کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان عام فتنوں اور اہم امور کا بیان، جن کے وقوع پذیر ہونے کے بعد قیامت قائم ہوگی
حدیث نمبر: 12855
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ“ وَبِهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ أَوْ قَالَ إِنَّ رَبِّي زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي أَنْ لَا يُهْلِكُوا بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَقَالَ يُونُسُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي أَعْطَيْتُ لِأُمَّتِكَ أَنِّي لَا أُهْلِكُهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا أُسَلِّطُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ سِوَى أَنْفُسِهِمْ يَسْتَبِيحُ بَيْضَتَهُمْ وَلَوِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِ أَقْطَارِهَا أَوْ قَالَ مَنْ بِأَقْطَارِهَا حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُسْبِي بَعْضًا وَإِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ وَإِذَا وُضِعَ فِي أُمَّتِي السَّيْفُ لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْحَقَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي بِالْمُشْرِكِينَ حَتَّى تَعْبُدَ قَبَائِلُ مِنْ أُمَّتِي الْأَوْثَانَ وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ڈر ہے۔ پھر اسی سند سے سیدناثوبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سکیڑ دیا اور میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچے گی جہاں تک اس نے زمین کو میرے لیے سکیڑا اور مجھے سرخ و سفید (یعنی سونے اورچاندی) کے دو خزانے عطا کیے گئے، میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ان کو عام قحط کے ذریعے ہلاک نہ کیا جائے اور ان پر ان کے غیر کو مسلّط نہ کیا جائے کہ وہ ان کا ستیاناس کر دے۔ میرے ربّ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! میں جب کوئی فیصلہ کر لیتا ہوں تو اسے تبدیل نہیں کیا جاتا اور میں آپ کی یہ دعا آپ کی امت کے حق میں قبول کر تا ہوں کہ میں انہیں عام قحط کے ذریعے ہلاک نہیں کروں گا اور نہ ہی ان کے غیر کو ان پر مسلط کروں گا، جو انہیں قتل کر کے ان کو جڑ سے اکھاڑ دے، خواہ روئے زمین کے تمام دشمن جمع ہو کر آ جائیں، البتہ یہ ہو گا کہ یہ خود ایک دوسرے کو قیدی بنانے لگیں گے، اور مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ضرور ہے اور جب میری امت میں ایک دفعہ تلوار چل جائے گی،تو وہ قیامت تک بند نہیں ہو گی، نیز قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی جب تک کہ میری امت کے کئی قبائل مشرکوں کے ساتھ نہیں مل جائیں گے اور میری امت کے بہت سے قبائل بتوں کی پوجا شروع کر دیں گے،عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخر ی نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میری امت میں ایک گروہ قیامت تک حق پر قائم اور غالب رہے گا، ان سے اختلاف کرنے والا ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معجزاتی طور پر مسلم فاتحین کی فتوحات کا سلسلہ دکھا دیا گیا، امام نووی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیسے خبر دی، ایسے ہی واقع ہوا، اس حدیث میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ اس امت کی بادشاہت زیادہ تر شرق و غرب کی جہتوں کی طرف پھیلے گی اور عملاً ایسے ہی ہوا اور یہ سلسلہ شمال و جنوب کی طرف زیادہ نہ پھیل سکا۔
سرخ و سفید (سونے اور چاندی) کے دو خزانے: سونے سے مراد کسری کے خزانے ہیں، ان کی زیادہ تر نقدی دیناروں پر مشتمل تھی اور چاندی سے مراد قیصر کے خزانے ہیں، ان کی زیادہ تر نقدی چاندی کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12855
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1920، 2889، وابوداود!: 4252 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22816»
حدیث نمبر: 12856
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”يُوشِكُ أَنْ تَتَدَاعَى عَلَيْكُمُ الْأُمَمُ مِنْ كُلِّ أُفُقٍ كَمَا تَتَدَاعَى الْأَكَلَةُ عَلَى قَصْعَتِهَا“، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ”أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنْ تَكُونُونَ غُثَاءً كَغُثَاءِ السَّيْلِ، يُنْتَزَعُ الْمَهَابَةُ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمْ، وَيُجْعَلُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ“، قَالَ: قُلْنَا: وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: ”حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ ساری ملّتوں والے ہر طرف سے تم پر اس طرح جھپٹ پڑیں، جیسے کھانے والے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ان دنوں میں قلیل ہوں گے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی، لیکن تمہاری حیثیت سیلاب کے ساتھ بہنے والے پتوں، تنکوں اور جھاگ کی سی ہو گی اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمہارے دلوں میں وَھْن آجائے گا۔ ہم نے پوچھا: وھن سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا سے محبت کرنا اور موت کو ناپسند کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر دنیائے اسلام اس حدیث کی مصداق بن چکی ہے، مسلمانوں نے دنیوی محبت، موت کی کراہت اور دشمنوں کے رعب کی وجہ سے جہاد ترک کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف مسلمانوں اور اسلامی مملکتوں کا رعب ختم ہو چکا ہے، بلکہ وہ دشمنوں کے سامنے بری طرح مرعوب ہو چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12856
