حدیث نمبر: 12947
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِشْرٍ النَّخْعِيِّ عَنْ أَبِيهِ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَتُفْتَحَنَّ الْقُسْطُنْطِينِيَّةُ فَلَنِعْمَ الْأَمِيرُ أَمِيرُهَا وَلَنِعْمَ الْجَيْشُ ذَلِكَ الْجَيْشُ“ قَالَ: فَدَعَانِي مَسْلَمَةُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ فَغَزَا الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرور بالضرور قسطنطنیہ فتح ہوگا، اس کو فتح کرنے والا امیر بہترین امیر ہو گا اور وہ لشکر بہترین لشکر ہوگا۔ عبداللہ کہتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلوا کر اس بارے میں پوچھا تو میں نے اس کو یہ حدیث سنائی، اس لیے اس نے قسطنطنیہ پر چڑھائی کی۔
حدیث نمبر: 12948
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا، الْقُسْطُنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بِصَنْدُوقٍ لَهُ حِلَقٌ، فَأَخْرَجَ مِنْهُ كِتَابًا، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا، أَقُسْطُنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُقْتَحُ أَوَّلًا“ يَعْنِي الْقُسْطُنْطِينِيَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو قبیل کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ قسطنطنیہ اور رومیہ، ان دوشہروں میں سے پہلے کون سا فتح ہوگا؟ انہوں نے کنڈوں والا ایک صندوق منگوا کر اس سے ایک کتاب نکالی اور کہا:ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے احادیث لکھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی بات دریافت کی گئی کہ پہلے کون سا شہر فتح ہو گا، قسطنطنیہ یا رومیہ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قل کاشہر یعنی قسطنطنیہ پہلے فتح ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں قسطنطنیہ کی فتح کے لیے دو دفعہ بحری مہم بھیجی، لیکن کامیابی نہ ہو سکی، پھر ۹۸ سن ہجری میں عساکرِ اسلام نے ایک بار پھر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا، لیکن ناساز گار موسمی اور نفت یونانی (دھماکہ خیز مواد) کے باعث شہر فتح نہ ہو سکا۔
سلطان محمد ثانی کی وفات کے بعد حکومت کی باگ ڈور اس کے تئیس سالہ بیٹے محمد ثانی کے ہاتھ آئی،یہ پہلا عثمانی سلطان تھا، جس نے فتح قسطنطنیہ کا عزم کیا اور اس کو فتح کیا۔ یہ ۸۵۷ھ کا واقعہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: رومیہ سے مراد روم ہے، جیسا کہ (معجم البلدان) میں ہے، آج کل یہ اٹلی کا دارالخلافہ ہے۔ محمد فاتح عثمانی نے قسطنطنیہ کو فتح کیا، یہ نویں صدی ہجری کی بات ہے۔ رومیہ کی فتح بھی ہو گی، کچھ عرصے بعد لوگوں کو پتہ چل جائے گا، بلا شک و شبہ اُس فتح کے بعد خلافت ِ اسلامیہ، امت ِ مسلمہ کو مل جائے گی۔ (صحیحہ: ۴)
سلطان محمد ثانی کی وفات کے بعد حکومت کی باگ ڈور اس کے تئیس سالہ بیٹے محمد ثانی کے ہاتھ آئی،یہ پہلا عثمانی سلطان تھا، جس نے فتح قسطنطنیہ کا عزم کیا اور اس کو فتح کیا۔ یہ ۸۵۷ھ کا واقعہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: رومیہ سے مراد روم ہے، جیسا کہ (معجم البلدان) میں ہے، آج کل یہ اٹلی کا دارالخلافہ ہے۔ محمد فاتح عثمانی نے قسطنطنیہ کو فتح کیا، یہ نویں صدی ہجری کی بات ہے۔ رومیہ کی فتح بھی ہو گی، کچھ عرصے بعد لوگوں کو پتہ چل جائے گا، بلا شک و شبہ اُس فتح کے بعد خلافت ِ اسلامیہ، امت ِ مسلمہ کو مل جائے گی۔ (صحیحہ: ۴)
حدیث نمبر: 12949
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى وَفَتْحُ الْقُسْطُنْطِينِيَّةُ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑی خون ریزی،قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا ظہور، یہ تینوں امور سات مہینوں میں ظاہر ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 12950
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ مَسِيحُ الدَّجَّالِ فِي السَّابِعَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بڑی خون ریزی اور قسطنطنیہ کی فتح کے درمیان چھ سال کا فاصلہ ہوگا اور ساتویں سال دجال کا ظہور ہوگا۔