کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: امام مہدی کا ظہور اور اس کی مدتِ قیام
حدیث نمبر: 12918
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلِيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي“ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا بِهِ فِي بَيْتِهِ فِي غُرْفَتِهِ أُرَاهُ سَأَلَهُ بَعْضُ وَلَدِ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى أَوْ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ يَحْيَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میرے اہل بیت کا ایک آدمی حکمران نہیں بنے گا، وہ میرا ہم نام ہوگا۔ امام احمد نے کہا: سفیان بن عینیہ نے ہمیں یہ حدیث اپنے گھر کے ایک کمرے میں اس وقت بیان کی، جب جعفر بن یحییٰ یا یحییٰ بن خالد کے ایک بیٹے نے ان سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12918
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 8242، والترمذي: 2231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3571»
حدیث نمبر: 12919
وَعَنْهُ أَيْ ابْنِ مَسْعُودٍ بِلَفْظٍ آخَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَنْقَضِي الْأَيَّامُ وَلَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي اسْمُهُ يُوَاطِئُ اسْمِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایام اور یہ زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا،جب تک میرے اہل بیت کا ایک ایسا آدمی عرب کی سرزمین کا حکمران نہیں بنے گا، جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12919
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3572»
حدیث نمبر: 12920
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَجُلًا مِنَّا يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگردنیا کا صرف ایک دن باقی رہ گیا ہو توپھر بھی اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک آدمی کو بھیجے گا، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ وہ اس سے پہلے ظلم و عدوان سے بھری ہوئی ہوگی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12920
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4283 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 773»
حدیث نمبر: 12921
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي أَجْلَى أَقْنَى يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ قَبْلَهُ ظُلْمًا يَكُونُ سَبْعَ سِنِينَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ میرے اہل بیت کا ایک آدمی برسرِاقتدار نہیں آجائے گا، وہ انتہائی خوبصورت اونچے ناک والا ہوگا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا، جیسے یہ اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی، وہ سات برس ٹھہرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12921
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: يكون سبع سنين مطر بن طھمان الوراق، وان كان فيه ضعف من جھة حفظه، متابع، أخرجه ابويعلي: 1128، والحاكم: 4/ 557 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11147»
حدیث نمبر: 12922
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ خَشِينَا أَنْ يَكُونَ بَعْدَ نَبِيِّنَا حَدَثٌ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ فِي أُمَّتِي خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ تِسْعًا“ زَيْدٌ الشَّاكُّ أَحَدُ الرُّوَاةِ قَالَ قُلْتُ أَيُّ شَيْءٍ قَالَ ”سِنِينَ“ ثُمَّ قَالَ ”تُرْسِلُ السَّمَاءُ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَلَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا وَيَكُونُ الْمَالُ كُدُوسًا“ قَالَ ”يَجِيءُ الرَّجُلُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي أَعْطِنِي قَالَ فَيَحْثِي لَهُ فِي ثَوْبِهِ مَا اسْتَطَاعَ أَنْ يَحْمِلَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں اس بات کا اندیشہ ہوا کہ نبی کریم کے بعد دنیا میں مختلف حوادث رونما ہوں گے، اس لیے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایک شخص مہدی پانچ یا سات یا نو کے لیے نکلے گا۔ زید راوی کو شک ہوا، میں نے کہا: اس عدد سے کیا مراد ہے؟ انھوں کہا: سال، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آسمان لوگوں پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا اور زمین اپنی کھیتیوں میں سے کچھ بھی اپنے اندر ذخیرہ نہیں رکھے گی اور مال و دولت کے ڈھیر لگے ہوں گے، ایک آدمی اس کے پاس آکر کہے گا کہ اے مہدی!مجھے دو، مجھے دو، تو جتنا کچھ اسے اٹھانے کی طاقت ہو گی، اتنا کچھ وہ اس کے کپڑے میں ڈال دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12922
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زيد ابي الحواري، أخرجه الترمذي مختصرا: 2232، وأخرجه بنحوه ابن ماجه: 4083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11163 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11180»
