حدیث نمبر: 12877
عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَائِذِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِكُلِّ فِتْنَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ السَّاعَةِ وَمَا ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا أَسَرَّهُ إِلَيَّ لَمْ يَكُنْ حَدَّثَ بِهِ غَيْرِي وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ مَجْلِسًا أَنَا فِيهِ سُئِلَ عَنِ الْفِتَنِ وَهُوَ يَعُدُّ الْفِتَنَ ”فِيهِنَّ ثَلَاثٌ لَا يَذَرْنَ شَيْئًا مِنْهُنَّ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ مِنْهَا صِغَارٌ وَمِنْهَا كِبَارٌ“ قَالَ حُذَيْفَةُ فَذَهَبَ أُولَئِكَ الرَّهْطُ كُلُّهُمْ غَيْرِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! آج سے قیامت تک جتنے فتنے رونما ہوں گے، میں ان کے متعلق سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایسی رازدارانہ چیزیں بتلائی ہوں، جو دوسروں کو بیان نہ کی ہوں، بات یہ ہے کہ ایک محفل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتنوں کے بارے میں پوچھا گیا، میں بھی اس مجلس میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتنوں کو شمار کر کے ان کی وضاحت کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے تین فتنے ایسے ہوں گے، جو (اپنی سنگینی کی وجہ سے) کسی چیز کو بھی نہیں چھوڑیں گے، بعض فتنے موسم گرما کی آندھیوں کے سے ہوں گے اور بعض چھوٹے ہوں گے اور بعض بڑے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس محفل میں جتنے لوگ موجود تھے وہ سب وفات پا چکے ہیں، صرف میں زندہ ہوں۔
حدیث نمبر: 12878
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ فَمَا مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا قَدْ سَأَلْتُهُ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَسْأَلْهُ مَا يُخْرِجُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ مِنَ الْمَدِينَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ نے مجھے قیامت تک رونما ہونے والے (اہم واقعات اور فتنوں) سے آگاہ فرمایا ہے، میں آپ سے اس قسم کی ہر چیز کے بارے میں پوچھ چکا ہوں، البتہ میں یہ نہ پوچھ سکا کہ کون سی چیز مدینہ کے لوگوں کو مدینہ سے باہر نکالے گی۔
حدیث نمبر: 12879
وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَقَامًا فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ إِلَّا ذَكَرَهُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ قَالَ حُذَيْفَةُ فَإِنِّي لَأَرَى أَشْيَاءَ قَدْ كُنْتُ نَسِيتُهَا فَأَعْرِفُهَا كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ قَدْ كَانَ غَائِبًا عَنْهُ يَرَاهُ فَيَعْرِفُهُ قَالَ وَكِيعٌ أَحَدُ الرُّوَاةِ مَرَّةً فَرَآهُ فَعَرَفَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت تک ہونے والے ہر واقعہ کا ذکر فرما دیا، یاد رکھنے والوں نے ان کو یاد رکھا اور بھلا دینے والوں نے بھلا دیا، میں خود بھی بہت سی ایسی اشیاء دیکھتا ہوں، جو مجھے بھول گئی تھیں، لیکن وہ دیکھنے سے مجھے یاد آ جاتی ہیں، جیسے ایک آدمی جب غائب ہو جانے والے (اور بھول جانے والے) آدمی کو دیکھتا ہے تو وہ اسے پہنچان لیتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مستقبل میں ہونے والے جتنے اس قسم کے امور بیان کیے تھے، ان میں سے کئی امور کا تعلق صحابۂ کرام کے دور سے تھے، مثلا: سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی کی مظلومانہ شہادتیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں امت ِ مسلمہ کا مختلف گروہوں میں بٹ جانا، ان میں جنگیں ہونا اور پھر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے صلح ہونا، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، مال و دولت کی فراوانی، صحابۂ کرام پر سب و شتم، ملوکیت اور اس کے اثرات، بعض صحابہ کو کہنا کہ وہ باغی گروہ کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اس قسم کا واقعہ رونما ہوتے ہوئے دیکھتے تو ان کو اس سے متعلقہ حدیث یاد آ جاتی، حدیث نمبر (۱۲۸۸۲)پر غور کریں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حیات کو فتنوں کی رکاوٹ قرار دیا اور جب اس رکاوٹ کو ہٹا دیا گیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ فتنوں کی انتظار ختم ہو گئی ہے، پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ زیادہ ہوا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور امت ِ مسلمہ دو بڑے فریقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہو گئی۔
جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اس قسم کا واقعہ رونما ہوتے ہوئے دیکھتے تو ان کو اس سے متعلقہ حدیث یاد آ جاتی، حدیث نمبر (۱۲۸۸۲)پر غور کریں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حیات کو فتنوں کی رکاوٹ قرار دیا اور جب اس رکاوٹ کو ہٹا دیا گیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ فتنوں کی انتظار ختم ہو گئی ہے، پھر آہستہ آہستہ یہ سلسلہ زیادہ ہوا، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور امت ِ مسلمہ دو بڑے فریقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراء ہو گئی۔
حدیث نمبر: 12880
وَعَنْ حُذَيْفَةَ ابْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنَّا فِي شَرٍّ فَذَهَبَ اللَّهُ بِذَلِكَ الشَّرِّ وَجَاءَ بِالْخَيْرِ عَلَى يَدَيْكَ فَهَلْ بَعْدَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ مَا هُوَ قَالَ ”فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا تَأْتِيكُمْ مُشْتَبِهَةً كَوُجُوهِ الْبَقَرِ لَا تَدْرُونَ أَيًّا مِنْ أَيٍّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کفر کے شرّ میں تھے، اللہ تعالیٰ نے اس شرّ کو ختم کر دیا اور آپ کے ہاتھوں پر خیر(اور دینِ اسلام) کو لے آیا، اب سوال یہ ہے کہ آیا اس خیر کے بعد پھر شرّ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فتنے ہوں گے، جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح پے در پے آئیں گے اور وہ گائیوں کے چہروں کی طرح ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں گے اورتم ان میں امتیاز نہیں کر سکو گے۔
حدیث نمبر: 12881
وَعَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا جَلَسْنَا إِلَيْهِ أَمْسِ سَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ فَقَالُوا نَحْنُ سَمِعْنَاهُ قَالَ لَعَلَّكُمْ تَعْنُونَ فِتْنَةَ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ قَالُوا أَجَلْ قَالَ لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُ تِلْكَ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ وَلَكِنْ أَيُّكُمْ سَمِعَ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ قَالَ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ إِيَّايَ يُرِيدُ قَالَ قُلْتُ أَنَا قَالَ لِي أَنْتَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ تُعْرَضُ الْفِتَنُ عَلَى الْقُلُوبِ عَرْضَ الْحَصِيرِ فَأَيُّ قَلْبٍ أَنْكَرَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ بَيْضَاءُ وَأَيُّ قَلْبٍ أُشْرِبَهَا نُكِتَتْ فِيهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ حَتَّى يَصِيرَ الْقَلْبُ عَلَى قَلْبَيْنِ أَبْيَضَ مِثْلَ الصَّفَا لَا يَضُرُّهُ فِتْنَةٌ مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَالْآخَرُ أَسْوَدُ مِرْبَدٌّ كَالْكُوزِ مُجَخًّا وَأَمَالَ كَفَّهُ لَا يَعْرِفُ مَعْرُوفًا وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا إِلَّا مَا أُشْرِبَ مِنْ هَوَاهُ وَحَدَّثْتُهُ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا يُوشِكُ أَنْ يُكْسَرَ كَسْرًا قَالَ عُمَرُ كَسْرًا لَا أَبًا لَكَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَوْ أَنَّهُ فُتِحَ كَانَ لَعَلَّهُ أَنْ يُعَادَ فَيُغْلَقَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ كَسْرًا قَالَ وَحَدَّثْتُهُ أَنَّ ذَلِكَ الْبَابَ رَجُلٌ يُقْتَلُ أَوْ يَمُوتُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے آئے تو انہوں نے کہا: کل جب ہم ان کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے صحابہ سے پوچھا کہ تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فتنوں کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی احادیث سنی ہیں۔ انہوں نے کہا: شاید تم میرے سوال سے یہ سمجھ رہے ہو کہ میں انسان کے اہل وعیال اور مال کے فتنہ کے بارے میں پوچھ رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم تو یہی سمجھے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، ایسے فتنوں کو تو نماز، روزہ اور صدقہ جیسی نیکیاں ختم کر دیتی ہیں،یہ بتلاؤ کہ کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان فتنوں کے متعلق سنا ہے جو سمندر کی موجوں کی طرح آئیں گے؟ ان کا یہ سوال سن کر لوگ خاموش ہوگئے۔ میں سمجھا کہ وہ مجھ سے ہی پوچھ رہے ہیں، اس لیے میں نے کہا: میں بیان کروں؟ انھوں نے کہا:اللہ تمہارے باپ کا بھلا کرے، تم ہی بیان کر دو، میں نے کہا کہ چٹائی کے پھیلاؤ کی طرح فتنے رونما ہوں گے، جو دل ان فتنوں سے محفوظ رہا اس میں سفید نقطہ لگادیا جائے گا اور جو دل اس فتنے میں ملوث ہوگیا اس میں سیاہ نقطہ لگادیا جائے گا، یہاں تک کہ نقطے لگتے لگتے دل دو قسم کے ہوجائیں گے، کچھ دل تو پتھر کی طرح بالکل سفید ہو جائیں گے، جب تک زمین و آسمان قائم رہیں گے ان کو کوئی فتنہ بھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا اور کچھ سیاہ ہو کر کوزے کی مانند اس طرح الٹ جائیں گے، اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی ہتھیلی کو الٹا کر بات کو واضح کیا، وہ کسی اچھائی کو اچھائی اور برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے اورصرف اپنی خواہشات میں مگن ہوں گے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بھی بیان کیا کہ آپ کو ان فتنوں سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ کے اور ان کے مابین ایک بند دروازہ ہے، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اسے زور سے توڑ دیا جائے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہارا باپ نہ رہے، کیا اسے توڑ ڈالا جائے گا؟ میں نے کہا جی ہاں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اسے سیدھی طرح کھول دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ کسی وقت بند بھی ہوجائے۔ میں نے کہا: اسے کھولا نہیں جائے گا، بلکہ توڑ دیا جائے گا۔ نیز میں نے ان کو یہ بھی بیان کیا کہ اس دروازے سے مراد ایک انسان ہے جو قتل کیا جائے گا یا وہ اپنی طبعی موت مرے گا، یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے، محض کہانیاں نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … توڑ دئیے جانے والے دروازے سے مراد کون سی شخصیت ہے، اس کا ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
اگر رونما ہونے والے فتنوں،اس میں شرکت کرنے والوں اور غیر جانبدار رہنے والوں پر غور کیا جائے تو مذکورہ بالا حدیث مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔
اگر رونما ہونے والے فتنوں،اس میں شرکت کرنے والوں اور غیر جانبدار رہنے والوں پر غور کیا جائے تو مذکورہ بالا حدیث مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔
حدیث نمبر: 12882
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنِي شَقِيقٌ قَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ وَوَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ وَقَالَ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ قُلْتُ أَنَا كَمَا قَالَهُ قَالَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ عَلَيْهَا أَوْ عَلَيْهِ قُلْتُ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ قَالَ لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ وَلَكِنِ الْفِتْنَةُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ قُلْتُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا قَالَ أَيُكْسَرُ أَوْ يُفْتَحُ قُلْتُ بَلْ يُكْسَرُ قَالَ إِذًا لَا