُ السِّيجَانُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال اصبہان کی یہودیوں کی بستی سے ظاہر ہوگا، اس کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، انھوں نے سبز رنگ کی شالیں کندھوں پر ڈال رکھی ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … یہودیوں کا ماضی بھی حق کی مخالفت سے بھر پڑا ہے اور مستقبل کا یہ حال ہے۔
حدیث نمبر: 12984
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْيَنَأْ مِنْهُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَلَا يَزَالُ بِهِ لِمَا مَعَهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ حَتَّى يَتَّبِعَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی دجال کی آمد کے بارے میں سنے تو وہ اس سے دور دور رہے، کیونکہ اپنے آپ کو مومن سمجھنے والا جب اس کے پاس آئے گا تو اس کے شبہات کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے لگ جائے گا۔
حدیث نمبر: 12985
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَشْرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَلَقٍ مِنْ أَفْلَاقِ الْحَرَّةِ وَنَحْنُ مَعَهُ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”نِعْمَتِ الْأَرْضُ الْمَدِينَةُ إِذَا خَرَجَ الدَّجَّالُ، عَلَى كُلِّ نِقَبٍ مِنْ أَنْقَابِهَا مَلَكٌ لَا يَدْخُلَهَا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ رَجَفَتِ الْمَدِينَةُ بِأَهْلِهَا ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ، لَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ وَأَكْثَرُ يَعْنِي مَنْ يَخْرُجُ إِلَيْهِ النِّسَاءُ وَذَلِكَ يَوْمُ التَّخْلِيصِ، وَذَلِكَ يَوْمٌ تَنْفِي الْمَدِينَةُ الْخَبَثَ كَمَا تَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ، يَكُونُ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْيَهُودِ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ سَاجٌ وَسَيْفٌ مُحَلًّى فَتُضْرَبُ رَقَبَتُهُ بِهَذَا الضَّرْبِ الَّذِي عِنْدَ مُجْتَمَعِ السُّيُولِ“ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا كَانَتْ فِتْنَةٌ وَلَا تَكُونُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ أَكْبَرَ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَلَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ، وَلَأُخْبِرَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مَا أَخْبَرَهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ قَبْلِي“ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى عَيْنِهِ ثُمَّ قَالَ: ”أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرّہ کی ایک ہموار جگہ کی طرف جھانکا، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ منورہ کی سر زمین بہت اچھی ہے، جب دجال کا ظہور ہوگا تو اس کے ہر راستے پر ایک فرشتہ ہوگا، اس وجہ سے وہ اس میں داخل نہیں ہو سکے گا، جب وہ وقت آئے گا تو مدینہ منورہ اپنے اوپر موجودہ لوگوں کو تین مرتبہ جھٹکے دے گا، اس وجہ سے ہر منافق مرد او رعورت نکل کر دجال کی طرف چلا جائے گا، اس کی طرف جانے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی، وہ یَوْمُ التَّخْلِیْصِ ہوگا، اس دن مدینہ اپنے اندر موجود خبیث لوگوں کو اس طرح الگ کردے گا، جیسے آگ لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے، دجال کے ساتھ ستر ہزار یہودی ہوں گے، ہر ایک پر ایک مخصوص تاج اور ہر ایک کے پاس خوبصورت تلوار ہوگی، اس کو سیلابوں کے جمع ہونے والی وادی میں قتل کر دیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ آج تک ایسا فتنہ برپا ہوا اور نہ قیامت تک ہو گا، جو دجال کے فتنے سے سنگین ہو، ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس دجال سے ڈرایا ہے، لیکن میں تمہیں اس کی ایسی علامت بتلاتا ہوں کہ جو مجھ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتلائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ آنکھ پر رکھ کر فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12986
وَعَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ ”يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ“ ثَلَاثًا فَقِيلَ لَهُ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ قَالَ ”يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَصْعَدُ أُحُدًا فَيَنْظُرُ الْمَدِينَةَ فَيَقُولُ لِأَصْحَابِهِ مَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ هَذَا مَسْجِدُ أَحْمَدَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكًا مُصَلِّتًا فَيَأْتِي سَبْخَةَ الْجُرْفِ فَيَضْرِبُ رُوَاقَهُ ثُمَّ تَرْجُفَ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَلَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ فَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ خلاصی کا دن، بھلا وہ خلاصی کا دن کون سا ہے؟ خلاصی کا دن، وہ خلاصی کا دن کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ پھر کسی نے پوچھا: خلاصی کے دن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال آ کر احد پر چڑھ جائے گا اور مدینہ منورہ کی طرف دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے کہے گا: تم اس سفید محل کو کیا سمجھتے ہو؟ یہ تو احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجدہے، پھر وہ مدینہ کی طرف پیش قدمی کرے گا، لیکن وہ مدینہ کے ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو دیکھ کر شور والی زمین کی طرف آ جائے گا اور اس کے سامنے والے حصے پر ضرب لگائے گا، پھر مدینہ منورہ (زلزلہ کی طرح) تین جھٹکے لے گا، اس طرح ہر منافق اور فاسق مردو زن، سب نکل کر اس کے پاس چلے جائیں گے، یہ خلاصی کا دن ہو گا۔
حدیث نمبر: 12987
وَعَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ يُقِرُّ الْخَوَارِجُ بِالدَّجَّالِ فَقُلْتُ لَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي خَاتَمُ أَلْفِ نَبِيٍّ وَأَكْثَرَ مَا بُعِثَ نَبِيٌّ يُتَّبَعُ إِلَّا قَدْ حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ وَإِنِّي قَدْ بُيِّنَ لِي مِنْ أَمْرِهِ مَا لَمْ يُبَيَّنْ لِأَحَدٍ وَإِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَعَيْنُهُ الْيُمْنَى عَوْرَاءُ جَاحِظَةٌ وَلَا تَخْفَى كَأَنَّهَا نُخَامَةٌ فِي حَائِطٍ مُجَصَّصٍ وَعَيْنُهُ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ مَعَهُ مِنْ كُلِّ لِسَانٍ وَمَعَهُ صُورَةُ الْجَنَّةِ خَضْرَاءُ يَجْرِي فِيهَا الْمَاءُ وَصُورَةُ النَّارِ سَوْدَاءُ تَدْخَنُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو و دک سے روایت ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا خوارج دجال کے ظہور کا اقرار کرتے ہیں؟ میں نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ہزار بلکہ اس سے زائد نبیوں کے بعد آیا ہوں، ہر نبی، جس کی پیروی کی گئی، نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، لیکن مجھے اس کی ایسی ایسی علامتیں بیان کی گئی ہیں جو کسی دوسرے نبی کو نہیں بتلائیں گئی تھیں، (یاد رکھو کہ) دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے،دجال کی داہنی آنکھ بھینگی اور اس طرح نمایاں ہوگی جیسے کسی چونہ گچ دیوار پر بلغم یا کھنکار کا نشان ہو اور اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے تارے کی مانند ہوگی، ہر زبان بولنے والے اس کے ساتھ ہوں گے، اس کے پاس جنت کے مشابہ سرسبز باغ ہوگا، جس میں پانی بہہ رہا ہوگا اور جہنم کے مشابہ بھی ایک سیاہ چیز ہو گی، جو دھواں چھوڑ رہی ہو گی۔
حدیث نمبر: 12988
وَعَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا وَقَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ وَالْآخَرُ نَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَشْبَهَانِ نَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُهُمَا بِأَسْمَائِهِمَا وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمَا وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ أَلَسْتُ أُحْيِي وَأُمِيتُ فَيَقُولُ لَهُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ كَذَبْتَ مَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ إِلَّا صَاحِبُهُ فَيَقُولُ لَهُ صَدَقْتَ فَيَسْمَعُهُ النَّاسُ فَيَظُنُّونَ إِنَّمَا يُصَدِّقُ الدَّجَّالَ وَذَلِكَ فِتْنَةٌ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ فَلَا يُوذَنُ لَهُ فِيهَا فَيَقُولُ هَذَا قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: مجھ سے قبل جو نبی بھی آیا، اس نے اپنی امت کو دجال سے خبردار کیا ہے، وہ بائیں کانی آنکھ والا ہوگا اور اس کی دائیں آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِر کا لفظ لکھا ہوگا، اس کے پاس دو وادیاں ہوں گی، ایک اس کی جنت اور دوسری اس کی جہنم ہوگی، مگر اس کی جہنم درحقیقت جنت اور اس کی جنت درحقیقت جہنم ہوگی، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے، جو دو نبیوں کے ہم شکل ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بیان کرسکتا ہوں، ایک دائیں طرف ہوگا اور دوسرا بائیں طرف، یہ بھی ایک آزمائش ہوگی، دجال لوگوں سے کہے گا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندہ کرنے اور مارنے پر قادر نہیں ہوں؟ ایک فرشتہ کہے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، اس بات کو صرف دوسرا فرشتہ ہی سن سکے گا، لوگوں میں سے کوئی نہیں سنے گا، اس کی بات سن کر دوسرا فرشتہ کہے گا: تو نے سچ کہا، اس بات کولوگ سنیں گے تو سہی، لیکن وہ سمجھیں گے کہ وہ فرشتہ دجال کی بات کی تصدیق کر رہا ہے، یہ بھی لوگوں کے لیے ایک آزمائش ہوگی، پھر دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا، لیکن اسے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، وہ کہے گا کہ یہ تو اس آدمی کا شہر ہے، پھر وہ وہاں سے چلے گا اور شام کی سرزمین میں پہنچ جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے وہاں اَفِیْق کی گھاٹی میں ہلاک کرے گا۔
حدیث نمبر: 12989
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْأَزْدِيِّ قَالَ ذَهَبْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الدَّجَّالِ وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِهِ وَإِنْ كَانَ مُصَدَّقًا قَالَ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَنْذَرْتُكُمُ الدَّجَّالَ ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ وَإِنَّهُ فِيكُمْ أَيُّتُهَا الْأُمَّةُ وَإِنَّهُ جَعْدٌ آدَمُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ وَمَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ وَنَهْرٌ مِنْ مَاءٍ وَإِنَّهُ يُمْطِرُ الْمَطَرَ وَلَا يَنْبُتُ الشَّجَرُ وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ فَيَقْتُلُهَا وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهَا وَإِنَّهُ يَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا يَبْلُغُ فِيهَا كُلَّ مَنْهَلٍ وَلَا يَقْرُبُ أَرْبَعَةَ مَسَاجِدَ مَسْجِدَ الْحَرَامِ وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ الطُّورِ وَمَسْجِدَ الْأَقْصَى وَمَا يَشْبَهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جنادہ بن ابی امیہ ازدی کہتے ہیں: میں اور ایک انصاری شخص، ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ہم نے ان سے کہا:آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دجال کے متعلق سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں، آپ نے کسی اور سے بیان نہیں کرنا، اگرچہ وہ تصدیق شدہ ہو، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا: میں تمہیں دجال سے با خبر کر چکاہو، یہ جملہ تین دفعہ فرمایا، مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے، لیکن اے میری امت! وہ تم میں نکلے گا، اس کے بال گھنگریالے اور اس کا رنگ گندمی ہو گا اور اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، اس کے پاس ایک جنت ہو گی اور ایک جہنم۔ لیکن حقیقت میں اس کی جہنم ،جنت ہو گی اور اس کی جنت ،جہنم ہوگی۔ اس کے پاس روٹیوں کا ایک پہاڑ ہوگا اور پانی کی ایک نہرہوگی، وہ بارش برسا کر دکھائے گا، لیکن اس سے درخت نہیں اگیں گے، اسے ایک آدمی کو قتل کرنے کی طاقت دی جائے گی، اس کے سوا اس کو اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی، وہ زمین میں چالیس دن گزارے گا اور ہر ہر جگہ پہنچے گا، البتہ اِن چار مساجد کے قریب نہیں جا سکے گا: مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد طور اور مسجد اقصیٰ۔ وہ تمہیں جتنے شبہات میں بھی ڈال دے، تم یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12990
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ ”وَيُسَلَّطُ عَلَى رَجُلٍ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى غَيْرِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) اسی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ اس طرح ہیں: دجال کو ایک آدمی پر اس طرح مسلط کیا جائے گا کہ وہ اسے قتل کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر سکے گا، اس کے بعد اسے اس قسم کی طاقت نہیں دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 12991
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الشِّمَالِ عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ غَلِيظَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ أَوْ قَالَ كُفْرٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا،اس کی اس آنکھ پر موٹی سی جھلی ہو گی اور اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ یا کُفْرٌ۔ لکھا ہو گا۔
