کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وہ احادیث ِ مبارکہ جو لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ … کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں¤اس سلسلے میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 12885
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَقَارَبَ الزَّمَانُ فَتَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ وَيَكُونَ الشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ وَتَكُونَ الْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ وَيَكُونَ الْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ وَتَكُونَ السَّاعَةُ كَاحْتِرَاقِ السَّعَفَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ زمانہ اس قدرمختصر نہیں ہوجائے گا کہ ایک سال ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک ہفتے کے برابر، ایک ہفتہ ایک دن کے برابر،ایک دن ایک گھڑی کے برابراور ایک گھڑی اس لمحے کے برابر ہو جائے گی، جس میں کھجور کا خشک پتہ جل جاتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اب وقت تیزی سے گزر رہا ہے، وقت میں واقعی بہت بے برکتی آ گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12885
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 6680، وابن حبان: 6842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10956»
حدیث نمبر: 12886
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ“ قَالَ قَالُوا أَيُّمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْقَتْلُ الْقَتْلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے قریب) وقت مختصر ہوجائے گا، کنجوسی عام ہوجائے گی، فتنے عام ہو جائیں گے اور ھَرْج عام ہوجائے گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مؤخر الذکر سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: قتل ہو گا، قتل۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12886
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7061، ومسلم: ص 2058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7186»
حدیث نمبر: 12887
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ وَيَفِيضَ حَتَّى يَهِمَّ رَبُّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَتَهُ قَالَ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَقْتَرِبُ الزَّمَانُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ“ قَالُوا الْهَرْجُ أَيُّمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْقَتْلُ الْقَتْلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہوگی جب تمہارے اندر مال و دولت اس قدر عام ہوجائے گا کہ مال دار آدمی اس وجہ سے پریشان ہوجائے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا اور علم چھین لیا جائے گا، وقت مختصر ہوجائے گا، فتنے برپا ہوں گے اور ھَرْج عام ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟آپ نے فرمایا: قتل ہے، قتل۔
وضاحت:
فوائد: … مال و دولت تو اب بھی بہت زیادہ ہے، لیکن ابھی تک صدقہ قبول کرنے والے فقراء و مساکین کی تعداد بھی خاصی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12887
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرج شطره الثاني البخاري: 6037، وأخرجه مقطعا مسلم: ص 70 و2058 و 2215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8120»
حدیث نمبر: 12888
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ“ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”الْقَتْلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم ہوگی جب علم چھین لیا جائے گا، فتنے نمودار ہوں گے اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل۔
وضاحت:
فوائد: … اب شرعی علم کا شدید فقدان ہے، بڑے بڑے اہل علم بہت جلد وفات پا رہے ہیں، اس وقت ہمارا زمانہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ کا مصداق بنا ہوا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَقْبِضُ الْعِلْمَ اِنْتِزَاعًا یَنْتَزِعُہُ مِنَ النَّاسِ، وَلٰکِنْ یَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَائِ حَتّٰی اِذَا لَمْ یَتْرُکْ عَالِمًا، اِتَّخَذَ النَّاسُ رُؤَسَائَ جُہَّالًا فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَیْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَأَضَلُّوْا۔)) … بیشک اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گاکہ وہ اِس کو لوگوں سے سلب کر لے، وہ تو علماء کو فوت کر کے علم کو اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب وہ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے، پس جب ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے اور اس طرح خود بھی گمراہ ہو جائیں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح بخاری: ۱۰۰، صحیح مسلم: ۲۶۷۳)