يُغْلَقُ أَبَدًا قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَقَالَ مَسْرُوقٌ لِحُذَيْفَةَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَا حَدَّثْتَهُ بِهِ قُلْنَا أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ قَالَ نَعَمْ كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً إِنِّي حَدَّثْتُهُ لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ فَهِبْنَا حُذَيْفَةَ أَنْ نَسْأَلَهُ مَنِ الْبَابُ فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ الْبَابُ عُمَرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے سوال کیا کہ کیا تم میں سے کسی کو فتنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث یا دہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، مجھے فتنہ کے متعلق حدیث یاد ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتنہ کے بارے میں احادیث بیان کرنے میں تم جرأت والے ہو۔ میں نے کہا: انسان اپنے اہل و عیال، مال و اولاد اور ہمسایوں کے بارے میں جتنے فتنوں میں مبتلا ہوتا ہے، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے منع کرنے جیسی نیکیاں ایسے فتنوں کا کفارہ بنتی رہتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایسے فتنے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا، میرا سوال تو اس فتنے کے بارے میں ہے جو سمندر کی موج کی طرح آئے گا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین ! آپ کو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ انہوں نے پوچھا: اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: بلکہ اسے توڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا: پھر تو وہ کبھی بھی بند نہ ہو سکے گا۔ ہم نے سیدنا حذیفہ سے دریافت کیا کہ آیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ علم تھا کہ دروازہ سے مراد کون آدمی ہے؟ انہوں نے کہا:جی ہاں، وہ اس دروازے کو اس طرح جانتے تھے، جیسے وہ یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی۔ وکیع نے اپنی حدیث میں یوں بیان کیا: مسروق نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جو کچھ بیان کیا، آیا وہ اس کی حقیقت اور مفہوم کو جانتے تھے؟ جبکہ ہم نے کہا: آیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ یہ دروازہ کون ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اس بات کو اس طرح جانتے تھے جیسے ان کو یہ علم تھا کہ کل سے پہلے رات آئے گی، یاد رکھو کہ میں نے یہ حقائق بیان کیے ہیں، یہ محض کہانیاں نہیں ہیں۔ پہلے تو ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنے کی جسارت نہ کر سکے کہ دروازہ سے مراد کون ہے؟ پھر ہم نے مسروق سے کہا کہ وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھے، سو جب اس نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انھوں نے بتلایا کہ اس دروازہ سے مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی شان ہی نرالی ہے، جس ہستی کے راستے پر شیطان نہ ٹھہر سکتا ہے، اس کے زمانے کی خیر و بھلائی اور امن و امان کا کیا کہنا۔ اگرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کے خلفائے عظام بھی برحق تھے، لیکن جو امتیازات عہد ِ فاروقی کے تھے، وہ بعد والے کسی زمانے کا مقدر نہ بن سکے۔
حدیث نمبر: 12883
وَعَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”احْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الْإِسْلَامَ“ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّمِائَةِ إِلَى السَّبْعِمِائَةِ قَالَ فَقَالَ ”إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوا“ قَالَ فَابْتُلِينَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لَا يُصَلِّي إِلَّا سِرًّا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے لیے اسلام کا کلمہ پڑھنے والوں کو شمار کرو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہماری تعداد چھ سو سے سات سوکے درمیان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے کہ تم پر آزمائشیں آ پڑیں۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہمیں اس طرح آزمایا گیا کہ آدمی کو نماز بھی چھپ چھپ کر ادا کرنا پڑی۔