حدیث نمبر: 12992
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”الدَّجَّالُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٌ وَغَيْرُ كَاتِبٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کانا ہو گا اور تمہارا ربّ کانا نہیں ہے، اس کی آنکھوں کے درمیان کَافِرٌ لکھا ہوا ہوگا، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن پڑھ لے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے اپنی آنکھوں کے بارے میں فرمایا: {وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔} … اللہ کے حکم کے مطابق صبر کر، بلا شبہ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ (سورۂ طور: ۴۸)
ہم اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عین (آنکھ) کو تسلیم کرتے ہیں، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، جیسا کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا ایمان ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عین (آنکھ) کو تسلیم کرتے ہیں، جیسے اس کی شان کے لائق ہے، جیسا کہ اہل السنۃ والجماعۃ کا ایمان ہے۔
حدیث نمبر: 12993
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَصَفَ الدَّجَّالَ لِأُمَّتِهِ وَلَأَصِفَنَّهُ صِفَةً لَمْ يَصِفْهَا أَحَدٌ كَانَ قَبْلِي إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو متنبہ کرنے کے لیے دجال کی صفات بیان کیں، لیکن میں اس کی ایسی صفت بیان کروں گا، جو کسی نبی نے بیان کی اور وہ یہ ہے کہ وہ کانا ہو گا اور بیشک اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12994
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ تَمَامًا وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ”لَيْسَ بِأَعْوَرَ عَيْنُهُ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ انھوں نے وہ کانا ہے کے الفاظ کے بعد یہ اضافی الفاظ بیان کیے ہیں: اس کی دائیں آنکھ یوں ہوگی، جیسے خوشۂ انگور میں ابھرا ہوا دانہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 12995
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ فَذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ ”إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَوْمَهُ وَلَكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑ ے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے شایان شان حمد و ثنا بیان کی اور پھرفرمایا: میں تمہیں اُس دجال سے ڈراتا ہوں اور ہر نبی نے اپنی قوم کو اس سے خبردار کیا، حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تم سے اس کے متعلق ایسی بات بتلاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت سے نہیں کہی، تمہیں علم ہونا چاہیے کہ وہ کانا ہے اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12996
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ وَإِنِّي أُنْذِرْكُمُوهُ“ قَالَ فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ”وَلَعَلَّهُ يُدْرِكُهُ بَعْضُ مَنْ رَآنِي أَوْ سَمِعَ كَلَامِي“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ قَالَ ”أَوْ خَيْرٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کے بعد آنے والے ہر نبی نے اپنی اپنی قوم کو دجال سے خبردا رکیا اور میں بھی تمہیں اس سے باخبر کرتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں ہمیں بتاتے ہوئے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ مجھے دیکھنے والا یا میری بات سننے والا کوئی آدمی بھی اسے پا لے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان دنوں ہمارے دلوں کی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا ایسی جیسے آج کل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اس سے بہتر؟
وضاحت:
فوائد: … جو آدمی جسمانی آزمائشوں کی پروا کیے بغیر اور دجال کے شعبدوں کو جھٹلاتے ہوئے فتنۂ دجال کا مقابلہ کر کے اپنے دین پر برقرار رہے گا، وہ راسخ الایمان ہو گا۔
حدیث نمبر: 12997