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 4297 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22760»
حدیث نمبر: 12857
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيَّ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس وقت تک ہرگز ہلاک نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ وہ بہت گناہوں اور عیبوں والے نہ ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12857
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22873»
حدیث نمبر: 12858
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی علاماتِ قیامت میں سے ہے کہ ایک آدمی محض اپنی واقفیت اور تعارف کی وجہ سے دوسرے پر سلام کرے گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بیماری بھی مسلمانوں میں عام ہو گئی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے رشتے کو سامنے رکھ کر سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن ہم پر ہماری ذاتی معرفت کا لحاظ غالب آ گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12858
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديثه حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 9491، والحاكم: 4/ 445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3848»
حدیث نمبر: 12859
عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَوْ فِي شِرَارِ الْخَلْقِ أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ سلامہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز بھی علاماتِ قیامت سے ہے یا لوگوں کی برائیوں میں سے ہے کہ مسجد والے (سارے لوگ امامت کرانے کے لیے) ایک دوسرے کو آگے دھکیلیں گے، چنانچہ وہ کوئی امام نہیں پائیں گے، جو ان کو نماز پڑھائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12859
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حالِ كلٍّ من ام غراب وعقيلة، وام غراب ھي طلحة مولاة بني فزارة، أخرجه ابوداود: 581 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27679»
حدیث نمبر: 12860
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”لَا يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِي إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَطْلُعَ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ حَتَّى يُولَدَ فِي الْجَوْرِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ، ثُمَّ يَأْتِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالْعَدْلِ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَيْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ حَتَّى يُولَدَ فِي الْعَدْلِ مَنْ لَا يَعْرِفُ غَيْرَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد کچھ عرصہ تک ظلم بندرہے گا، پھر وہ پھیلنا شروع ہوجائے گا اور جس قدر ظلم پھیلے گا، اسی مقدار میں عدل اٹھتا جائے گا، یہاں تک کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے، جوظلم کے علاوہ کسی اور چیز کو پہنچانتے نہیں ہوں گے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ عدل کو لے آئے گا اور جس قدر عدل پھیلتا جائے گا، اسی مقدار میں ظلم اٹھتا جائے گا، یہاں تک ایسے لوگ لوگ پیدا ہو جائیں گے، جو عدل کے علاوہ کسی اور چیز کو جانتے نہیں ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن عملی طور پر خلفائے راشدین کے بعد امت مسلمہ میں ظلم پھیلتا رہا اور عدل کم ہوتا رہا، اور آج تلک یہی سلسلہ جاری ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12860
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف ، خالد بن طھمان ضعفه ابن معين، وقال: خلط قبل موته بعشر سنين، وكان قبل ذالك ثقة، وأما نافع بن ابي نافع الراوي عن معقل، فان كان ھو نفيع بن الحارث ابا داود الاعمي، فھو متروك الحديث، وان كان غيره فھو لايعرف، أخرجه الترمذي: 2922 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20574»
حدیث نمبر: 12861