وضاحت:
فوائد: … بنو امیہ کے زمانے میں یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: یہ صحیح ثابت ہے کہ حجاج بن یوسف اور اس کا امیر ولید وغیرہ نماز کو اس کے پورے وقت سے لیٹ کر دیتے تھے، اس بارے میں آثار مشہور ہیں، مصنف عبد الرزاق میں ہے: امام عطاء رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: ایک دن ولید نے نمازِ جمعہ اتنی لیٹ کر دی کہ شام ہو گئی، پس میں آیا اور بیٹھنے سے پہلے نمازِ ظہر پڑھ لی اور پھر بیٹھ کر اشارے سے نمازِ عصر پڑھی، جبکہ وہ ابھی تک جمعہ کا خطبہ دیے جا رہا تھا۔ امام عطاء نے قتل کے ڈر سے ایسے کیا تھا، ایک روایت امام بخاری کے شیخ ابو نعیم نے اپنی کتاب الصلاۃ میں بیان کی ہے، ابو بکر بن عتبہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی، اُدھر حجاج نے نماز پڑھنے میں شام کر دی، پس سیدنا ابو جحیفہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے اپنی نماز پڑھ لی، انھوں نے یہ اثر بھی نقل کیا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حجاج کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، لیکن جب اس نے نماز کو مؤخر کرنا شروع کیا تو وہ اس کے ساتھ پڑھنے کے لیے آتے ہی نہیں تھے، نیز محمد بن ابی اسماعیل نے کہا: میں مِنٰی میں تھا اور ولید پر صحیفے پڑھے جا رہے تھے، پس ان لوگوں نے نماز کو لیٹ کر دیا، میں نے سعید بن جبیر اور عطاء کو دیکھا کہ وہ بیٹھ کر اشاروں سے نماز ادا کر رہے تھے۔(فتح الباری: ۲/ ۱۴)
حدیث نمبر: 12884
عَنْ أَبِي ثَوْرٍ قَالَ بَعَثَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجَرَعَةِ بِسَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ فَخَرَجُوا إِلَيْهِ فَرَدُّوهُ قَالَ فَكُنْتُ قَاعِدًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ يَرْجِعَ لَمْ يُهْرِقْ فِيهِ دَمًا قَالَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ لَتَرْجِعَنَّ عَلَى عُقَيْبِهَا لَمْ يُهْرِقْ فِيهَا مَحْجَمَةَ دَمٍ وَمَا عَلِمْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا عَلِمْتُهُ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا ثُمَّ يُمْسِي مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ مَا مَعَهُ مِنْهُ شَيْءٌ يُقَاتِلُ فِئَتُهُ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا يُنَكِّسُ قَلْبَهُ تَعْلُوهُ إِسْتُهُ قَالَ فَقُلْتُ أَسْفَلُهُ قَالَ إِسْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوثور کہتے ہیں: امیرالمومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے جرعہ کے فتنہ کے موقعہ پر سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو اس فتنہ کو فرو کرنے کے لیے روانہ کیا، لوگ ان کے مقابلے کے لیے نکلے اور ان کو واپس بھگا دیا۔ ابوثور کہتے ہیں: میں سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہ لوگ خون بہائے بغیر یوں ہی واپس پلٹ آئیں گے، ان کی بات سن کر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو اس بات کو یقینی طور پر جانتا تھا کہ یہ لوگ یونہی واپس پلٹ آئیں گے اور جتنا خون سینگی لگوانے میں نکلتا ہے، اس مہم میں اتنا خون بھی نہیں بہایا جائے گا اور مجھے اس بات کا اس وقت علم ہو گیا تھا، جب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات تھے، (ایسی صورتحال بھی پیدا ہو گی کہ ایک آدمی ایمان کی حالت میں صبح کرے گا، لیکن جب شام ہوگی تو اس کے پاس اس ایمان میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، اسی طرح ایک آد می ایمان کی حالت میں شام کرے گا، مگر صبح کے وقت اس کے پاس ایمان نام کی کوئی چیز باقی نہیں ہوگی، اس کا لشکر آج کسی کے ساتھ قتال کرے گا اور اگلے دن اللہ تعالیٰ اسی کو قتل کردے گا، اس کے دل کو یوں الٹ پلٹ کرے گا کہ اس کی دبر اس کی اوپر کی جانب ہوگی۔ میں نے کہا: اس کی نچلی جانب؟ اس نے جواب دیا: اس کی دبر۔