کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: روافض کا بیان
حدیث نمبر: 12831
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ فِي سَنَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ ثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ فِي سَنَةِ أَرْبَعِينَ وَمِائَتَيْنِ ثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ عَنْ كَثِيرٍ النَّوَاءِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنِ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يُسَمَّوْنَ الرَّافِضَةَ يَرْفُضُونَ الْإِسْلَامَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آخری زمانہ میں کچھ لوگ نمودار ہوں گے، ان کا نام رافضہ ہوگا، وہ اسلام کو چھوڑ دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورِ خلافت تک تمام امت متحد و متفق تھی، پھر آہستہ آہستہ انتشار آنا شروع ہوا، اس انتشار پھیلانے والوں سے ایک یہودی عالم عبد اللہ بن سباء بھی تھا، اس نے ابتداء میں یہ کہنا شروع کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، مگر حجاز، شام اور عراق والوں نے بالکل اس کی بات کو نہ مانا، اس کے بعد وہ شخص مصر چلا گیا، وہاں اس نے یہ باتیں کہنا شروع کیں اور ساتھ ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو اور مبالغہ کرنا شروع کردیا اور اس نے یہی بات لوگوں کے ذہن میں ڈالی کہ آپ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت کے مستحق تھے، مگر ان کو یہ حق نہیں دیا گیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف مختلف شکایات شروع کردیں، یہاں تک کہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت ہوگئی اور پھر اسی انتشار میں جنگ جمل اور جنگ صفیں ہوئی اور ہزاروں مسلمان شہید ہوئے اور آخر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کردیا گیا۔ یہودی عبد اللہ بن سبا کی شروع کردہ تحریک میں ایک طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں مبالغہ اور دوسری طرف سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض اور ساتھ ساتھ یہ نظریہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولاد خلافت کی مستحق ہے، نیز یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد امامت کا سلسلہ ہے تاکہ امت کی رہنمائی ہوتی رہے اور پھر آہستہ آہستہ یہ تمام نظریات زور پکڑتے گئے۔
اس شخص کے عقائد ونظریات سے رفض نے جنم لیا، رفض کے بہت سے گروہ ہیں، بعض محض تفضیلی ہیں کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ سے افضل سمجھتے ہیں اور کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کرتے، بعض تبرائی ہیں کہ چند صحابہ کے علاوہ باقی سب کو برا بھلا کہتے ہیں، بعض الوہیت ِ علی رضی اللہ عنہ کے قائل ہیں، بعض تحریف ِ قرآن کے قائل ہیں، بعض صفات باری تعالیٰ کے مخلوق ہونے کے قائل ہیں، بعض اس بات کے قائل ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر بہت سی چیزیں واجب ہیں، بعض آخرت میں رؤیت باری تعالیٰ کے قائل نہیں ہیں، وغیر وغیرہ۔ رفض کے ہرگروہ کے عقائد دوسرے سے مختلف ہیں لہٰذا بحیثیت مجموعی ان پر کوئی ایک حکم نہیں لگایاجاسکتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12831
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف جدا لضعف يحيي بن المتوكل وكثير النوائ، أخرجه البيھقي: 6/ 547، والبزار: 499 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 808 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 808»
حدیث نمبر: 12832
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تیس ایسے دجال اور کذاب ظاہر نہ ہوجائیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آیا ہے نہ آئے گا اور ایسا دعوی کرنے والا جھوٹا، کذاب اور دجال قرار پائے گا۔ ذہن نشین رہے کہ اس حدیث سے وہ مدعیانِ نبوت مراد نہیں جنھوں نے مطلق طور پر نبوت کا دعوی کیا، کیونکہ ایسے لوگ تو بہت زیادہ ہیں۔ احادیث میں جن ستائیس یا تیس کذابوں کا ذکر ہے، ان سے مراد وہ کم بخت ہیں، جن کو اس دعوی کی وجہ سے شان و شوکت ملی اور ان کو اپنی نبوت پر واقعی شبہ ہونے لگا، پھر لوگوں کی معقول تعداد بھی ان کے ساتھ ہو گئی۔ جیسے مرزا غلام احمد قادیانی کا مسئلہ ہے۔
