کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جزیرۂ عرب ، فارس اور روم کے غزوات کا بیان
حدیث نمبر: 12932
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَتَاهُ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ عَلَيْهِمْ ثِيَابُ الصُّوفِ، فَوَافَقُوهُ عِنْدَ أَكَمَةٍ، وَهُمْ قِيَامٌ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَأَتَيْتُهُ فَقُمْتُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، فَحَفِظْتُ مِنْهُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ أَعُدُّهُنَّ فِي يَدَيَّ، قَالَ: ”تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحُهُ اللَّهُ“، قَالَ نَافِعٌ: يَا جَابِرُ! أَلَا تَرَى أَنَّ الدَّجَّالَ لَا يَخْرُجُ حَتَّى تُفْتَحَ الرُّومُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھا،مغرب کے علاقے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ آئے، انھوں نے اونی لباس کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، ایک ٹیلے کے پاس ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی، وہ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار باتیں یاد کر لیں، اب میں ان کو اپنے ہاتھ پر شمار کر سکتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:: تم جزیرۂ عرب کے باسیوں سے لڑائی کرو گے‘ اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا‘ پھر فارس سے لڑائی ہو گی‘ وہ بھی فتح ہو جائے گا‘ پھر روم سے لڑائی ہو گی، اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور پھر تم دجال سے لڑائی کرو گے‘ اس پر بھی اللہ تعالیٰ تم کو فتح سے ہمکنار کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ احادیث، اعلامِ نبوت میں سے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بہت جلد یہ پیشین گوئیاں پوری ہو گئیں اور دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں مسلم مجاہدوں کے قدموں میں ڈھیر ہو گئیں، البتہ ابھی تک دجال سے لڑائی باقی ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ بیچارہ بھی مغلوب ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12932
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2900، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18973 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19182»
حدیث نمبر: 12933
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَزِيدُ أَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے گزشتہ طریق والی حدیث کی طرح ہی مروی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12933
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19181»
حدیث نمبر: 12934
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ثَنَا زَائِدَةُ ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ قَالَ: فَقَالَ جَابِرٌ: لَا يَخْرُجُ الدَّجَّالُ حَتَّى تُفْتَتِحَ الرُّومُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسر ی سند) سیدنا نافع بن عتبہ بن ابی وقاص سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا:جب تک روم فتح نہیں ہوجائے گا، اس وقت تک دجال کا ظہور نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12934
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19181»
حدیث نمبر: 12935
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوشِكُ أَنْ يَمْلَأَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَيْدِيَكُمْ مِنَ الْعَجَمِ، ثُمَّ يَكُونُونَ أُسْدًا لَا يَفِرُّونَ، فَيَقْتُلُونَ مُقَاتِلَتَكُمْ وَيَأْكُلُونَ فَيْئَكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں کو عجمیوں سے بھر دے گا، لیکن اس کے بعد پھر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ شیر بن جائیں گے، تمہارے جنگجوؤں کو قتل کریں گے اورتمہارے چھوڑے ہوئے مال کو کھائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12935
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، فان ھشيم بن بشير والحسن البصري مدلسان ولم يصرحا بالسماع، أخرجه البزار: 3366، والطبراني في الكبير : 6921، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20384»
حدیث نمبر: 12936
عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”سَيُصَالِحُكُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا، ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوًّا، فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ، ثُمَّ تَنْصَرِفُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنَ النَّصْرَانِيَّةِ صَلِيبًا فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَقُومُ إِلَيْهِ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَيَجْمَعُونَ لِلْمَلْحَمَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی ٔ رسول سیدنا ذی مِخمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ اہل روم تم سے امن والی صلح کر لیں گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک مشترکہ دشمن سے لڑائی کرو گے،تمہاری مدد کی جائے گی، پس تم سالم رہو گے اور مالِ غنیمت حاصل کرو گے، لیکن جب تم سرسبز وشاب ٹیلوں والے مقام میں قیام کرو گے تواس وقت ایک عیسائی آدمی صلیب کو بلند کر کے کہے گا کہ صلیب غالب آگئی ہے۔ یہ سن کر ایک مسلمان غیرت کرے گا اور اٹھ کر اس صلیب کو توڑ ڈالے گا، اس موقع پر رومی تمہارے ساتھ بدعہدی کریں گے اور وہ گھمسان کی جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12936