اگر اِس دور کا سلف صالحین اور ان کے بعد والے دور سے موازنہ کیا جائے تو واضح طور پر علم شرعی کا شدید فقدان نظر آئے گا، قتل اور فتنوں کی کثرت کا معاملہ تو واضح ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ دنیوی تعلیم کی تمام صورتیں ایک فن ہیں، جو دنیا میں مختلف انداز میں معاون ثابت ہوتی ہیں، لیکن اس تعلیم سے تقوی، صالحیت اور اسلامی غیرت کے جذبات اور دین کی سمجھ حاصل نہیں ہوتی، بلکہ بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اعلی ڈگری حاصل کرنے کے بعد غرور و تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ غور فرمائیں
کہ ہمارے معاشرے میں انگریزی، ریاضی، کیمسٹری، کمپیوٹر، اردو اور دوسرے مضامین میں ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے حاملین موجود ہیں، لیکن اگر وہ فہم قرآن سے محروم ہیں، ترجمۂ قرآن سے دور ہیں، علم حدیث پر ان کو دسترس حاصل نہیں ہے، اسلامی فقہ کا ان کو تجربہ نہیں ہے، تو یہی کہا جائے گا کہ اس معاشرے میں شرعی علم کا فقدان ہے اور اس میں بسیرا کرنے والے جاہل ہیں، کیونکہ شریعت کی نگاہ میں اس چیز کو علم کہتے ہیں جو اعمال صالحہ کا سبب بنتا ہے۔
قارئین کرام! محسوس نہ کرنا، راقم الحروف کا ایسے ہزاروں افراد سے واسطہ پڑا، جو اعلی دنیوی تعلیم سے آراستہ ہیں، لیکن نماز جیسے فریضے سے کوسوں دور ہیں، قرآن مجید کی دیکھ کر بھی تلاوت نہیں کر سکتے، اہلیت ہونے کے باوجود میں کئی کئی ماہ قرآن مجید کھولنا ان کو نصیب نہیں ہوتا، لیکن اپنے آپ کو اتنا اہلیت والا سمجھتے ہیں کہ گویا ان کے بغیر دنیا بے آسرا ہو جائے گی۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو نماز کے وقت میں کسی یونیورسٹی اور اس میں تعمیر شدہ مسجد کاجائزہ لے لیں۔ شریعت میں ایسے معاشرے کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12888
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7061، ومسلم: ص 2057 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7480»
حدیث نمبر: 12889
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولَ يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ مَا بِهِ حُبُّ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک اس قسم کے حالات پیدا نہ ہوجائیں گے کہ ایک آدمی کسی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے کہے گا: کاش میں اس کی جگہ پر ہوتا، یہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق کی وجہ سے نہیں ہو گا (بلکہ حالات کی سنگینی کی بنا پر ہو گا)۔
وضاحت:
فوائد: … عصرِ حاضر میں بعض لوگ ایسی ایسی آزمائشوں میں گھرے ہوئے ہیں کہ وہ موت کی تمنا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ خوشحال لوگوں کو ان کی آزمائشوں کا اندازہ نہیں ہو سکتا ہے۔ شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ آدمی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس سے ملاقات کرنے کی بنا پر نہیں، بلکہ دنیوی آزمائشوں اور فتنوں کی وجہ سے موت کی تمنا کرے گا۔ لیکن اس حدیث سے یہ اشارہ ضرور ملتا ہے کہ دین کی خاطر موت کی تمنا کی جا سکتی ہے، رہا مسئلہ اس حدیث مبارکہ کا کہ ((لَا یَتَمَنَّیَنَّ اَحَدُکُمْ اَلْمُوْتَ لِضُرٍّ نَزَلَ بِہِ …۔)) … کوئی آدمی کسی تکلیف کی بنا پر موت کی تمنا نہ کرے …۔ کیونکہ یہ صورت دنیوی معاملے کے ساتھ خاص ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا:سلف کی ایک جماعت کے نزدیک فسادِ دین کے وقت موت کی تمنا کرنا ثابت ہے، اس سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی درج بالا حدیث کی تائید ہوتی ہے۔
امام نووی نے کہا: ایسے وقت میں موت کی تمنا کرنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ کئی سلف صالحین نے ایسے کیا ہے، جیسا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ … (صحیحہ: ۵۷۸)
شیخ البانی کے دعوے کی تصدیق صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ سے ہوتی ہے: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَاتَذْھَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی یَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَی الْقَبْرِ فَیَتَمَرَّغُ عَلَیْہِ، وَیَقُوْلُ: یَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ مَکَانَ صَاحِبِ ھٰذَا الْقَبَرِ وَلَیْسَ بِہِ الدِّیْنُ اِلَّا الْبَلَائَ)) … اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے! اس وقت تک دنیا ختم نہیں ہو گی، جب تک ایسے نہ ہو گا کہ ایک آدمی ایک قبر کے پاس سے گزرے گا، اس پر لیٹے گا اور کہے گا: ہائے کاش! میں اس قبر والے کی جگہ پر ہوتا، اس کا موت کی تمنا کرنا دین کی بنا پر نہیں ہو گا، آزمائشوں کی وجہ سے ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12889
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7115، ومسلم: ص 2231 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10878»
حدیث نمبر: 12890
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلْيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ وَكَانَتْ صَنَمًا يَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دوس قبیلے کی عورتیں کے چوتڑ ذُوْالْخَلَصَۃ نامی بت کے گرد چکر لگاتے ہوئے حرکت نہیں کریں گے، یہ (یمن کے علاقے میں) تَبَالَہ کے مقام پر ایک بت تھا،دوس قبیلے کے لوگ اسلام سے قبل اس کی عبادت کیا کرتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … چوتڑ کی حرکت سے مراد اس بت کا طواف ہے، یعنی لوگ پھر سے کفریہ عقائد میںمبتلا ہو جائیں گے اور بتوں کی عبادت اور تعظیم شروع کر دیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12890
