کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ارضِ بصرہ میں ترکوں کے ساتھ لڑائی کا بیان
حدیث نمبر: 12941
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنَا الْعَوَّامُ ثَنَا سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ إِلَى جَنْبِهَا نَهْرٌ يُقَالُ لَهُ دَجْلَةُ، ذُو نَخْلٍ كَثِيرٍ وَيَنْزِلُ بِهِ بَنُو قَنْطُورَاءَ، فَيَتَفَرَّقُ النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ فِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَصْلِهَا وَهَلَكُوا وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا وَكَفَرُوا وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ فَيُقَاتِلُونَ، قَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ، يَفْتَحُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْ بَقِيَّتِهِمْ، وَشَكَّ يَزِيدُ فِيهِ مَرَّةً فَقَالَ الْبُصَيْرَةُ أَوِ الْبَصْرَةُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بصرہ کی سر زمین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اس کی ایک جانب دجلہ نامی دریا ہے ، وہاں بہت زیادہ کھجوریں ہیں۔ بنو قنطوراء (یعنی ترک لوگ) وہاں آکر ٹھہریں گے اور مسلمان تین حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ اپنے اصل کے ساتھ مل جائے گا، (یعنی اپنی کھیتوں اور مویشیوں میں مصروف ہوجائے گا)، یہ لوگ ہلاک ہو جائیں گے دوسرا گروہ الگ تھلک رہے گا، یہ لوگ کافر ہوں گے اور ایک گروہ اپنے بیوی بچوں کو پیچھے چھوڑ آئیں گے اورلڑیں گے، ان کے مقتولین شہید ہوں گے، پھر باقیوں کو اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا۔ یزید بن ہارون کو ایک دفعہ یہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہ شک ہوا کہ بصیرہ ہے یا بصرہ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12941
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4306 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20413 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20684»
حدیث نمبر: 12942
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ أَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ جَمْهَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَتَنْزِلُنَّ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ أَوِ الْبُصَيْرَةُ عَلَى دَجْلَةِ نَهْرٍ“ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ قَالَ الْعَوَّامُ: بَنُو قَنْطُورَاءَ، هُمُ التُّرْكُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور دریائے دجلہ کے کنارے بصرہ یا بصیرہ کی سر زمین میں اترو گے، … پھر گزشتہ حدیث کی مانند ذکر کیا، عوام نے کہا: بنو قنطوراء سے مراد ترک ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … خلافت ِ عباسیہ کے آخری خلیفہ معتصم باللہ (صفر ۶۵۶ہجری) کے دور میں یہ واقعات ظہور پذیر ہو چکے ہیں، حدیث میں وارد علامات بغداد پر منطبق ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12942
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20685»
حدیث نمبر: 12943
(وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ثَنَا الْحَشَرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْقَيْسِيُّ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جَمْهَانَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ حَدَّثَنِي أَبِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْبَصْرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَتَنْزِلَنَّ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي أَرْضًا يُقَالُ لَهَا الْبَصْرَةُ يَكْثُرُ بِهَا عَدَدُهُمْ وَيَكْثُرُ بِهَا نَخْلُهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْعُيُونِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى جَسْرٍ لَهُمْ يُقَالُ لَهُ دَجْلَةُ فَيَتَفَرَّقُ الْمُسْلِمُونَ ثَلَاثَ فِرَقٍ فَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَأْخُذُونَ بِأَذْنَابِ الْإِبِلِ وَتَلْحَقُ بِالْبَادِيَةِ وَهَلَكَتْ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَتَأْخُذُ عَلَى أَنْفُسِهَا فَكَفَرَتْ فَهَذِهِ وَتِلْكَ سَوَاءٌ، وَأَمَّا فِرْقَةٌ فَيَجْعَلُونَ عِيَالَهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَ فَقَتْلَاهُمْ شُهَدَاءُ وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى بَقِيَّتِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) عبداللہ بن ابو بکرہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے بصرہ کی اس مسجد میں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ بصرہ نامی سرزمین میں ضرور اترے گا، یہاں ان کی بہت تعداد ہوگی اور یہاں کھجوریں بھی بکثرت ہوں گی،پھر بنو قنطوراء، جن کے چہرے چپٹے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی، آکر دجلہ کے پل پر پڑاؤ ڈالیں گے، اُدھر مسلمان تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے: ایک گروہ اونٹوں کی دموں کو پکڑ کر دیہاتوں کی طرف نکل جائے گا، یہ لوگ ہلاک ہوں گے، دوسرا گروہ اپنے حال میں مست رہے گا، یہ کافر ہوجائے گا، یہ دونوں گروہ انجام کے لحاظ سے برابر ہوں گے، تیسرا گروہ اپنے اہل و عیال کو پیچھے چھوڑ آئے گا اور کفار کے ساتھ جنگ کرے گا، ان کے مقتولین شہید ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ اس گروہ کے باقی لوگوں کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12943
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، ومتنه منكر فيما قاله ابو حاتم، أخرجه الطيالسي: 870 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20725»
حدیث نمبر: 12944
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ أُمَّتِي يَسُوقُهَا قَوْمٌ عِرَاضُ الْأَوْجُهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْحَجَفُ ثَلَاثَ مِرَارٍ حَتَّى يَلْحَقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، أَمَّا السَّابِقَةُ الْأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ وَأَمَّا الثَّانِيَةُ فَيَهْلِكُ بَعْضٌ وَيَنْجُو بَعْضٌ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَيَصْطَلِمُونَ كُلَّهُمْ مَنْ بَقِيَ مِنْهُمْ“ قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَنْ هُمْ؟ قَالَ: ”هُمُ التُّرْكُ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَرْبِطُنَّ خُيُولَهُمْ إِلَى سِوَارِي مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ“ قَالَ: وَكَانَ بُرَيْدَةُ لَا يُفَارِقُهُ بَعِيرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ وَمَتَاعُ السَّفَرِ وَالْأَسْقِيَّةُ يُعِدُّ ذَلِكَ لِلْهَرْبِ مِمَّا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَلَاءِ مِنْ أُمَرَاءِ التُّرْكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا: ایک قوم، جن کے چہرے چوڑے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی،گویا کہ ان کے چہرے ڈھال کی مانند چوڑے ہوں گے، (یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا)، یہ قوم میری امت کو جزیرۂ عرب کی طرف ہانک کر لے آئے گی، ان کے پہلے مقابلے میں بھاگ جانے والا نجات پا جائے گا، دوسرے مقابلے میں کچھ ہلاک ہو جائیں گے اور بعض نجات پائیں گے، تیسری دفعہ تو باقی بچ جانے والوں کا بھی صفایا کر دیں گے۔ صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: یہ ترک لوگ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ لوگ اپنے گھوڑوں کو مسلمانوں کی مساجد کے ستونوں کے ساتھ باندھیں گے۔ سیدنا عبداللہ بن بریدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سننے کے بعد ترک حکمرانوں کی آزمائش سے بچ کر بھاگ جانے کے لیے دو تین اونٹ، سفر کا سامان اور مشکیزے ہر وقت تیار رکھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12944
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به بشير بن المھاجر الغنوي، ولم يتابعه عليه احد، وھو ضعيف عند التفرد، أخرجه ابوداود: 4305 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23339»