کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ابن صیاد کے بارے میں اس طرح اہتمام کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مخفی انداز میں اس کی طرف جانا اور اس کی باتیں سننے کی کوشش کرنا اور اس کی ماں کو خبردار کرنا
حدیث نمبر: 12959
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَا النَّخْلَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ عَنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا زَمْزَمَةٌ قَالَ فَرَأَتْ أُمُّهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَثَارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اس نخلستان میں گئے، جہاں ابن صیاد موجود تھا، جب باغ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوشیدہ طور پر اس کی باتیں سننے کے لیے کھجوروں کے تنوں کے پیچھے چھپ چھپ کر اس کی طرف بڑھنے لگے، تاکہ قبل اس کے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کچھ سن سکیں، جبکہ وہ (ابن صیاد) ایک چادر اوڑھے اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی گنگناہٹ کی آواز آ رہی تھی، لیکن جب اس کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجوروں کے تنوں کے پیچھے چھپ رہے ہیں، تو اس نے آواز دی: ارے صاف! (یہ اس کا نام تھا) یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ یہ سن کر وہ جھٹ سے اٹھ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اسے خبردار نہ کرتی تو وہ اپنی باتوں سے اپنی حقیقت واضح کر دیتا۔
حدیث نمبر: 12960
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْيَهُودِ وَلَدَتْ غُلَامًا مَمْسُوحَةً عَيْنُهُ طَالِعَةً نَاتِئَةً فَأَشْفَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكُونَ الدَّجَّالُ فَوَجَدَهُ تَحْتَ قَطِيفَةٍ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ فَقَالَ ”فَلُبِّسَ عَلَيْهِ“ فَقَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ فَقَالَ هُوَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ“ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَهُ ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فَوَجَدَهُ فِي نَخْلٍ لَهُ يُهَمْهِمُ فَآذَنَتْهُ أُمُّهُ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ“ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَطْمَعُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَيَعْلَمَ هُوَ هُوَ أَمْ لَا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ“ فَلُبِّسَ عَلَيْهِ ثُمَّ خَرَجَ فَتَرَكَهُ ثُمَّ جَاءَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَأَنَا مَعَهُ فَبَادَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَيْدِينَا وَرَجَا أَنْ يَسْمَعَ مِنْ كَلَامِهِ شَيْئًا فَسَبَقَتْهُ أُمُّهُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا أَبُو الْقَاسِمِ قَدْ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا لَهَا قَاتَلَهَا اللَّهُ لَوْ تَرَكَتْهُ لَبَيَّنَ“ فَقَالَ ”يَا ابْنَ صَائِدٍ مَا تَرَى“ قَالَ أَرَى حَقًّا وَأَرَى بَاطِلًا وَأَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ قَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ“ فَلُبِّسَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا ابْنَ صَائِدٍ إِنَّا قَدْ خَبَأْنَا لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ“ قَالَ الدُّخُّ الدُّخُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ اخْسَأْ“ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ائْذَنْ لِي فَأَقْتُلَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ يَكُنْ هُوَ فَلَسْتَ صَاحِبَهُ إِنَّمَا صَاحِبُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَإِلَّا يَكُنْ هُوَ فَلَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْتُلَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعَهْدِ“ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُشْفِقًا أَنَّهُ الدَّجَّالُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ کی ایک یہودی عورت نے ایک بچہ جنم دیا، اس کی ایک آنکھ مٹی ہوئی تھی اور وہ اوپر کی طرف ابھری ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندیشہ ہوا کہ یہی دجال ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا کہ اس نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی اور اس کی گنگناہٹ کی آواز بھی آرہی تھی، لیکن اس کی ماں نے اسے متنبہ کرتے ہوئے کہا: اے عبد اللہ! یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ گئے ہیں،ـ تو ان کی طرف جا، پس وہ چادر کے نیچے سے نکل کرآ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کو کیا تھا؟ اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اسے اسی طرح لیٹا رہنے دیتی تو وہ خود ہی اپنی باتوں سے اپنی اصلیت کو واضح کر دیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن صائد! تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق بھی دیکھتا ہوں اور باطل بھی دیکھتا ہوں اور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر تو معاملہ خلط ملط کر دیاگیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: کیا آپ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے چھوڑ کر واپس آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ پھر اس کی طرف تشریف لے گئے اوراس کو کھجور کے درختوں کے درمیان پایا، وہ کچھ گنگنا رہا تھا، لیکن اس دفعہ بھی اس کی ماں نے اسے خبردار کرتے ہوئے کہا: عبد اللہ! یہ ابوالقاسم آگئے ہیں۔تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کیا ہو گیا ہے، اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اس کو اسی طرح بے خبر رہنے دیتی تو وہ اپنی باتوں سے خود ہی اپنی حقیقت بیان کر دیتا۔ سیدناجابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی باتیں سننا چاہتے تھے، تاکہ آپ کو علم ہو جاتا کہ یہ دجال ہے یا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن صائد! تم کیا چیز دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق بھی دیکھتا ہوں، باطل بھی دیکھتا ہوں اور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: کیا آپ یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ پس اس کا معاملہ اس پر خلط ملط کر دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے چھوڑ کر چلے گئے، اور پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار و مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ اس کی طرف گئے، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی آپ کے ہمراہ تھے، ہوا یوں کہ اس بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے ہم سے آگے بڑ ھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوشش تھی کہ اس کی کوئی بات سن لیں، لیکن اس کی ماں جلدی جلدی اس کی طرف گئی اور کہا: عبد اللہ! یہ ابو القاسم آگئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا ہو اس کو؟ اللہ اسے ہلاک کرے، اگر یہ اسے ا سی طرح بے خبر رہنے دیتی تو وہ اپنی باتوں سے اپنی حقیقت کو واضح کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن صائد ! تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: میں حق اور باطل دیکھتا ہوں اور مجھے پانی پر ایک تخت بھی نظر آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ جواباً بولا: اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے۔ اس کا معاملہ اس پر خلط ملط کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ابن صائد! ہم تیرے لیے یعنی تجھے آزمانے کے لیے اپنے دل میں ایک کلمہ سوچ رہے ہیں، تو بتا کہ وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: وہ الدخ ہے، الدخ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: دفع ہو، دفع ہو۔ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ واقعی دجال ہے تو تمہارا اس سے کوئی مقابلہ نہیں، اس کا مقابلہ کرنے والے جنابِ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہوں گے اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو آپ کے لیے ایک ذِمّی کو قتل کرنا روا نہیں ہے۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اندیشہ رہا کہ یہی دجال ہے۔
حدیث نمبر: 12961
وَعَنْ مَهْدِيِّ بْنِ عِمْرَانَ الْمَازِنِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ وَسُئِلَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قِيلَ فَهَلْ كَلَّمْتَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى أَتَى دَارًا قَوْرَاءَ فَقَالَ ”افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ“ فَفُتِحَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسْطِ الْبَيْتِ فَقَالَ ”ارْفَعُوا هَذَا الْقَطِيفَةَ“ فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ ”قُمْ يَا غُلَامُ“ فَقَامَ الْغُلَامُ فَقَالَ ”يَا غُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ“ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ ”أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ“ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا“ مَرَّتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مہدی بن عمران مازنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ ان سے یہ سوال کیاگیا کہ آیا انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا:جی ہاں، پھر پوچھا گیا کہ آیا تم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام بھی کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، میں نے تو یہ دیکھا کہ آپ فلاں جگہ تشریف لے گئے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سمیت دیگر کچھ صحابہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کشادہ گھر تک پہنچے تو فرمایا: یہ دروازہ کھولو۔ سو دروازہ کھولا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا گیا، کمرہ کے وسط میں ایک چادر پڑی تھی۔ آپ نے فرمایا: اس چادر کو اٹھاؤ۔ پس انھوں نے چادر اٹھائی، اس کے نیچے ایک کانا لڑکا تھا، آپ نے فرمایا: او لڑکے! اٹھ۔ سو وہ کھڑا ہوگیا، آپ نے فرمایا: لڑکے! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ بولا:اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ـ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ وہ پھر بولا: اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: تم اس کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابن صیاد کے متعلق خوف زدہ رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہی دجال ہو، آپ نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ اس کی بے خبری میں اس کی باتیں سن کر پتہ چل جائے کہ اس کی اصلیت کیا ہے؟