کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: دجال کے اوصاف اور ان کی ابن صیاد سے مطابقت
حدیث نمبر: 12951
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا زَيْدٌ أَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَمْكُثُ أَبَوَا الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَهُمَا ثُمَّ يُولَدُ لَهُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”مَسْرُورًا مَخْتُونًا“) ”أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ“ ثُمَّ نَعَتَ أَبَوَيْهِ فَقَالَ ”أَبُوهُ رَجُلٌ طِوَالٌ مُضْطَرِبُ اللَّحْمِ طَوِيلُ الْأَنْفِ كَأَنَّ أَنْفَهُ مِنْقَارٌ وَأُمُّهُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَةٌ عَظِيمَةُ الثَّدْيَيْنِ“ (وَفِي رِوَايَةٍ ”طَوِيلَةٌ“) قَالَ فَبَلَغَنَا أَنَّ مَوْلُودًا مِنَ الْيَهُودِ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبَوَيْهِ فَرَأَيْنَا فِيهِمَا نَعْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا هُوَ مُنْجَدِلٌ فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ هَمْهَمَةٌ فَسَأَلْنَا أَبَوَيْهِ فَقَالَا مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضَرُّ شَيْءٍ وَأَقَلُّهُ نَفْعًا فَلَمَّا خَرَجْنَا مَرَرْنَا بِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ ”فَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ“) فَقَالَ مَا كُنْتُمَا فِيهِ قُلْنَا وَسَمِعْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّهُ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي فَإِذَا هُوَ ابْنُ صَيَّادٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے والدین کے ہاں تیس سال تک کوئی ولادت نہیں ہوگی، اس کے بعد ان کے ہاں کانا بچہ پیدا ہوگا۔ (ایک روایت میں ہے: اس کا ناڑو پہلے سے ہی کٹا ہوگا اور وہ پیدائشی طور پر ختنہ شدہ ہوگا۔ ) وہ زیادہ نقصان والا اور کم نفع والابچہ ہوگا، وہ جب سوئے گا تو اس کی آنکھیں سوئیں گی اور دل جاگتا ہوگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے والدین کے بارے میں بتایا کہ اس کا باپ طویل قد اور کمزور جسم والا ہوگا، اس کی ناک چونچ کی طرح ہوگی اور اس کی ماں بڑی چھاتی والی ہو گی اور اس کے پستان بڑے بڑے اور لمبے لمبے ہوں گے۔ بعد ازاں ہمیں اطلاع ملی کہ مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ہے، میں (ابو بکرہ) اور سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس کے والدین کے ہاں چلے گئے، ہم نے ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ نشانیاں دیکھیں، اُدھر وہ بچہ دھوپ میں چادر اوڑھے ہوئے لیٹا تھا اور اس کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی، ہم نے اس کے ماں باپ سے کچھ باتیں پوچھیں، انہوں نے بتلایا: تیس سال تو ہمارے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی، اس کے بعد ہمارے ہاں ایک کانا بچہ پیدا ہوا، جو بڑا ضرر رساں اور کم نفع والا تھا۔ پھر جب ہم وہاں سے نکلے تو اس بچے کے پاس سے گزرے، میں نے اس کے سر سے کپڑا ہٹایا تو وہ بولا: تم کیا باتیں کر رہے تھے؟ ہم نے کہا: کیا تو ہماری باتیں سن رہا تھا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا، وہ ابن صیاد تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12951
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه الترمذي: 2248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20689»
حدیث نمبر: 12952
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَأَنْ أَحْلِفَ عَشْرَ مِرَارٍ أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ هُوَ الدَّجَّالُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ مَرَّةً وَاحِدَةً أَنَّهُ لَيْسَ بِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَى أُمِّهِ قَالَ ”سَلْهَا كَمْ حَمَلَتْ بِهِ“ قَالَ فَأَتَيْتُهَا فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ حَمَلْتُ بِهِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا قَالَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَيْهَا فَقَالَ ”سَلْهَا عَنْ صَيْحَتِهِ حِينَ وَقَعَ“ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ صَاحَ صَيْحَةَ الصَّبِيِّ ابْنِ شَهْرٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبْأً“ قَالَ خَبَأْتَ لِي خَطْمَ شَاةٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ قَالَ فَأَرَادَ أَنْ يَقُولَ الدُّخَانَ فَلَمْ يَسْتَطِعْ فَقَالَ الدُّخَ الدُّخَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اخْسَأْ فَإِنَّكَ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:اگر میں دس دفعہ قسم اٹھا کر کہوں کہ ابن صائد (یعنی ابن صیاد) ہی دجال ہے، تو یہ بات مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ قسم اٹھا کر یہ کہوں کہ وہ دجال نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کی ماں کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ اس سے پوچھ کرآؤ کہ اس بچے کا حمل کتنا عرصہ اس کے پیٹ میں رہا۔ میں اس کے ہاں گیا اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے بتلایا کہ بارہ مہینے اسے اس کا حمل رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دوبارہ بھیج دیا اور فرمایا کہ یہ پوچھ کر آؤ کہ ولادت کے وقت اس کی چیخ کیسی تھی میں اس کے پاس دوبارہ گیا اور اس سے یہ سوال کیا، اس نے بتلایا کہ اس کی چیخ ایک ماہ کے بچے کی سی تھی،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے اپنے دل میں ایک چیز چھپائی ہے، (وہ کیا ہے)؟ ابن صیاد نے کہا:آپ مجھ سے خَطْمَ شَاۃٍ عَفْرَاءَ وَالدُّخَانَ کے الفاظ چھپائے ہیں، وہ کہتا تو الدُّخَانَ چاہتا تھا، لیکن پورا لفظ کہنے کی اسے طاقت نہ ہوئی اس لیے اس نے کہہ دیا: اَلدُّخَ اَلدُّخَ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذلیل ہو جا، تو اپنی حیثیت سے آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
وضاحت:
فوائد: … خَطْمَ شَاۃٍ عَفْرَائَ وَالدُّخَانَ کے معانی ہیں: سفید رنگ کی بکری کا ناک اور دھواں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان العلامات الكبرى التى تظهر قبل قيام الساعة / حدیث: 12952
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث منكر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21319 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21645»