حدیث نمبر: 12962
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا فِي جَيْشٍ مِنَ الْمَدِينَةِ قِبَلَ هَذَا الْمَشْرِقِ قَالَ فَكَانَ فِي الْجَيْشِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ وَكَانَ لَا يُسَايِرُهُ أَحَدٌ وَلَا يُرَافِقُهُ وَلَا يُوَاكِلُهُ وَلَا يُشَارِبُهُ وَيُسَمُّونَهُ الدَّجَّالَ فَبَيْنَمَا أَنَا ذَاتَ يَوْمٍ نَازِلٌ فِي مَنْزِلٍ لِي إِذْ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَيَّادٍ جَالِسًا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَيَّ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ النَّاسُ لَا يُسَايِرُنِي أَحَدٌ وَلَا يُرَافِقُنِي أَحَدٌ وَلَا يُشَارِبُنِي أَحَدٌ وَلَا يُوَاكِلُنِي أَحَدٌ وَيَدَّعُونِي الدَّجَّالَ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنْتَ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ“ وَإِنِّي وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ الدَّجَّالَ لَا يُولَدُ لَهُ“ وَقَدْ وُلِدَ لِي فَوَاللَّهِ لَقَدْ هَمَمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ بِي هَؤُلَاءِ النَّاسُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا فَأَخْلُوَ فَأَجْعَلَهُ فِي عُنُقِي فَأَخْتَنِقَ فَأَسْتَرِيحَ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّاسِ وَاللَّهِ مَا أَنَا بِالدَّجَّالِ وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ شِئْتَ لَأَخْبَرْتُكَ بِاسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاسْمِ أُمِّهِ وَاسْمِ الْقَرْيَةِ الَّتِي يَخْرُجُ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم ایک لشکرمیں مشرق کی جانب واقع ایک شہر سے آئے، اس لشکر میں عبداللہ بن صیاد بھی تھا، کوئی آدمی نہ اس کے ساتھ چلتا تھا، نہ بیٹھتا تھا اور نہ اس کے ساتھ کھانا پینا پسند کرتا تھا اور لوگ اسے دجال کہتے تھے۔ میں ایک دن اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ عبداللہ بن صیاد نے مجھے دیکھ لیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا اورکہنے لگا: ابو سعید ! لوگ میرے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں، تم دیکھتے ہی ہو، کوئی میرے ساتھ چلنا، بیٹھنا اور کھانا پینا پسند نہیں کرتا اور کہتے بھی مجھے دجال ہیں، ابو سعید! آپ تو جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: دجال مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ جبکہ میری تو ولادت ہی مدینہ میں ہوئی اور آپ یہ بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکے ہیں کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی۔ جبکہ میری تو اولاد بھی ہے، اللہ کی قسم! لوگوں کا یہ رویہ دیکھ کر میں نے ارادہ کیا ہے کہ کسی خلوت والی جگہ جا کر ایک رسی اپنے گلے میں ڈالوں اور اسے گھونٹ دوں اور لوگوں کی باتوں سے راحت پالوں۔ اللہ کی قسم ! میں دجال نہیں ہوں۔ اللہ کی قسمْ اگر تم چاہتے ہو تومیں تم لوگوں کو اس کا ، اس کے والد اور والدہ کے ناموں سے اور جس بستی سے اس کا ظہور ہوگا، اس بستی کے نام سے آپ کو آگاہ کر دیتا ہوں۔
حدیث نمبر: 12963
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ حَجَجْنَا فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ وَجَاءَ ابْنُ صَائِدٍ فَنَزَلَ فِي نَاحِيَتِهَا فَقُلْتُ مَا صَبَّ اللَّهُ هَذَا عَلَيَّ قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَا أَلْقَى مِنَ النَّاسِ يَقُولُونَ لِي إِنِّي الدَّجَّالُ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الدَّجَّالُ لَا يُولَدُ لَهُ وَلَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ“ قَالَ قُلْتُ بَلَى وَقَالَ قَدْ وُلِدَ لِي وَقَدْ خَرَجْتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَكَأَنِّي رَقَّقْتُ لَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِمَكَانِهِ لَأَنَا قَالَ قُلْتُ تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم حج کے لیے گئے اورراستے میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرے، ابن صائد بھی آکر اس درخت کے نیچے ایک طرف بیٹھ گیا، میں نے کہا: یہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا مصیبت ڈال دی ہے۔ اس نے کہا: ابو سعید! مجھے لوگوں کی طرف سے کس قدر تکلیف دہ باتیں سننا پڑتی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ: دجال کی اولاد نہیں ہوگی اور وہ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں نہیں جا سکے گا۔ میں نے کہا: جی کیوں نہیں۔ پھر اس نے کہا: میری تو اولاد بھی ہے اور اب میں مدینہ سے نکلا اور مکہ مکرمہ کی طرف جا کر رہوں گا۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: پس اس کی باتین سن کر میرا دل اس کے لیے نرم ہوگیا۔ پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کی جائے ظہور کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں۔ تو یہ سن کر میں نے کہا: سارا دن تیرے لیے بربادی ہو۔