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: جن دجّالوں نے نبوت کا دعوت کیا، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہندی ہے، جس نے ہند پر برطانوی استعمار کے عہد میں یہ دعوی کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، پھر اس نے اپنے آپ کو عیسیٰ علیہ السلام باور کرایا اور بالآخر نبوت کا دعوی کر دیا، قرآن و سنت کا علم نہ رکھنے والے کئی جاہلوں نے اس کی پیروی کی۔ ہند اور شام کے ایسے باشندوں سے میری ملاقات ہوئی، جو اس کی نبوت کے قائل تھے۔ میرے اور ان کے مابین کئی مناظرے اور بحث مباحثے ہوئے، ان میں سے ایک تحریری مناظرہ بھی تھا۔ ان مناظروںمیں ان کا دعوی تھا کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کئی انبیا آئیں گے، ان میں سے ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ شروع شروع میں انھوں نے ورغلانا اور پھسلانا چاہا اور مناظرہ کے اصل موضوع سے صرف نظر کرنا چاہا۔ لیکن میں نے ان کے حیلوں بہانوں کا انکار کیا اور اصل موضوع پر ڈٹا رہا۔ پس وہ بری ہزیمت سے دوچار ہوئے اور حاضرین مجلس کو پتہ چل گیا کہ یہ باطل پرست قوم ہے۔
ان کے کچھ دوسرے عقائد بھی باطل اور اجماعِ امت کے مخالف ہیں، بطورِ مثال: جسمانی بعث کا انکار کرنا اور یہ کہنا کہ جنت و جہنم کا تعلق روح سے ہے، نہ کہ جسم سے۔ کافروں کو دیا جائے والا عذاب بالآخر منقطع ہو جائے گا۔ جنوں کا کوئی وجود نہیں ہے اور جن جنوں کا قرآن مجید میں ذکر ہے، وہ حقیقت میں انسانوں کی ایک جماعت ہے۔
جب یہ لوگ قرآن کی کوئی آیت اپنے عقائد کے مخالف پاتے ہیں تو باطنیہ اور قرامطہ جیسے باطل فرقوں کی طرح اس کی غیر مقبول اور قابل انکار تاویل کرتے ہیں۔ اسی لیے انگریز مسلمانوں کے خلاف ان کی تائید و نصرت کرتے تھے۔ مرزا قادیانی کہتا تھا کہ مسلمانوں پر انگریزوں سے جنگ کرنا حرام ہے۔ میں نے ان پر ردّ کرنے کے لیے کئی کتابیں تالیف کیں اور ان میں یہ وضاحت کی کہ یہ فرقہ جماعۃ المسلمین سے خارج ہے۔ ان کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۱۶۸۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12832
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7121، ومسلم: ص 2239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10877»
حدیث نمبر: 12833
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابُونَ مِنْهُمْ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ وَمِنْهُمْ صَاحِبُ صَنْعَاءَ الْعَنْسِيُّ وَمِنْهُمْ صَاحِبُ حِمْيَرٍ وَمِنْهُمُ الدَّجَّالُ وَهُوَ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً“ قَالَ جَابِرٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِي يَقُولُ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے کئی کذاب ظاہر ہوں گے، ان میں سے ایک یمامہ والا‘ ایک صنعاء والا عنسی‘ ایک حمیر والا اور ایک دجال ہوگا، مؤخر الذکر کا فتنہ سب سے بڑا ہو گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے بعض اصحاب کہتے ہیں کہ ان کذابین کی تعداد تقریباً تیس ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12833
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لسوء حفظ عبد الله ابن لھيعة، أخرجه البزار: 3375 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14718 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14775»
حدیث نمبر: 12834
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي مُسَيْلَمَةَ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ ”أَمَّا بَعْدُ فَفِي شَأْنِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي قَدْ أَكْثَرْتُمْ فِيهِ وَأَنَّهُ كَذَّابٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا يَخْرُجُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ وَأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ بَلْدَةٍ إِلَّا يَبْلُغُهَا رُعْبُ الْمَسِيحِ يَعْنِي الدَّجَّالَ إِلَّا الْمَدِينَةَ عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْ نِقَابِهَا مَلَكَانِ يَذُبَّانِ عَنْهَا رُعْبَ الْمَسِيحِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبل اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسیلمہ کے متعلق کچھ فرمائیں، لوگوں نے اس کے بارے میں بہت باتیں کیں، بالآخر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ دینے کھڑے ہوئے اور فرمایا: أَمَّا بَعْدُ! تم نے اس آدمی کے متعلق بہت باتیں کی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ قیامت سے پہلے نمودار ہونے والے تیس کذابوں میں سے ایک ہے اور (یاد رکھو کہ) مدینہ منورہ کے علاوہ دنیا کے ہر شہر میں مسیح دجال کا رعب اورخوف پہنچے گا، مدینہ منورہ کے ہر راستے پر دو فرشتے مامور ہوں گے، وہ اس شہر سے مسیح دجال کے خوف کو دور رکھیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((بَیْنَمَا اَنَا نَائِمٌ، اُتِیْتُ بِخَزَائِنِ اْلَارْضِ، فَوُضِعَ فِي یَدِي سِوَارَانِ مَنْ ذَھَبَ، فَکَبُرَا عَلَيَّ وَاَھَمَّانِي، فَاُوْحِيَ اِلَيَّ اَنْ اَنْفُخَھُمَا، فَنَفَخْتُھُمَا فَذَھَبَا، فَاَوَّلْتُھُمَا: الْکَذَّابَیْنِ اللَّذَیْنِ اَنَا بَیْنَھُمَا: صَاحِبَ صَنْعَائَ، وَصَاحِبَ الْیَمَامَۃِ۔)) … میں سویا ہوا تھا، میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے، میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن رکھ دیے گئے، وہ مجھ پر گراں گزرے اور انھوں نے مجھے مغموم و بے چین کر دیا، میری طرف وحی کی گئی کہ پھونک مارو، میں نے پھونک ماری، وہ دونوں (میرے ہاتھ سے) ہٹ گئے۔ میں نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ ان سے مراد دو جھوٹے ہیں، کہ میں جن کے درمیان ہوں، (۱) صاحبِ صنعاء (یعنی اسود عنسی) اور (۲) صاحبِ یمامہ (یعنی مسیلمہ کذاب)۔ (صحیح بخاري: ۴۳۷۵، ۷۰۳۷، صحیح مسلم: ۷/۵۸)
اسود عنسی اور مسیلمہ دو جھوٹے مدعیانِ نبوت تھے۔یمن میں امن واسلام کی تکمیل ہو چکی تھی، ہر علاقے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال موجود تھے، اچانک کہف حنان نامی شہر میں سات سو جنگجوؤں کے ساتھ اسود عنسی ظاہر ہوا۔ وہ اپنے لیے نبوت و حکومت کا دعویدار تھا، اس نے آگے بڑھ کر صنعا پر قبضہ کر لیا، اس کے فتنے میں سختی اور حکومت میں طاقت آتی گئی، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال اشعریین کے علاقے میں سمٹ آئے، مسلمانوں نے اس کے ساتھ مصلحت سے کام لیا۔یہ سلسلہ تین چار ماہ تک جاری رہا۔ پھر فیزوز دیلمی اور اس کے فارسی ساتھیوں نے، جو مسلمان ہو چکے تھے، کوئی چال چلی اور فیروز نے اسے قتل کر کے اس کا سر کاٹا اور قلعہ کے باہر پھینک دیا۔ یہ دیکھ کر اس کے ساتھی بھاگ نکلے اور اہل اسلام غالب آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمال اپنے اپنے کاموں پر واپس آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع لکھ کر بھیج دی گئی۔ اس کے قتل کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے ایک یوم پہلے پیش آیا تھا، اس لیے صحابہ کرام کا خط ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں موصول ہوا تھا، لیکن آپ بذریعہ وحی صحابہ کرام کو اطلاع دے چکے تھے۔
فتح مکہ کے بعد مختلف قبائل کی طرف سے جو وفود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے، ان میں مسیلمہ بن حبیب بھی بنو حنیفہ کے وفد میں شامل تھا۔ جب یہ اپنے وطن یمامہ کی طرف واپس لوٹا اور انہیں ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طبیعت کے ناساز ہونے کی خبر مشہور ہوئی تو اس نے نبوت کا دعوی کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا عملی تدارک کیے بغیر دنیائے فانی سے روانہ ہو گئے۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مختلف وجوہات کی وجہ سے مسیلمہ کا فورا تدارک نہ کر سکے، بالآخر عکرمہ بن ابو جہل کو مسیلمہ کی سرکوبی پر نامزد فرمایا، پہلی لڑائی میں مسیلمہ شکست کھا گیا، لیکن پھر قبیلہ ربیعہ کے چالیس ہزار جنگجو مسیلمہ کے پاس جمع ہو گئے، ان میں بعض لوگ اس کو جھوٹا سمجھتے تھے، لیکن ہم قومیت کی بنا پر اس کی کامیابی کے خواہاں تھے، … … باغ کے اندر بھی جب ہنگامہ زور گرم ہوا تو مسیلمہ مجبوراً مسلح ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا اور لوگوں کو لڑنے کے لیے آمادہ کرنے لگا، لیکن جب اس نے ہر طرف مسلمانوں کو چیرہ دست دیکھا تو گھوڑے سے اتر کر باغ کے باہر چپکے سے جانے لگا۔ اتفاقاً باغ کے دروازے کے قریب وحشی کھڑا تھا، اس نے اپنا حربہ پھینک ماراجو مسیلمہ کی دوہری زرہ کو کاٹ کر اس کے پیٹ کے باہر نکل آیا، آخر کار دشمنوں میں سے جس کو جس طرف راستہ ملا، وہ بھاگ گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12834
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، رجاله ثقات رجال الصحيح، لكن اختلف فيه علي الزهري ، أخرجه الحاكم: 4/ 541، وابن حبان: 6652 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20699»