کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ابن صیاد کے خلافِ عادت امور کا بیان
حدیث نمبر: 12964
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ ابْنَ صَائِدٍ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ فَقَالَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”صَدَقَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا: وہ سفید رنگ کی ملائم مٹی اور خالص کستوری والی ہے۔ یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ ابن صیاد نے یہ جواب یہودیوں کے مذہبی ادب کی روشنی میں دیا ہویا کہانت کی مدد سے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12964
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2928، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11409»
حدیث نمبر: 12965
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ ”مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا: تجھے کیا چیز دکھائی دیتی ہے؟ اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں، جس کے ارد گرد سانپ ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کے الفاظ درج ذیل ہیں: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَقِیَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ ہُوَ: أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ، مَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((تَرٰی عَرْشَ إِبْلِیسَ عَلَی الْبَحْرِ، وَمَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی صَادِقَیْنِ وَکَاذِبًا أَوْ کَاذِبَیْنِ وَصَادِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لُبِسَ عَلَیْہِ دَعُوہُ۔)) … مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستہ میں ابن صیاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدناابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی ملاقات ہوگئی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایمان لایا اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر، اچھا یہ بتا کہ تو کیا کچھ دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں نے پانی پر تخت دیکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھتا ہے، تو مزید کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر اس کا معاملہ مشتبہ کر دیاگیا ہے، سو اس کو چھوڑ دو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12965
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابويعلي: 1220، وأخرجه بنحوه مطولا مسلم: 2925 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11652»
حدیث نمبر: 12966
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12966
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده علي شرط مسلم، وھو حديث طويل، أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 2942، وأخرجه باخصر مما ھنا مسلم: 2926 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14955 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15018»
حدیث نمبر: 12967
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ ذُكِرَ ابْنُ صَيَّادٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ يَزْعَمُ أَنَّهُ لَا يَمُرُّ بِشَيْءٍ إِلَّا كَلَّمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ابن صیاد کا ذکر کیاگیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جس چیز کے پاس سے گزرے، وہ اس سے کلام کرتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12967
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وعبد المتعال بن عبد الوھاب الانصاري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11775»
حدیث نمبر: 12968
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا يَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس برس تک اولاد نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوگا،وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، جب وہ سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … علامہ ابن اثیر نے النہایہ میں کہا: ابن صیاد ایک یہودی تھا یا ان کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا، اس کا نام صاف کہا گیا ہے، اس کے پاس کہانت اور جادو کا علم تھا اور یہ اپنے وقت میں اللہ کے ایمان دار بندوں کے لیے ایک امتحان تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے، دلیل کے ساتھ زندہ رہے، اکثر کہتے ہیں کہ یہ مدینے میںمرا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعہ حرہ کے موقع پر اسے گم پایا گیا اور پھر ملا نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12968
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ومؤمل بن اسماعيل، أخرجه الترمذي: 2248 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20794»