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الدَّجَّالِ ”أَعْوَرُ هِجَانٌ أَزْهَرُ كَأَنَّ رَأْسَهُ أَصَلَةٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِعَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قَطَنٍ فَأَمَّا هَلَكَ الْهُلَّكُ فَإِنَّ رَبَّكُمْ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ“ قَالَ شُعْبَةُ فَحَدَّثْتُ بِهِ قَتَادَةَ فَحَدَّثَنِي بِنَحْوٍ مِنْ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا: وہ کانا ہو گا ،اس کا رنگ چمکیلا سفید ہوگا، اس کا سر پھونک سے مار ڈالنے والے زہریلے سانپ کی طرح ہو گا، وہ لوگوں میں عبدالعزی بن قطن کے زیادہ مشابہ ہوگا،اگر (اس کے شبہات کی وجہ سے) ہلاک ہونے والے ہلاک ہونے لگیں تو یاد رکھنا کہ تمہارا ربّ کانا نہیں ہے۔ امام شعبہ کہتے ہیں کہ جب میں نے یہی حدیث امام قتادہ کو بیان کی تو انہوں نے بھی مجھے ایسی ہی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 12998
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَقَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ وَمَشَى فِي الْأَسْوَاقِ يَعْنِي الدَّجَّالَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال (لوگوں کی طرح) کھانا کھائے گا اور) بازاروں میں چلے گا۔
حدیث نمبر: 12999
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رَأَيْتُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي وَجْهَهَا رَجُلًا آدَمَ سَبْطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ أَوِ الْمَسِيحُ بْنُ مَرْيَمَ وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى جَعْدَ الرَّأْسِ أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنَ قَطَنٍ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے کعبہ کے دروازے کے قریب ایک آدمی دیکھا، اس کی رنگت گندمی، سر کے بال قدرے خمدار، دو آدمیوں پر اپنا ہاتھ رکھے ہوا تھا، اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟فرشتوں نے کہا: یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ پھرمیں نے ان کے پیچھے ایک اور آدمی کو دیکھا، وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کے سر کے بال گھنگریالے تھے، میں نے جو لوگ دیکھے ہیں ان میں ابن قطن اس سے مشابہ ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حدیث نمبر: 13000
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالُوا إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ مَا تَقُولُونَ قَالَ يَقُولُونَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَلِكَ وَلَكِنْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَّا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ وَأَمَّا مُوسَى فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہد کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر چھیڑ دیا اورکہا: اس کی آنکھوں کے درمیانی یعنی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوگا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو؟ انھوں نے کہا: ہم کہہ رہے ہیں کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ک ف ر لکھا ہوگا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ نہیں سنا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ: اگر ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا چاہتے ہو تو مجھے دیکھ لو اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور گھنگریالے بالوں والے تھے، میں دیکھتا ہوں کہ کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی وہ مہار والے ایک سرخ اونٹ پر سوار تلبیہ کہتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 13001
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنِّي قَدْ حَدَّثْتُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ لَا تَعْقِلُوا، إِنَّ مَسِيحَ الدَّجَّالِ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَفْحَجُ جَعْدٌ أَعْوَرُ مَطْمُوسُ الْعَيْنَيْنِ لَيْسَ بِنَاتِئَةٍ وَلَا حَجْزَاءَ فَإِنْ أُلْبِسَ عَلَيْكُمْ“ قَالَ يَزِيدُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ): ”رَبُّكُمْ، فَاعْلَمُوا أَنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ وَإِنَّكُمْ لَنْ تَرَوْا رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تَمُوتُوا“ قَالَ يَزِيدُ: ”تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم لوگوں کو دجال کے متعلق بتا تو چکا ہوں، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے پہچان ہی نہ سکو۔ (یاد رکھنا کہ) مسیح دجال پست قامت ہوگا، اس کے پیروں کا اگلا حصہ قریب اور ایڑیاں دور ہوں گی،اس کے بال گھنگریالے ہوں گے، اس کی آنکھ اس طرح مٹی ہوئی ہوگی کہ وہ نہ تو ابھری ہوئی ہوگی اور نہ اندر کو دھنسی ہوئی، اگر پھر بھی معاملہ تم پر خلط ملط ہونے لگے تو جان لو کہ تمہارا ربّ کانا بھی نہیں ہے اور تم مرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