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ذَكَرْنَا الدَّجَّالَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظَ مُحْمَرًّا لَوْنُهُ فَقَالَ ”غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ“ ذَكَرَ كَلِمَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر کر رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوگئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں دجال کے علاوہ ایک اور چیز کا زیادہ ڈر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بات ذکر کی۔
وضاحت:
فوائد: … مسند ابی یعلی کی روایت میں اس چیز کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ ہے: ((اَئِمَّۃٌ مُضِلُّوْنَ)) … گمراہ کرنے والے حکمران
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12861
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، أخرجه ابن ابي شيبة: 15/ 142، وابويعلي: 466 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 765»
حدیث نمبر: 12862
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَذْكُرُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مُدَّةُ أُمَّتِكَ مِنَ الرَّخَاءِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ كُلَّ ذَلِكَ لَا يُجِيبُهُ ثُمَّ انْصَرَفَ الرَّجُلُ ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أَيْنَ السَّائِلُ“ فَرَدُّوهُ عَلَيْهِ فَقَالَ ”لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي مُدَّةُ أُمَّتِي مِنَ الرَّخَاءِ مِائَةُ سَنَةٍ“ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ إِمَارَةٍ أَوْ عَلَامَةٍ أَوْ آيَةٍ فَقَالَ ”نَعَمْ الْخَسْفُ وَالرَّجْفُ وَإِرْسَالُ الشَّيَاطِينِ الْمُجْلَبَةِ عَلَى النَّاسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی امت کی خوشحالی کتنی مدت تک رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، اُدھر اس نے تین مرتبہ اس سوال کو دہرا دیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، وہ آدمی چلا گیا، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ: وہ سائل کہاں ہے؟ صحابہ نے اسے واپس بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے کہ میری امت میں سے کسی نے بھی مجھ سے یہ سوال نہیں کیا، بات یہ ہے کہ میری امت کی خوشحالی کی مدت ایک سو سال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ دہرائی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی کوئی علامت بھی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، زمین میں لوگوں کا دھنسنا، زلزلے آنا اورشیطانوں کو چھوڑا جانا، جو لوگوں کے خلاف چہار طرف سے اکٹھے ہو کر آئیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12862
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابو عطاء السكسكي روي عنه اثنان ولم يوثقه غير ابن حبان، ومعاذ بن سعد السكسكي مجھول، أخرجه الطبراني في الشاميين : 2555 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23151»
حدیث نمبر: 12863
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ لَا يُدْرِكُنِي زَمَانٌ أَوْ لَا تُدْرِكُوا زَمَانًا لَا يُتْبَعُ فِيهِ الْعَلِيمُ وَلَا يُسْتَحْيَا فِيهِ مِنَ الْحَلِيمِ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الْأَعَاجِمِ وَأَلْسِنَتُهُمْ أَلْسِنَةُ الْعَرَبِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! مجھے ایسا دور نہ پائے یا تم لوگ ایسا زمانہ نہ دیکھو کہ جس میں صاحب ِ علم کی پیروی نہیں کی جائے گی، بردبار اور متحمل مزاج شخص سے شرمایا نہیں جائے گا، اس وقت کے لوگوں کے دل عجمیوں کے دلوں جیسے ہوں گے اور ان کی زبانیں عربوں کی زبانوں جیسی ہوں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12863
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة جميل الاسلمي الحذائ، أخرجه الحاكم: 4/ 510 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23267»
حدیث نمبر: 12864
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُوَ يَقُولُ ”لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا فُتِحَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْخَزَائِنِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجَرِ يَا رَبَّ كَاسِيَاتٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَاتٍ فِي الْآخِرَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو بیدار ہوئے اور فرمانے لگے: اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر خزانوں کے منہ کھول دیئے گئے، اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، آج رات کس قدر فتنے نازل کر دئیے گئے، کوئی ہے جو جاکر ان حجروں والیوں کو جگائے، کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔
وضاحت:
فوائد: … خواب میں وحی یا فرشتے کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مستقبل میں نازل ہونے والی رحمتوں اور عذابوں کے بارے میں بتلایا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں عبادت سے غافل نہ ہوں اور اس شرف پر اکتفا نہ کریںکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ہیں۔
