کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دور میں نمودار ہونے والے ان خوارج کا تذکرہ، جو متقدم الذکر عراقیوں کی اولا د تھے، ان کو حروریّہ بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 12827
عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَرُورِيَّةِ قَالَ أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ قَوْمًا ”يَخْرُجُونَ مِنْ هَهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْعِرَاقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ“ قُلْتُ هَلْ ذَكَرَ لَهُمْ عَلَامَةً قَالَ هَذَا مَا سَمِعْتُ لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یسیر بن عمرو سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور کہا کہ آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی ایسا فرمان سنائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حروریہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہو۔ انہوں نے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں اور اپنی طرف سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عراق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : ادھر سے کچھ لوگ نکلیں گے، وہ قرآن تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ دین سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے تیزی سے پار نکل جاتا ہے۔ میں نے پوچھا : آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے اتنا ہی سنا ہے، میں اس پر اضافہ نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12827
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6934، ومسلم: 1068 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15977 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16073»
حدیث نمبر: 12828
وَعَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ غَيْرِهِ فَإِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مُحَارِبٌ وَالْحَرْبُ خُدْعَةٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ فَإِنْ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی بہ نسبت مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں آسمان کی بلندی سے نیچے گر جاؤں، مگر جھوٹ نہ بولوں اور جب میں تمہیں کسی دوسرے کی کوئی بات سناؤں تو یاد رکھو کہ ان دنوں میری لوگوں سے لڑائی رہتی ہے اور لڑائی چالوں اور تدبیروں کو ہی کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: آخری زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو نو عمر اور کم عقل ہوں گے، وہ باتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کریں گے، لیکن ان کا ایمان ان کے گلوں سے آگے نہیں اترے گا، یہ لوگ تمہیں جہاں بھی ملیں، تم انہیں قتل کر دینا، کیونکہ ان کے قاتلوں کو قیامت کے دن اس قتل کا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12828
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6930، ومسلم: 1066 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 616»
حدیث نمبر: 12829
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”سَيَخْرُجُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّى عَدَّهَا زِيَادَةً عَلَى عَشْرَةِ مَرَّاتٍ كُلَّمَا خَرَجَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قُطِعَ حَتَّى يَخْرُجَ الدَّجَّالُ فِي بَقِيَّتِهِمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں مشرقی جہت سے ایسے لوگ نمودار ہوں گے، جو قرآن مجید تو بڑے خوبصورت انداز میں پڑھیں گے، لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ،جب بھی ان میں سے کوئی نسل ظاہر ہو گی تو اسے قتل کر دیا جائے گا، پھر جب ان کی نسل منظرِ عام پر آئے گی تو اسے بھی قتل کر دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس دفعہ ان کا اسی طرح ذکر کیا (اور آخری مرتبہ فرمایا:) جب بھی ان کی نسل ظاہر ہو گی تو اسے ختم کر دیا جائے گا، یہان تک کہ ان کے باقی ماندہ لوگوں میں دجال نمودار ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12829