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2767، 4292، وابن ماجه: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23157 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23544»
حدیث نمبر: 12937
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”تُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا، وَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِهِمْ، فَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ“، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ: ”فَيَقُومُ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَقْتُلُهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ، وَتَكُونُ الْمَلَاحِمُ، فَيَجْتَمِعُونَ إِلَيْكُمْ، فَيَأْتُونَكُمْ فِي ثَمَانِينَ غَايَةً، مَعَ كُلِّ غَايَةٍ عَشْرَةُ آلَافٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ذی مخمر رضی اللہ عنہ ، یہ حبشی آدمی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ رومیوں کے ساتھ واقعی امن والی صلح کرو گے، پھر تم ان کے ساتھ مل کر کسی اور دشمن سے لڑائی کرو گے اور تم سالم بھی رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کروگے۔ سابقہ حدیث کی طرح ہی ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: ایک مسلمان اٹھے گا اور اس کی طرف جا کر اسے قتل کر دے گا، اس موقع پر رومی بد عہدی کر جائیں گے اور پھر گھمسان کی جنگیں لڑی جائیں گی، وہ جمع ہو کر (۸۰) جھنڈوں پر مشتمل لشکر کی صورت میں تمہاری طرف آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے دس ہزار افراد ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۳۹، ۱۲۸۴۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12937
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16951»
حدیث نمبر: 12938
عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ عَنِ الْمَسْتَوْرِدِ الْفِهْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرُّومُ أَكْثَرُ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أَبْصِرْ مَا تَقُولُ، قَالَ: أَقُولُ لَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنْ تَكُنْ قُلْتَ ذَاكَ، إِنَّ فِيهِمْ لَخِصَالًا أَرْبَعًا، إِنَّهُمْ لَأَسْرَعُ النَّاسِ كَرَّةً بَعْدَ فَرَّةٍ، وَإِنَّهُمْ لَخَيْرُ النَّاسِ لِمِسْكِينٍ وَفَقِيرٍ وَضَعِيفٍ، وَإِنَّهُمْ لَأَحْلَمُ النَّاسِ عِنْدَ فِتْنَةٍ، وَالرَّابِعَةُ حَسَنَةٌ جَمِيلَةٌ، وَإِنَّهُمْ لَأَمْنَعُ النَّاسِ مِنْ ظُلْمِ الْمُلُوكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مستورد فہری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا:قیامت قائم ہوتے وقت رومیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ذرا غور کرو، کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: میں نے جوبات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، وہی تم سے کہہ رہا ہوں۔ یہ سن کر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم یہی بات کہتے ہو تو پھر اس کی وجہ یہ ہے کہ رومیوں میں یہ چار اوصاف ہیں: (۱) اگر وہ میدانِ جنگ سے فرار ہوجائیں، تو (انتقامی) حملہ کرنے کے لیے بہت جلد واپس آتے ہیں، (۲)وہ غریبوں، فقیروں اور ضعیفوں کے حق میں دوسرے لوگوں کی بہ نسبت بہت بہتر ہیں، (۳) وہ لڑائی کے وقت سب سے زیادہ حوصلہ مند ثابت ہوتے ہیں اور (۴) یہ لوگ بادشاہوں کے مظالم کو سب سے بڑھ کر روکنے والے ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12938
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18185»
حدیث نمبر: 12939
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ الْمَسْتَوْرِدَ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”أَشَدُّ النَّاسِ عَلَيْكُمُ الرُّومُ، إِنَّمَا هَلَكَتُهُمْ مَعَ السَّاعَةِ“، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو: أَلَمْ أَزْجِرْكَ عَنْ مِثْلِ هَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، میں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے سب سے بڑے مخالف رومی ہیں، ان کا خاتمہ قیامت کے ساتھ ہوگا۔ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا میں نے تجھے ایسی احادیث بیان کرنے سے منع نہیں کیا تھا؟
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12939
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18023 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18186»
حدیث نمبر: 12940