کتنی ہی عورتیں ہیں جو دنیا میں لباس پوش ہیں، لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اس جملے کے مختلف معانی بیان کیے گئے ہیں: ۱۔ نسب، مال یا کسی اعزاز کی وجہ سے دنیا میں باعزت، باوقار اور بارعب ہونے کے اسباب موجود ہیں، لیکن آخرت میں یہ سب چیزیں بے وقعت ہو جائیں گی اور اعمال صالحہ کا ذخیرہ ہو گا نہیں۔
۲۔ غِنٰی کی وجہ سے دنیا میں تو ملبوسات مہیا کر لیے ہیں، لیکن اعمال صالحہ نہ ہونے کی وجہ سے آخرت میں ننگی ہوں گی۔
۳۔ لباس تو پہنا ہوا ہے، لیکن وہ اس قدر باریک ہے کہ پردہ نہیں ہو رہا، اس جرم کی آخرت میں سزا ہو گی۔
سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12864
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1126، 5844 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27080»
حدیث نمبر: 12865
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ عذاب سب لوگوں پر نازل ہوتا ہے، پھر حشر میں لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … جب کسی قوم پر عذاب آتا ہے تو بیچ میں نیک لوگ بھی رگڑے جاتے ہیں، لیکن جب ان کا حشر ہو گا تو ان کی نیکیوں کا لحاظ رکھا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12865
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7108، ومسلم: 2879 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5890»
حدیث نمبر: 12866
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ایسا فتنہ آئے گا جو تمام عربوں کا ستیاناس کر دے گا، اس فتنہ میں قتل ہونے والے لوگ جہنمی ہوں گے، اس فتنہ کے دوران زبان کو استعمال کرنا تلوار کو استعمال کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہوگا۔
وضاحت:
فوائد: … لیکن یہ بات درست ہے کہ زمانۂ فتن میں زبان کے معاملے میں انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12866
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم وجھالة حال زياد بن سيماكوش، وھو تابعي يمامي، أخرجه ابوداود: 4265، والترمذي: 2178، وابن ماجه: 3967، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6980»
حدیث نمبر: 12867
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے اندھیروں کی طرح پے در پے آنے والے فتنوں سے پہلے پہلے نیک عمل کرلو، ایک ایسا وقت آنے والا ہے کہ ایک آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا، لیکن شام کو کافر ہوچکا ہوگا یا وہ شام کے وقت تو مومن ہوگا، لیکن صبح کو کافر ہوچکا ہوگا، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی مال کے عوض بیچ ڈالے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12867
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8017»
حدیث نمبر: 12868
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا سَتَأْتِي عَلَى النَّاسِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ يَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ“ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ ”السَّفِيهُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایسے زمانے آئیں گے کہ جن میں حالات اس طرح تبدیل ہو جائیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا اور خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن قرار دیا جائے گا اور گھٹیا قسم کے لوگ (عوام الناس کے امور پر) بولیں گے۔ کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ بے وقوف ہیں جو عام لوگوں کے امور کے بارے میں باتیں کر کے فیصلے کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … کون سمجھے ان حقائق کو؟ آج کل فیصلہ کرنے والے لوگ کون ہیں؟ لوگوں کی قیادت کرنے والے افراد کیسے ہیں؟ خاندانوں کے سربراہوں کی مذہبی کیفیت کیسی ہے؟ سیاست میں گشت کرنے والوں کے حالات کیسے ہیں؟ صرف تعلیمی اداروں میں اسلامیات کے اعلی تعلیم یافتہ مدرسین کی یہ کیفیت ہے کہ وہ شرعی آداب اور حدود کے پابند نہیں ہوتے، بے پردہ عورتوں میں گھل مل کر رہتے ہیں، اپنے سہولت آمیز اور گندے مزاج کے مطابق اسلام کو لچک دار بناتے ہیں، بلکہ اسلامیات کے ایک پی ایچ ڈی پروفیسر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اب بے پردگی کی اور خواتین و حضرات کی آپس میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے کی گنجائش نکالنا پڑے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12868
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه ابن ماجه: 4036 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7899»
حدیث نمبر: 12869