حدیث نمبر: 12923
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا“ فَقَالَ رَجُلٌ مَا صِحَاحًا قَالَ ”بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ“ قَالَ ”وَيَمْلَأُ اللَّهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غِنًى وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ فَيَقُولُ ائْتِ السَّدَّانَ يَعْنِي الْخَازِنَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا فَيَقُولُ لَهُ احْثِ حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَائْتَزَرَهُ نَدِمَ فَيَقُولُ كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْسًا أَوَ عَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ قَالَ فَيَرُدَّهُ فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ فَيُقَالُ لَهُ إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ أَوْ ثَمَانَ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ أَوْ قَالَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت کے لوگوں میں اختلاف زوروں پر ہوگا اور زلزلے آرہے ہوں گے، میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا، جیسے اس سے پہلے یہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی، آسمان والے اور زمین والے سب ہی اس سے خوش ہوں گے، وہ لوگوں کے درمیان مساوات کے ساتھ مال و دولت تقسیم کرے گا اور اللہ تعالیٰ امت ِ محمد کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا، اس کا عدل و انصاف ہر ایک کو پہنچے گا، وہ ایک منادی کرنے والے کو حکم دے گا، پھر وہ یہ اعلان کرے گا کہ کس کو مال کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان سن کر صرف ایک آدمی اٹھے گا، مہدی اس سے کہے گا: جا اورخزانچی سے کہو کہ مہدی تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم مجھے مال و دولت دو، وہ خزانچی اس سے کہے گا کہ تم جس قدر لینا چاہتے ہو اٹھالو، جب وہ اپنی جھولی میں بہت سا مال لے کر اسے باندھے گا تو خودہی نادم ہو کر کہے گا: امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں میں ہی زیادہ بے صبرا نکلا، جو چیز ان سب کو پہنچ گئی، کیا وہ مجھ سے ہی عاجز آ گئی ہے، سو وہ اس مال کو واپس کرے گا، لیکن مہدی اس سے قبول نہیں کرے گا اور اسے کہا جائے گا: ہم جو چیز دے دیں وہ واپس نہیں لیتے۔ سات یا آٹھ یا نو سال اسی طرح خوش حالی کا دور دورہ رہے گا، اس کے بعد زندہ رہنے میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی نے درج ذیل روایت کو سلسلہ صحیحہ میں ذکر کیا ہے: سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَخْرُجُ فِي آخِرِ اُمَّتِي الْمَھْدِيُّ، یَسْقِیْہِ اللّٰہُ الْغَیْثَ، وَتُخْرِجُ الْاَرْضُ نَبَاتَھَا، وَیُعْطِي الْمَالَ صِحَاحاً،وَتَکْثُرُ الْمَاشِیَۃُ، وَتَعْظُمُ الْأُمَّۃُ، یَعِیْشُ سَبْعًا اَوْ ثَمَانِیًا۔)) یَعْنِي حَجَّۃً۔ … میری امت کے آخری زمانے میں مہدی نکلے گا، اللہ تعالیٰ بارش نازل کر ے گا، زمین کھیتیاں اگائے گی، وہ لوگوں کو بہترین مال عطا کریں گے، مویشی زیادہ ہو جائیں گے، امت کی تعداد بڑھ جائے گی اور وہ سات یا آٹھ سال تک زندہ رہے گا۔ (حاکم: ۴/۵۵۷۔ ۵۵۸، صحیحہ: ۷۱۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12923
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال العلاء بن بشر المزني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11346»
حدیث نمبر: 12924
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّايَاتِ السُّودَ قَدْ جَاءَتْ مِنْ قِبَلِ خُرَاسَانَ فَأْتُوهَا فَإِنَّ فِيهَا خَلِيفَةَ اللَّهِ الْمَهْدِيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم خراسان کی جانب سے سیاہ جھنڈے آتے دیکھو تو تم ان کی طرف جا کر ان میں شامل ہوجانا، ان میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12924
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ، وعلي بن زيد بن جدعان ضعيف، وابوقلابة الجرمي لم يسمع من ثوبان، بينھما ابو اسماء عمرو بن مرثد الرحبي، أخرجه ابن ماجه : 4084، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22387 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22746»
حدیث نمبر: 12925
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اللہ تعالیٰ ایک رات میں اس کی اصلاح فرمائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … اصلاح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر رجوع کرے گا، اس کو توفیق دے گا اور اس کی رشد و ہدایت اس کو الہام کرے گا، پہلے اس میں ایسے اوصاف نہیں ہوں گے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: شیخ غزالی نے کہا: میں تو ایک طالب علم ہوں، بہرحال میرے علم کے مطابق تو کسی واضح حدیث میں امام مہدی کا ذکر نہیں آتا اور اگر کوئی صریح حدیث ہے تو وہ صحیح نہیں ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: جنابِ غزالی! کون سے مشائخ نے آپ جیسے طالب علم کو ایسی روایات کی نفی کرنے کی تلقین کی؟ کیا وہ علمائے کلام تو نہیں ہیں، جن بیچاروں کے پاس حدیث کا علم ہے نہ راویانِ حدیث کا؟