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ: هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرٌ إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ! جَاءَتِ السَّاعَةُ، قَالَ: وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاثٌ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ، قَالَ: عَدُوًّا يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ، وَنَحَّى بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ، قُلْتُ: الرُّومَ تَعْنِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَيَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمُ الْقِتَالِ رِدَّةٌ شَدِيدَةٌ، قَالَ: فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شَرْطَةً لِلْمَوْتِ، لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُرَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشَّرْطَةُ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شَرْطَةً لِلْمَوْتِ، لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُرَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشَّرْطَةُ، ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شَرْطَةً لِلْمَوْتِ، لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ، كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشَّرْطَةُ، فَإِذَا كَانَ الْيَوْمُ الرَّابِعُ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً، إِمَّا قَالَ: لَا يُرَى مِثْلُهَا، وَإِمَّا قَالَ: لَمْ نَرَ مِثْلَهَا، حَتَّى أَنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ، فَمَا يُخْلِفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيِّتًا، قَالَ: فَيَتَعَادُّ بَنُو الْأَبِ كَانُوا مِائَةً، وَلَا يَجِدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ، أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ، قَالَ: بَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، إِذَا سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ: إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيَقْبَلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي لَأَعْلَمُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسیر بن جابر سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: کوفہ میں ایک دفعہ سرخ رنگ کی آندھی چلی، ایک عام آدمی، جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی، نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ قیامت آگئی ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، جو پہلے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یہ سن کر بیٹھ گئے اور کہا: جب تک میراث تقسیم نہیں ہو جاتی اور غنیمت کی وجہ سے خوش نہیں ہوا جاتا، اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ دشمنان ِ اسلام، اہل ِ اسلام کے مقابلہ کے لیے اور اہل ِ اسلام ان کے مقابلہ کے لیے جمع ہوں گے، یہ بات کہتے ہوئے انہوں نے شام کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: کیا آپ کی مراد رومی لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس وقت شدید قسم کی لڑائی ہوگی،مسلمان بھی اس پر موت کی شرط لگا دیں گے کہ فاتح ہی لوٹنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اور مسلمان اور رومی دونوں لوٹ آئیں گے اور ان میں سے کوئی بھی فاتح اور غالب نہیں ہوگا، اس طرح شرط بھی ختم ہو جائے گی، پھر مسلمان موت کی شرط لگا دیں گے کہ فاتح ہی لوٹنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ ان کے اور دشمنوں کے درمیان رات حائل ہو جائے گی اوردونوں اس حال میں واپس ہوں گے کہ ان میں سے کوئی بھی فاتح نہیں ہوگا اور اس طرح یہ شرط بھی ختم ہو جائے گی، اس بار بھی مسلمان موت کی شرط لگا دیں گے کہ فتح کے ساتھ ہی واپس آنا ہے، پس وہ لڑیں گے، یہاں تک کہ شام ہو جائے گی اور دونوں کی واپسی غیر فاتحانہ ہو گی اور شرط ختم ہو جائے گی، جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام بھی دشمن کے مقابلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان پر شکست کو مسلط کر دے گا، وہ ایسی لڑائی لڑیں گے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ہو گی، (اس قدر لاشوں کے پشتے لگ جائیں گے کہ) ایک پرندہ ایک طرف سے اڑے گا اور ابھی تک وہ ختم نہیں ہونے پائیں گے کہ وہ اڑتے اڑتے مر جائے گا، صورتحال یہ ہوگی کہ ایک باپ کے سو بیٹوں کو جب شمار کیا جائے گا تو بچنے والا صرف ایک ہو گا، ان حالات میں کس غنیمت کی خوشی ہو گی اور کون سی میراث تقسیم ہوگی؟ لوگ اس قسم کے حالات میں ہوں گے کہ اس سے بڑی ایک خبرسنائی دے گی اور وہ یہ کہ ایک چلّانے والا یوں چلّا رہا ہو گا کہ پیچھے لوگوں کے بچوں میں دجال پہنچ چکا ہے، یہ سن کر وہ تمام چیزوں کو پھینک دیں گے اور اُدھر متوجہ ہو کر دس گھڑ سواروں کا ایک دستہ بھیجیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان گھڑ سواروں کے اور ان کے آباء واجداد کے ناموں اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں تک کو جانتا ہوں، وہ ان دنوں روئے زمین پر موجود تمام گھڑ سواروں سے افضل لوگ ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12940
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2899، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4146»