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ أَمَامَ الدَّجَّالِ سِنِينَ خَدَّاعَةً“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَفِيهِ قِيلَ وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ قَالَ ”الْفُوَيْسِقُ يَتَكَلَّمُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا دجال سے پہلے بھی ایسے سال آئیں گے کہ جن میں حقائق کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ آگے اوپر والی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے: کسی نے پوچھا کہ الرُّوَیْبِضَۃُ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ فاسق اور گھٹیا شخص جو عام لوگوں کے امور پر بحث کرے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12869
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، أخرجه الطبراني في الاوسط : 3282، والبزار: 3373، وابويعلي: 3715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13331»
حدیث نمبر: 12870
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ بِحَرَامٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان مال کے بارے میں یہ پروا نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔
وضاحت:
فوائد: … اب ایسے ہی ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12870
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2059، 2083، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9838 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9837»
حدیث نمبر: 12871
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّحَالِ، يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، عَلَى رُؤُوسِهِنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ، اِلْعَنُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ، لَوْ كَانَتْ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَخَدَمَهُنَّ نِسَاؤُكُمْ، كَمَا خَدَمَكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ کجاووں کی طرح کی زینوں پر سوار ہوں گے‘ وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ ان کے سر کمزور بختی اونٹوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے۔ ایسی عورتیں ملعون ہیں‘ ان پر لعنت کرنا، اگر تمھارے بعد کوئی اور امت ہوتی تو تمھاری عورتیں اس کی خدمت کرتیں جیسا کہ تم سے پہلے والی امتوں کی عورتوں نے تمھاری خدمت کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی کر دی، ایسے ہی ہو رہا ہے۔
لباس کے باوجود عورت کا برہنہ یا نیم برہنہ ہونا، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس دور کا امتیازی وصف ہے۔ بازاروں، پارکوں، تعلیمی اداروں اور سیرگاہ بن جانے والی مسجدوں میں اور شادی بیاہ کے موقع پر یہ شرّاتنا عام ہو چکا ہے کہ بے غیرتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ رہی سہی کمی میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ خاندانوں کے سربراہ اس قدر بے حس ہو گئے ہے کہ وہ اس کو برائی تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔
رہا مسئلہ گاڑیوں پر سوار ہو کر مساجد کی طرف آنے کا، تو شرعی مسئلہ کی حد تک اس کی گنجائش ملتی ہے، لیکن اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا ہے؟ شیخ البانی کے درج ذیل کلام میں جواب دیا جائے گا۔
شیخ البانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: (فوائد المخلص) میں الرحال کے الفاظ ہیں،جب کہ (مسند الامام احمد) اور (الموارد) میں الرجال کے۔ اسی روایت کی شرح کرتے ہوئے شیخ احمد عبد الرحمن بُنّا نے (الفتح الربانی: ۱۷/۳۰۱) میں کہا: (جو لوگ اپنی عورتوں کو بے پردہ چھوڑ دیتے ہیں) وہ انسانی وجود میں ڈھلے ہوئے انسان ضرور ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں مرد نہیں ہوتے، کیونکہ جو مرد حسّی اور معنوی طور پر کامل ہوتا ہے، وہ اپنی عورتوں کو ایسا لباس نہیں پہننے دیتا، جس سے ان کے جسم کا پردہ ہی نہ ہو۔
لیکن وہ اس اشکال پر مطلع نہ ہو سکے، جس کے بارے میں شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ تعالیٰ نے مسند احمد پر حاشیہ لگاتے ہوئے کہا: (اگر الرجال کے الفاظ پر مشتمل روایت کو درست تسلیم کریں تو) اس حدیث مبارکہ کے الفاظ میری امت کے آخری زمانے میں لوگ، لوگوں کی طرح زینوں پر سوار ہوں …۔ میں اشکال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ مردوں کو مردوں سے تشبیہ دینا بعید بات ہے اور اس کی تاویل میں تکلف پایا جا تا ہے، امام حاکم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((سَیَکُوْنُ فِیْ آخِرِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ رِجَالٌ یَرْکَبُوْنَ عَلٰی الْمَیَاثِرِ حَتّٰی یَاْتُوْا اَبْوَابَ مَسَاجِدِھِمْ، نِسَاؤُھُمْ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ …۔)) یعنی: میری امت کے آخری زمانے میں لوگ ریشم و دیباج سے آراستہ سواریوں پر سوار ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے‘ ان کی عورتیں لباس پہننے کے باجود ننگی ہوں گی‘ …۔ اور طبرانی کے حوالے سے (مجمع الزوائد) میں بیان کردہ الفاظ یہ ہیں: ((سیکون فی امتی رجال یرکبون نساؤھم علی سروج کأشباہ الرجال۔)) مجمع الزوائد کے طابع نے جرأت یا جہالت کی بنا پر اس روایت کے الفاظ یُرْکِبُون کو یرکب سے بدل دیا، میرے نزدیک تو یُرْکِبُونَ نِسَائَ ھُم کے الفاظ واضح اور ظاہر ہیں۔