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7116، ومسلم: 2906، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7663»
حدیث نمبر: 12891
وَعَنْهُ أَيْضًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِمَا أَخَذَتْ بِهِ الْأُمَمُ وَالْقُرُونُ قَبْلَهَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ“، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”وَهَلِ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک میری امت ہو بہو پہلی امتوں اور لوگوں والے کام نہیں کرے گی؟ ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جس طرح فارسی اور رومی لوگوں کے کام تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے مراد ہی یہی لوگ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی امت ِ مسلمہ کے لوگ دوسرے مذاہب کی نقالی شروع کر دیں گے، اب کئی امور میں واقعی دوسروں کی نقالی کی جا رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12891
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7319 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8433 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8414»
حدیث نمبر: 12892
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا، وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضَلَالَ الطَّرِيقِ، وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ“، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”الْقَتْلُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہو گی, جب تک عربوں کی سر زمین سبزہ زاروں اور نہروں کی صورت اختیار نہیں کر لے گی اور جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ عراق سے مکہ تک سفر کرنے والے کو صرف راستہ بھول جانے کا ڈر ہو گا اور ھرج عام ہوجائے گا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اللہ کے رسول! ھرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل۔
وضاحت:
فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جزیرۂ عرب کے بعض علاقوں میں اس حدیث ِ مبارکہ میں کی گئی پیشینگوئی کے آثار و علامات دکھائی دینے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خیرات و برکات کے نزول کے کئی مناظر نظر آ رہے ہیں، مختلف آلات کے ذریعے صحرائی زمین سے آبپاشی کے لیے پانی نکالا جا رہا ہے۔ بعض مقامی اخبار میں یہ بات بھی شائع ہوئی تھی کہ فرات کا رخ جزیرۂ عرب کی طرف موڑنے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے، ممکن ہے کہ منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچ جائے۔
مولانا مودودی کہتے ہیں: تبوک کے محکمہ شرعیہ کے رئیس شیخ صالح نے بتایا کہ یہ چشمہ دو سال پہلے تک پونے چودہ سو سال سے مسلسل ابلتا رہا، بعد میں نشیبی علاقوں میں ٹیوب ویل کھودے گئے تو اس چشمے کا پانی ان ٹیوب ویلز کی طرف منتقل ہو گیا۔ تقریباً پچیس ٹیوب ویلز میں تقسیم ہو جانے کے بعد اب یہ چشمہ خشک ہو گیا ہے، اس کے بعد شیخ صالح ہمیں ایک ٹیوب ویل کی طرف بھی لے گئے، جہاں ہم نے دیکھا کہ چار انچ کا ایک پائپ لگا ہوا ہے اور کسی مشین کے بغیر اس سے پانی پورے زور سے نکل رہا ہے، قریب قریب یہی کیفیت دوسرے ٹیوب ویلز کی بھی ہمیں بتائی گئی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے ہی کی برکت ہے، آج تبوک میں اس کثرت سے پانی موجود ہے، کہ مدینہ اور خیبر کے سوا ہمیں کہیں اتنا پانی دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تبوک کا پانی ان دونوں جگہوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس پانی سے فائدہ اٹھا کر اب تبوک میں ہر طرف باغ لگائے جا رہے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق تبوک کا علاقہ باغوں سے بھرا ہوا ہے اور دن بدن بھرتا جا رہا ہے۔ (سفرنامہ ارض قرآن)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12892
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرج القطعة الاولي الحاكم: 4/ 477 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8833 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8819»
حدیث نمبر: 12893
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَفِيضَ فِيكُمُ الْمَالُ، وَحَتَّى يَهُمَّ الرَّجُلُ بِمَالِهِ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ حِينَ يَتَصَدَّقُ بِهِ، فَيَقُولُ الَّذِي يُعْرَضُ عَلَيْهِ: لَا أَرْبَ لِي بِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ تمہارے اندر مال و دولت کی اس قدرفراوانی نہ ہوجائے گی کہ مال دار آدمی صدقہ کرتے وقت پریشان ہوگا کہ وہ کسے دے، اور وہ جسے دے گا، وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12893
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1412، 7121 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10874»
حدیث نمبر: 12894