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، أخرجه الطيالسي: 2293، وعبد الرزاق: 20790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6871»
حدیث نمبر: 12830
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يُسِيئُونَ الْأَعْمَالَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ“ قَالَ يَزِيدُ أَحَدُ الرُّوَاةِ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ ”يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ عَمَلَهُ مَعَ عَمَلِهِمْ يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ فَإِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ ثُمَّ إِذَا خَرَجُوا فَاقْتُلُوهُمْ فَطُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ كُلَّمَا طَلَعَ مِنْهُمْ قَرْنٌ قَطَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ“ فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً أَوْ أَكْثَرَ وَأَنَا أَسْمَعُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میری امت میں ایک ایسی بد عمل قوم پیدا ہو گی، کہ وہ قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا، (بظاہر ان کے عمل اتنے اچھے ہوں گے کہ) تم اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں کم تر سمجھو گے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، جب ایسے لوگ نمودار ہوں تو تم انہیں قتل کر دینا، اس کے بعد پھر جب ان کا ظہور ہوتو ان کو قتل کر دینا، پھر جب وہ ظاہر ہوں تو ان کو مار ڈالنا، ان کو قتل کرنے والے کے لیے بھی بشارت ہے اور ان کے ہاتھوں قتل ہو جانے والے کے لیے بھی خوشخبری ہے، جب ان کی نسل نمودار ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے نیست و نابود کر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو بیس یا اس سے بھی زائد مرتبہ دہرایا اور میں سنتا رہا۔
وضاحت:
فوائد: … محدثین نے خوارج کو درج بالا احادیث کا مصداق قرار دیا ہے۔ خوار ج، لغوي تعریف: خوارج، خارج کی جمع ہے، جوخروج سے مشتق ہے،ان کایہ نام ان کے خروج کی وجہ سے پڑاہے، چاہے دین سے نکل جانیکی وجہ سے یا علی رضی اللہ عنہ کیخلاف خروج کی وجہ سے خواہ مسلمانوں کے خلاف خروج کی وجہ سے۔
اصطلاحي تعریف: امام شہرستانی لکھتے ہیں: ہروہ شخص جواہل السنۃ والجماعۃ کے متفقہ امام کیخلاف خروج کرے اسے خارجی کہاجاتا ہے،یہ خروج صحابہ کرام کے زمانے میں خلفاء راشدین کیخلاف ہو، یا ان کے بعد والے زمانے میں۔
ان کے مختلف صفاتی نام: محکمہ، مارقہ، نواصب، اہل نہروان، مکفرہ،سبیئہ، شکاکیہ
اسلام میں پہلا مذہبی فرقہ جس نے شعائر سے ہٹ کر اپنا الگ گروہ بنایا۔ یہ گروہ جس کی اکثریت بدوی عراقیوں کی تھی۔ جنگ صفین کے موقع پر سب سے پہلے نمودار ہوا۔ یہ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فوج سے اس بنا پر علیحدہ ہوگئے کہ انھوں نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی تجویز منظور کر لی تھی۔ خارجیوں کا نعرہ تھا کہ حاکمیت اللہ ہی کے لیے ہے انھوں نے شعث بن راسبی کی سرکردگی میں مقام حروراء میں پڑاؤ ڈالا اور کوفہ، بصرہ، مدائن وغیرہ میں اپنے عقائد کی تبلیغ شروع کر دی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ دینی معاملات میں انسان کو حاکم بنانا کفر ہے اور جو لوگ ایسے فیصلوں کو تسلیم کرتے ہیں وہ واجب القتل ہیں۔
خارجیوں کے اعتقاد کے مطابق سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ برحق تھے۔ ان کی بیعت ہر مسلمان پر لازم تھی۔ جن لوگوں نے اس سے انکار کیا وہ اللہ اور رسول اللہ کے دشمن تھے۔ اس لیے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے حامی کشتنی اور گردن زدنی ہیں۔ ان کے ساتھ کسی قسم کی صلح کرنا ازروئے قرآن کفر ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چونکہ ان کے ساتھ مصالحت کرنے اور حکم قرآنی میں ثالث بنانے کا جرم کیا ہے۔ اس لیے ان کی خلافت بھی ناجائز ہوگئی۔ لہذا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ دونوں کے خلاف جہاد لازم ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کو جنگ نہروان میں شکست فاش دی۔ لیکن ان کی شورش پھر بھی باقی رہی۔ چنانچہ سیدنا علی ایک خارجی ابن ملجم کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