اس دعوے کی کیا اہمیت ہے، جبکہ دوسری طرف علمائے حدیث نے مختلف احادیث کی روشنی میں امام مہدی کی آمد کو ثابت کر رکھا ہے۔ امام غزالی کو چاہیے تھا کہ وہ تصحیح و تضعیف کے قانون کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن و حدیث اور ان سے صادر ہونے والے احکام و مسائل کا مراجعہ کرتے اور مسلانوں کو خواہ مخواہ شک میں نہ ڈالتے۔
میرے مسلمان بھائی! عصر حاضر میں اکثر مسلمان راہِ مستقیم سے منحرف ہو چکے ہیں، یہ ذاتی اختراعات اور خود ساختہ آراء کی روشنی میں شریعت کی مختلف نصوص کی وضاحت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اب امام مہدی کے خروج کے بعد ہی اسلام کو غلبہ وا قتدار نصیب ہو گا، (ان سے پہلے غلبۂ اسلام کی کوئی صورت نہیں)۔
یہ بے سر و پا دعوی اور ضلالت و گمراہی ہے، جو شیطان نے اکثر لوگوں اور بالخصوص صوفیوں کے دلوں میں القاء کر دی ہے۔ حالانکہ امام مہدی کی آمد میں جتنی احادیث ِ نبویہ مروی ہیں، کسی ایک سے بھی یہ دعوی ثابت نہیں ہوتا۔ اتنا ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو ایسے شخص کے ظہور کی خوشخبری سنائی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہو گا اور وہ اسلام کے احکام کی روشنی میں فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کو عام کر دے گا، حقیقت میں وہ ان مجدِّدین میں سے ہو گا، جن کو اللہ تعالیٰ ہر صدی کے بعد بھیجتا ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ ہم دین کی تجدید کی خاطر علم و عمل کے لیے جد و جہد ترک کر دیں۔
اسی طرح امام مہدی کی آمد کا یہ معنی بھی نہیں کہ ہم زمین میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی کوشش نہ کریں اور ان کی آس میں بیٹھ جائیں۔
ہم نے عوام الناس کی جو بے سر و پا باتیں بیان کی ہیں، بعض صوفیوں سمیت کچھ لوگوں کو ان کا علم تو ہے، لیکن جب ان میں یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ امام مہدی کے خروج کا عقیدہ رکھنے سے یہ امور لازم تو آئیں گے، تو وہ فوراً انکار کرنے لگتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہی ہے، جیسے کسی نے کہا: اس نے میرا علاج اس چیز کے ساتھ کیا، جس میں بیماری تھی۔ ایسے لوگ معتزلیوں سے مختلف نہیں ہیں کہ جنھوں نے اس بنا پر تقدیر کا انکار کر دیا کہ کچھ لوگ اس سے جبر کا استدلال کر رہے ہیں۔ یہ بیچارے ایک طرف تو جبر کا جواب نہ دے سکے اور دوسری طرف جس چیز کا عقیدہ رکھنا فرض تھا، اس کا انکار کر دیا۔
ایک فریق کا خیال ہے کہ تاریخ اسلامی شاہد ہے کہ بعض خود غرضوں اور بیوقوفوں نے امام مہدی کے قصے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو زبردست قتنوں میں مبتلا رکھا ہے، مثلاً جہیمان سعودی کا حرمِ مکی میں برپا کیا ہوا فتنہ۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرے سے امام مہدی کی آمد کا ہی انکار کر دیا جائے، تاکہ فتنہ باز لوگوں کے فتنے دب جائیں، شیخ غزالی نے بھی اپنے کلام کے آخر میں اس چیز کی طرف اشارہ کیا تھا۔
اس فاسد خیال کے حق میں رائے دینے والے اُن باطل پرستوں کی طرح ہیں جنھوں نے آخری زمانے میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار اس بنا پر کیا ہے، کہ بعض کذاب اور دجّال لوگوں نے فتنہ برپا کرنے کے لیے اپنے آپ کو مسیح موعود ظاہر کیا ہے، مثال کے طور پر مرزا غلام احمد قادیانی۔ شیخ شلتوت جیسوں نے واضح طور پر عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا انکار کر دیا اور بعض وضاحت تو نہیں کرتے، لیکن ان کی زبانیں اس قسم کے خیالات ِ فاسدہ اگلتی رہتی ہیں۔ ممکن ہے کہ میں حتمی طور پر یہ دعوی کر دوں کہ جن لوگوں نے امام مہدی کی آمد کا انکار کیا، انھوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا بھی انکار کر دیا۔
میرے ہاں ان مُنکِرین کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جو اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا انکار اس چیز کو بنیاد بنا کر دے کہ بعض فرعونوں نے بھی الوہیت کا دعوی کیا ہے، اس لیے سرے سے اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کا ہی انکار کر دیا جائے، تاکہ فراعنہ باز آ جائیں۔ {فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ} (سورۂ قمر: ۱۵) … کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟
(صحیحہ: ۱۵۲۹)
ان بیچاروں کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو ریت کی تپش سے بچنے کے لیے آگ میں گھس گیا، حق یہ ہے کہ شرعی علم و عمل کی روشنی میں فتنوں کا ردّ کیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12925
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابن ماجه: 4085، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 645»