بہرصورت حدیث ِ مبارکہ کا مرادی معنی واضح ہے اور عصرِ حاضر میں ثابت ہو چکا ہے، بلکہ اس دور سے پہلے بھی لعنت وصول کرنے والی برہنہ عورتوں کا وجود ملتا ہے۔
میں (البانی) کہتا ہوں: اگر شیخ احمد شاکر کو الرحال والی روایت کا علم ہوتا تو ان کا اشکال دور ہو جاتا اور بغیر کسی تکلف و توجیہ کے معنی درست ہو جاتا، میرے نزدیک تو تین اسباب کی بنا پر اِنہی الفاظ والی روایت راجح ہے۔
یہ حدیث ِ مبارکہ اسے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے، آج کل واقعی لوگ گاڑیوں پر سوار ہو کرمساجد کے دروازوں تک پہنچتے ہیں۔ جمعہ کے دن اتنی موٹر کاریں اور دوسری گاڑیاں جمع ہو جاتی ہیں کہ سڑک کھلی ہونے کے باوجود تنگ پڑ جاتی ہے۔ ان لوگوں کی کثیر تعداد یا تو سرے سے باقی پانچ نمازوں کا اہتمام نہیں کرتی یا پھر اپنے گھروں میں ادا کرنے پر اکتفا کرتی ہے۔ گویا کہ ان لوگوں نے نمازِ جمعہ کو ہی کافی سمجھ لیا ہے، اس لیے اس موقع پر ان کی کثیر تعداد موجود ہوتی ہے، گاڑیوں کے ذریعے مساجد تک پہنچنے کی وجہ سے یہ لوگ نماز کے مقصد اور ثمرہ سے محروم رہتے ہیں، اور ایسے لوگوں کی بیویوں اور بیٹیوں کا معاملہ بھی بڑا واضح ہے۔
اس سے بڑھ کر اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک اور مصداق نمازِ جنازہ کے موقع پر دکھائی دیتا ہے۔ نازک مزاج، عیش پرست اور آسودگی کی وجہ سے مغرور اور فرضی نماز کو ترک کرنے والے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر نمازِ جنازہ کے پیچھے چلتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب جنازہ کو گاڑی سے اتار کر مسجد میں یا جنازہ گاہ میں رکھا جاتا ہے تو یہ لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھے رہتے ہیں، البتہ جب دفنانے کا وقت آتا ہے تو عبادت یا ذکرِ آخرت کی بنا پر نہیں، بلکہ نفاق، مداہنت اور چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے جنازے کے ساتھ چل پڑتے ہیں ہیں۔ بس اللہ ہی ہے، جس سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
میرے نزدیک تو تاویل کی یہی صورت بہتر ہے، اگر یہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر یہ خطا پر مبنی ہے تو میری طرف سے ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سے سوال ہے کہ وہ میرے تمام گناہ معاف کر دے، وہ دانستہ طور پر کیے ہوں یا نادانستہ طور پر۔ (صحیحہ: ۲۶۸۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12871
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الطبراني في الصغير : 1125، والحاكم: 4/ 436،و ابن حبان: 5753 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7083 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7083»
حدیث نمبر: 12872
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ”سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا بِهِ أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب آخری زمانہ میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے کہ جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس ایسے لوگوں سے بچ کر رہنا۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! ناخواندہ تو کجا، تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس حدیث کا مصداق بننے سے نہ بچ سکا، صرف دو مثالوں پر غور کریں: ۱۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ مِنَ الْمَہْدِ إِلَی اللَّحْدِ … گود سے گور تک علم حاصل کر۔
۲۔ أُطْلُبِ الْعِلْمَ وَلَوْ فِیْ الصِّیْنِ … علم حاصل کر، اگرچہ تجھے چین جانا پڑے۔
یہ دونوں حدیثیں ہمارے تعلیمی اداروں میںبہت مشہور ہیں اور بڑی کثرت کے ساتھ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کی کوئی اصل نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12872
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه مسلم في المقدمة: 6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8250»
حدیث نمبر: 12873
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ“ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: ”ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے، جو بظاہر بھائی بھائی(اورخیر خواہ) دکھائی دیں گے، لیکن باطنی طور پر ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! ایسے کیوں ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے بعض کی بعض کی طرف رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ایسا ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12873
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم، وحبيبُ بن عبيد الرحبي لم يدرك معاذا، أخرجه الطبراني في الاوسط : 437، والبزار: 2650 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22405»