کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ابن صیاد کا سامنا کرنے اور اسے مارنے اور اس وقت ابن صیاد کی طرف سے خلافِ عادت امور کے ظاہر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12953
وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ صَيَّادٍ فِي سِكَّةٍ مِنْ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَسَبَّهُ ابْنُ عُمَرَ وَوَقَعَ فِيهِ فَانْتَفَخَ حَتَّى سَدَّ الطَّرِيقَ فَضَرَبَهُ ابْنُ عُمَرَ بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ حَتَّى كَسَرَهَا عَلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَا شَأْنُكَ وَشَأْنُهُ يُولِعُكَ بِهِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّمَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ مِنْ غَضَبَةٍ يَغْضَبُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ابن صیاد کو مدینہ منورہ کی ایک گلی میں دیکھا، تو انھوں نے اسے برا بھلا کہا اور اس کی ڈانٹ ڈپٹ کی، ابن صیاد غصے سے اس قدر پھول گیا کہ راستہ بند ہوگیا، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لاٹھی تھی، انہوں نے اسے مار مار کر لاٹھی توڑ دی، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کون سی چیز تمہیں اس پر اکسا رہی ہے؟ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا: دجال اس وقت نکلے گا، جب اسے شدید غصہ آیا ہوا ہو گا۔
حدیث نمبر: 12954
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ ابْنَ صَيَّادٍ مَرَّتَيْنِ فَأَمَّا مَرَّةً فَلَقِيتُهُ وَمَعَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ لِبَعْضِهِمْ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ سَأَلْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ لَتَصْدُقُنِّي قَالُوا نَعَمْ قَالَ قُلْتُ أَتُحَدِّثُونِي أَنَّهُ هُوَ قَالُوا لَا قُلْتُ كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بَعْضُكُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَقَلُّكُمْ مَالًا وَوَلَدًا أَنَّهُ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَكُونَ أَكْثَرَكُمْ مَالًا وَوَلَدًا وَهُوَ الْيَوْمَ كَذَلِكَ قَالَ فَحَدَّثَنَا ثُمَّ فَارَقْتُهُ ثُمَّ لَقِيتُهُ مَرَّةً أُخْرَى وَقَدْ تَغَيَّرَتْ عَيْنُهُ فَقُلْتُ مَتَى فَعَلَتْ عَيْنُكَ مَا أَرَى قَالَ لَا أَدْرِي قُلْتُ مَا تَدْرِي وَهِيَ فِي رَأْسِكَ فَقَالَ مَا تُرِيدُ مِنِّي يَا ابْنَ عُمَرَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَخْلُقَهُ مِنْ عَصَاكَ هَذِهِ خَلَقَهُ وَنَخَرَ كَأَشَدِّ نَخِيرِ حِمَارٍ سَمِعْتُهُ قَطُّ فَزَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِي أَنِّي ضَرَبْتُهُ بِعَصًا كَانَتْ مَعِيَ حَتَّى تَكَسَّرَتْ وَأَمَّا أَنَا فَوَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ قَالَ فَدَخَلَ عَلَى أُخْتِهِ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَهَا فَقَالَتْ مَا تُرِيدُ مِنْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ قَالَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَوَّلَ خُرُوجِهِ عَلَى النَّاسِ مِنْ غَضَبَةٍ يَغْضَبُهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن صیادسے دو دفعہ میری ملاقات ہوئی، ایک دفعہ جب میں اسے ملا تو اس کے ساتھ اس کے کچھ ساتھی بھی تھے، میں نے ان سے کہا: میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر میں تم سے کوئی بات پوچھوں تو تم سچ بولو گے؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا: کیا تم مجھے بتاؤ گے کہ یہ (ابن صیاد) وہی (دجال) ہے؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ وہ نہیں ہے، میں نے کہا: تم غلط کہتے ہو، اللہ کی قسم! تم ہی میں سے بعض نے مجھے بتلایا تھا کہ دجال شروع میں مال و اولاد کے لحاظ سے سب سے کم ہوگا، لیکن جب اسے موت آئے گی تو اس کا مال بھی سب سے زیادہ ہوگا اور اولاد بھی، یہ ساری باتیں اس پر صادق آتی ہیں، اس کے بعد میں اسے چھوڑ کر چلا گیا، پھر جب میری اس سے دوسری مرتبہ ملاقات ہوئی تو دیکھا کہ اس کی آنکھ خراب ہوچکی تھی، میں نے پوچھا: میں تمہاری آنکھ کو خراب دیکھ رہا ہوں، یہ کب سے ایسے ہے؟ وہ بولا: مجھے معلوم نہیں۔ میں نے کہا: یہ آنکھ تمہارے سر میں ہے اور تم نہیں جانتے کہ ایسا کب سے ہوا ہے؟ اس نے کہا: عبد اللہ بن عمر! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ اگر اللہ نے چاہا تو تمہاری اس لاٹھی سے دجال کو پیدا کر دے گا، اس کے بعد وہ زور سے گدھے کی طرح خرّاٹے لینے لگا، میں نے ایسی (مکروہ) آواز کبھی نہیں سنی تھی۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک لاٹھی تھی اورمیں نے اس کو اتنا زدو کوب کیا کہ وہ ٹوٹ گئی۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے تو اس چیز کا بالکل علم نہیں ہوا۔ نافع کہتے ہیں : پھر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی ہمشیرہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو یہ واقعہ بیان کیا،انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا غرض ہے؟ کیا تم نہیں جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: دجال کا لوگوں کے سامنے پہلا ظہور شدید غصے کی صورت میں ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … ابن صیاد میں بعض خارق عادت امور پائے جاتے تھے، بہرحال وہ مسیح دجال نہیں تھا۔