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، وَدَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دو بڑے گرہوں کے درمیان بڑی جنگ نہ ہو جائے اور دونوں کا دعوی بھی ایک ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … ان دو گروہوں سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانے میں ان دو گروہوں کے درمیان جنگ صفین ہوئی تھی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے ان دو گروہوں کے درمیان صلح ہو گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12894
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6935، 7121، ومسلم: ص 2214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10876»
حدیث نمبر: 12895
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا خُوزَ وَكِرْمَانَ، قَوْمًا مِنَ الْعَجَمِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ فُطْسَ الْأَنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاـ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم دو عجمی قوموں خوز اور کرمان سے قتال نہیں کرو گے، جن کے چہرے سرخ اور ناک چپٹے ہوں گے، اور ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چپٹے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اب ایران کے مغربی حصے میں خوزستان اور اس کے جنوب مشرق میں کرمان واقع ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12895
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3590، ومسلم: 2912، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8223»
حدیث نمبر: 12896
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا أَقْوَامًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کرو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک روایت میں ہے کہ ان کے لباس بھی بالوں کے ہوں گے، کیونکہ ان کے علاقے زیادہ برف باری ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ سرد ہیں، یہی لباس ان کے لیے زیادہ مفید ہے۔ ملا علی قاری نے کہا ہے کہ بالوں سے مراد دباغت کے بغیر وہ چمڑے ہیں، جن پر بال لگے ہوئے ہوں۔
ابو نعیم نے اپنی مستخرج میںکہا: ان سے مراد اکراد یا دیلم کے لوگ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12896
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري ضمن حديث طويل:6506، 7121 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10872»
حدیث نمبر: 12897
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الْعُيُونِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُوَلَفَ الْأَنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ترکوں سے قتال نہیں کرو گے، جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناک چپٹے ہوں گے اور گویا ان کے چہرے ڈھالوں کی طرح چوڑے چوڑے ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ پیدائشی اوصاف ترک اور ازبک لوگوںمیں پائے جاتے ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۳/ ۲۳۴) جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی وجہ سے علاقوں کے قدیم اور جدید ناموں میں اختلاف پایا جا تا رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12897
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2929، ومسلم: 2912 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10873»
حدیث نمبر: 12898
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَيُؤْمِنُ النَّاسُ أَجْمَعُونَ، فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ، فَيَفِرُّ الْيَهُودِيُّ وَرَاءَ الْحَجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ! يَا مُسْلِمُ! هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَاءِي، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو، اور اس علامت کو دیکھ کر سب لوگ ایمان لے آئیں گے، مگر جو لوگ اس سے پہلے ایمان نہیں لا چکے ہوں گے یا جنھوں نے اچھے عمل نہیں کیے ہوں گے، ان کو ان کا ایمان فائدہ نہیں دے گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہودیوں سے قتال نہیں کر لو گے، یہودی بچنے کے لیے دوڑ کر پتھر کے پیچھے پناہ لے گا، لیکن وہ پتھر یوں بولے گا: اے اللہ کے بندے! اے مسلم! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہیں کر لو گے جن کے جوتے بال دار ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہودیوں کے ساتھ یہ معاملہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں پیش آ ئے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري ضمن حديث مطول: 6506، 7121، و أخرج الفقرة الاولي منه مسلم: 157، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9161»
حدیث نمبر: 12899
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس کے قریب جھوٹے دجال پیدا نہیں ہوں گے، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
وضاحت:
فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۱۲۸۳۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12899
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري ضمن حديث طويل برقم: 7121، وأخرجه مسلم: ص 2239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10877»