کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس سلسلے میں دیگر صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12904
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُلْتَمَسَ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِي كَمَا تُلْتَمَسَ الضَّالَّةُ فَلَا يُوجَدُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ میرے صحابہ میں سے ایک آدمی کو اس طرح تلاش کیا جائے گا، جیسے گم شدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے، لیکن وہ آدمی ملے گا نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ایک صدی کے اندر اندر صحابۂ کرام کا زمانہ ختم ہو گیا تھا، آخری صحابی سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ۱۱۰ہجری میں فوت ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12904
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور، أخرجه البزار: 849، وعبد بن حميد: 69 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 720»
حدیث نمبر: 12905
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ اللَّهُ شَرِيطَتَهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ فَيَبْقَى فِيهَا عُجَاجَةٌ لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ اللہ تعالیٰ اہل زمین میں اپنی شرط پوری نہیں کر لے گا،پھر صرف ایسے ناکارہ لوگ باقی رہ جائیں گے ،جن کو نہ نیکی کی معرفت ہو گی اور نہ وہ برائی کو برا سمجھیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کامفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خیر والے اور دین دار لوگوں کو وفات دے کر زمین سے اٹھا لے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الشيخين الا ان فيه عنعنة الحسن البصري وقد رُوي مرفوعا وموقوفا، والاشبه وقفه، أخرجه الحاكم: 4/ 435 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6964»
حدیث نمبر: 12906
وَعَنْ عَلْبَاءَ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى حُثَالَةِ النَّاسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علباء سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت صرف انتہائی رذیل اور گھٹیا لوگوں پر قائم ہوگی۔
وضاحت:
فوائد: … جن گھٹیا لوگوںمیں توحید اور اسلام کا نام و نشان تک نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12906
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 18/ 158، والحاكم: 4/ 495 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16168»
حدیث نمبر: 12907
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتُلُوا إِمَامَكُمْ وَتَجْتَلِدُوا بِأَسْيَافِكُمْ، وَيَرِثُ دِيَارَكُمْ شِرَارُكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی، جب تک تم اپنے امام کو قتل نہیں کر وگے اور اپنی تلواریں نہیں نکال لو گے اور تم میں سے بد ترین لوگ تمہارے حکمران نہیں بن جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12907
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الله بن عبد الرحمن الاشھلي تفرد بالرواية عنه عمرو بن ابي عمرو، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان،، وقال ابن معين: لا اعرفه، أخرجه الترمذي:2169 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23302 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23691»
حدیث نمبر: 12908
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَيُكَلِّمُ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ، وَشِرَاكُ نَعْلِهِ وَيُخْبِرُهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ درندے انسانوں سے کلام کریں، انسان کی لاٹھی کا سرا اور جوتے کا تسمہ اس سے ہم کلام ہو اور انسان کی ران اسے وہ کچھ بتلائے جو اس کے بعد اس کے اہل خانہ نے کیا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عَدَا الذِّئْبُ عَلَی شَاۃٍ فَأَخَذَھَا فَطَلَبَہُ الرَّاعِیْ فَانْتَزَعَھَا مِنْہُ فَأَقْعَی الذِّئْبُ عَلَی ذَنَبِہٖ قَالَ: أَلَا تَتْقِی اللّٰہَ! تَنْزِعُ عَنِّیْ رِزْقًا سَاقَہُ اللّٰہُ اِلَیَّ؟ فَقَالَ: یَا عَجَبِیْ! ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلَی ذَنَبِہٖ یُکَلِّمُنِیْ کَلَامَ الْإِنْسِ، فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِیَثْرِبَ یُخْبِرُ النَّاسَ بِاَنْبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِیْ یَسُوْقُ غَنَمَہُ حَتّٰی دَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ فَزَوَاھَا اِلٰی زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاھَا، ثُمَّّ أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہَ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَنُوْدِیَ اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، ثُمَّّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِیْ: ((أَخْبِرْھُمْ)) فَأَخْبَرَھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((صَدَقَ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُکَلِّمَ السِّبَاعُ الْاِنْسَ، وَیُکَلِّمَ الرَجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَشِرَاکُ نَعْلِہِ وَیُخْبِرُُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) … ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کی خبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنی بکریوں کو ہانکنا شروع کیا، یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ کی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔ (ترمذی: ۲۱۸۱، دیکھیں: حدیث نمبر ۱۰۴۸۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12908
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله ثقات رجال الصحيح، أخرجه الترمذي: 2181 دون ذكر قصة الذئب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11814»
حدیث نمبر: 12909
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ قَوْمٌ يَأْكُلُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ كَمَا تَأْكُلُ الْبَقَرُ بِأَلْسِنَتِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسے لوگ ظاہر نہیں ہوں گے۔ جو اپنی زبانوں سے اس طرح کھائیں گے، جیسے گائیں اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث، حدیث نمبر (۵۷۲۳) کے ہم معنی ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ جیسے گائے چرتے وقت خشک اور تر اور میٹھے اور کڑوے چارے کے مابین فرق نہیں کرتی، بلکہ سب کو تلف کر دیتی ہے، ایسے ہی بعض لوگ حلال و حرام اور حق و باطل میں کوئی تمیز نہیں کرتے، آج کل اچھے بھلے سمجھدار لوگوں نے نہ صرف سودی معاملات کو جائز سمجھ لیا ہے، بلکہ وہ عملی طور پر اس میںملوث ہیں، جبکہ وہ منہج کے طور پر اپنے آپ کو برحق اور نمازی اور پرہیزگار بھی سمجھتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12909
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه البغوي في شرح السنة : 3397 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1597»
حدیث نمبر: 12910
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ النَّاسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت صرف بد ترین لوگوں پر قائم ہوگی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12910
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3735»
حدیث نمبر: 12911
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ شِرَارَ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بد ترین لوگ وہ ہیں، جن کو قیامت زندہ پا لے گی، (یعنی جن پر قیامت قائم ہو گی) اور وہ جو قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … چونکہ جن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی، وہ بدترین لوگ ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی معرفت اور ان کے حقوق کی ادائیگی سے یکسر محروم ہوں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12911
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 10413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4143 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4143»
حدیث نمبر: 12912
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكُونَ أَسْعَدَ النَّاسِ بِالدُّنْيَا لُكَعُ بْنُ لُكَعَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی،جب تک کہ کمینہ بن کمینہ کو لوگوں میں معزز ترین نہیں سمجھا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ِ مبارکہ سمجھنے سے پہلے یہ ادراک ہونا ضروری ہے کہ شریعت کے ہاں کون لوگ معزز ہیں اور کون بے وقعت ہیں۔ اب ہمارا معاشرہ اس حدیث کا مصداق بن چکا ہے،جہاں نیکی کو معیار نہیں سمجھا جاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12912
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2209، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23303 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23692»
حدیث نمبر: 12913
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْعَمَلُ فِي الْهَرْجِ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”الْعِبَادَةُ فِي الْفِتْنَةِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل و غارت گری کے دنوں میں عمل کرنا اور ایک روایت کے مطابق فتنوں کے دور میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی مانند ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … پر فتن دور میں شریعت کا پابندرہنا مشکل امر ہوتا ہے، اس لیے ایسے میں زیادہ اجر و ثواب ملتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12913
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2948، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20564»