خوارج حد سے زیادہ نیک تھے، لیکن کم عقلی کی وجہ سے اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہ سمجھتے تھے، انتہا پسند تھے، ہر گناہ کو کفر کہتے تھے اور ہر گنہگار کو کافر، نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کو کافر کہہ کر اکثر قتل کرتے تھے اور کافروں کو معذور سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، انتہا پسندی کا نتیجہ ہمیشہ ایسا ہی نکلتا ہے، اس لیے انتہا پسندی، تشدد اور تکلف کی اسلام میں مذمت کی گئی ہے۔
ان لوگوں کے ظاہری حالات بہت اچھے تھے، لیکن ظاہر جتنا اچھا تھا، باطن اتنا ہی برا تھا، مسئلہ تحکیم کے بعد یہ لوگ حروراء مقام پر چلے گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ انہیں سمجھائیں اور انہیں امیر کی اطاعت میں واپس لائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سمجھانے سے بہت سے لوگ ان سے الگ ہو گئے اور امیر کی اطاعت میں واپس آگئے، لیکن ان کے بڑے اور ان کے موافقین اپنی ضد پر اڑے رہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس تشریف لائے، مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا، انہوں نے صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ان کے ساتھ معرکہ ہوا، خارجیوں کی قیادت عبد اللہ بن وہب اور ذی الخویصرہ حرقوص بن زید وغیرہ کے ہاتھ میں تھی، اس جنگ کے نتیجے میں اکثر خارجی قتل ہوگئے۔ خوارج سیدنا علی، سیدنا عثمان، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عائشہ، اور سیدنا عبد اللہ بن عباس کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس شخص کو بھی کافر کہتے تھے، جو ان کا ہم مسلک ہونے کے باوجود ان کے ساتھ قتال میں شریک نہ ہوتا، مخالفین کے بچوں اور عورتوں کے قتل کے قائل تھے، رجم کے قائل نہیں تھے، مشرکوں کے بچوں کے خلود فی النار کے قائل تھے، اس بات کے بھی قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو بھی نبی بنا دیتے ہیں، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو یہ علم ہو کہ یہ بعد میں کافر ہوجائے گا، اس بات کے بھی قائل تھے کہ نبی بعثت سے پہلے معاذ اللہ کافر ہوسکتا ہے، خوارج مرتکب کبیرہ کو کافر اور مخلد فی النار قرار دیتے تھے، اس پر وہ کفر ابلیس سے استدلال کرتے تھے کہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرکے مرتکب کبیرہ ہوا تھا اس بناء پر اس کو کافر قرار دیدیا گیا معلوم ہوا مرتکب کبیرہ کافر ہوجاتاہے حالانکہ ابلیس محض ارتکاب کبیرہ کی بناء پر کافر نہیں ہوا بلکہ حکم خداوندی کے مقابلے میں اباء واستکبار اس کے کفر کا سبب ہے۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ یہ روایتِ حدیث میں ثقہ ترین لوگوں میں سے تھے، ان کی بعض روایتیں صحیح ترین سندوں میں شمارکی جاتی ہیں، جیساکہ خطیب بغدادی نے امام ابوداؤدکا قول نقل کیاہے کہ بدعت پرستوں میں سے خوارج کی روایتوں سے زیادہ صحیح روایتیں کسی کی نہیں ہوتیں۔
خوارج جان بوجھ جھوٹ بولنے والوں میں سے نہیں تھے، یہاں تک کہاجاتاہے کہ ان کی حدیثیں صحیح ترین ہواکرتی تھیں لیکن یہ جہالت کی وجہ سے اپنی بدعت میں گمراہ ہوگئے، اوران کی بدعت الحادوزندقیت کی بنیادپرنہیں تھی، بلکہ قرآن کریم کے فہم سے جہالت وگمراہی کی بنیاد پر تھی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جھوٹ جوکبیرہ گناہوں میں سے ہے، ان کے نزدیک نہ یہ کہ اس کا مرتکب گنہگار ہے، بلکہ اس کے اوپرکفرکا اطلاق ہوتاہے۔ معلوم ہواکہ روایتِ حدیث میں اپنی ثقاہت کے باوجود تاویلی اورتخریبی فکروعمل کااثران کی گمراہیت کاسبب بناجس کی پیش گوئی پہلے ہی کی جاچکی تھی۔
بہرحال علمائے اسلام کا اس حقیقت پر اجماع و اتفاق ہے کہ خوارج باوجود اپنی گمراہی کے مسلمانوں کا ایک فرقہ ہیں، ان کے ساتھ نکاح کرنا، ان کا ذبیحہ کھانا اور ان کی شہادت قبول کرنا جائز ہے، کسی اہل علم نے ان کو کافر نہیں کہا، ہاں یہ باغی ضرور تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان القيامة وأحوال الآخرة والفتن والعلامات التى تسبقها / حدیث: 12830
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 174 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5562 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5562»