کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: قیامت کے قائم ہونے سے قبل خون ریزیوں اور گھمسان کی جنگوں کا بیان
حدیث نمبر: 12914
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ أُرَاهُ قَالَ ”قَدْ يَذْهَبُ فِيهَا النَّاسُ أَسْرَعَ ذِهَابٍ“ قَالَ فَقِيلَ أَكُلُّهُمْ هَالِكٌ أَمْ بَعْضُهُمْ قَالَ ”حَسْبُهُمْ أَوْ بِحَسْبِهِمُ الْقَتْلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندھیری رات کے اندھیروں کی طرح کے فتنوں کا ذکر کیا، میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: ان فتنوں میں لوگ بہت جلدی ختم ہو جائیں گے۔ کسی نے پوچھا: آیا وہ سب ہلاک ہونے والے ہوں گے یا ان میں سے بعض؟ آپ نے فرمایا: ان کو قتل ہی کافی ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12914
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4277 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1647 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1647»
حدیث نمبر: 12915
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ“ قَالَ قُلْنَا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ ”الْقَتْلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے قبل ایسا زمانہ ہو گا کہ اس میں جہالت عام ہو گی، علم اٹھ جائے گا اور ھَرْج عام ہوجائے گا۔ ہم نے پوچھا: ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12915
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7062، ومسلم: 2672، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3695»
حدیث نمبر: 12916
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ ”عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ وَلَكِنْ أُخْبِرُكُمْ بِمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيْهَا إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا“ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا فَالْهَرْجُ مَا هُوَ قَالَ ”بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ الْقَتْلُ وَيُلْقَى بَيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ أَنْ يَعْرِفَ أَحَدًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کا علم تو میرے رب کے پاس ہے،وہ اس کو اس کا وقت ہونے پر ظاہر کرے گا، البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامتیں اور اس سے پہلے کیا ہو گا، وہ بیان کر دیتا ہوں، قیامت سے پہلے فتنے ظاہر ہوں گے اور ھرج ہوگا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! فتنوں کا مفہوم تو ہم سمجھتے ہیں، ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اہل حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں اور (تیسری علامت یہ ہے کہ) لوگوں میں ایک دوسرے سے اس قدر بے اعتنائی اور لاپروائی آجائے گی کہ کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔
وضاحت:
فوائد: … پہلے زمانے کی بہ نسبت واقعی اب لوگوں میں عجیب قسم کی لاپروائی اور بے مروّتی کا مزاج پایا جا رہا ہے، رشتے ناطے کا لحاظ کرنے والے لوگ بہت کم ہیں، بلکہ اب تو لوگ رشتوں ناطوں کو پہچاننے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12916
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23695»
حدیث نمبر: 12917
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَزْرَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَعْنِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ أَلْقَى الشَّامُ بَوَانِيهِ بَثْنِيَةً وَعَسَلًا فَأَمَرَنِي أَنْ أَسِيرَ إِلَى الْهِنْدِ وَالْهِنْدُ فِي أَنْفُسِنَا يَوْمَئِذٍ الْبَصْرَةُ قَالَ وَأَنَا لِذَلِكَ كَارِهٌ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ لِي يَا أَبَا سُلَيْمَانَ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ الْفِتَنَ قَدْ ظَهَرَتْ قَالَ فَقَالَ وَابْنُ الْخَطَّابِ حَيٌّ إِنَّمَا تَكُونُ بَعْدَهُ وَالنَّاسُ بِذِي بِلِّيَانَ بِمَكَانٍ كَذَا وَكَذَا فَيَنْظُرُ الرَّجُلُ فَيَتَفَكَّرُ هَلْ يَجِدُ مَكَانًا لَمْ يَنْزِلْ بِهِ مِثْلُ مَا نَزَلَ بِمَكَانِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ مِنَ الْفِتْنَةِ وَالشَّرِّ فَلَا يَجِدُهُ قَالَ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ الَّتِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ أَيَّامَ الْهَرْجِ فَنَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكَنَا وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأَيَّامُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ارضِ شام نے گندم اور شہد سمیت اپنی برکتوں کو ہمارے سامنے پیش کیا تو امیر المومنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے ہند کی طرف روانگی کا حکم دیا، ان دنوں ہم ہند سے بصرہ مراد لیا کرتے تھے، میں اس چڑھائی کو ناپسند کر رہا تھا، اتنے میں ایک آدمی نے اٹھ کر مجھ سے کہا: ابو سلیمان! اللہ سے ڈرو، فتنوں کا ظہور ہوچکا ہے، اُدھر سے ایک آدمی نے کہا: ابھی فتنوں کا ظہور نہیں ہوا، کیونکہ ابن خطاب رضی اللہ عنہ زندہ ہیں، فتنے ان کے بعد ہوں گے، (اور فتنوں کے دور میں) جب لوگ (یمن سے پرے واقع) بلیان کے مقام پرہوں گے، پھر آدمی ارد گرد کے حالات کو دیکھ کر غور کر ے گاکہ آیا کوئی ایسی جگہ بھی ہے، جہاں اس جگہ جیسے فتنے نہ ہوں، تو اسے کوئی ایسی پر سکون جگہ نہ ملے گی، بس یہی وہ زمانہ ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت سے پہلے قتل ِ عام ہوگا، اور ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ایسا زمانہ ہمیں اور تمہیں پائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12917
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة عزرة بن قيس البجلي، أخرجه الطبراني في الكبير : 3841، وفي الاوسط : 8474 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16820 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16944»