حدیث نمبر: 12789
۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((اِنَّ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی اِحْدٰی وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً فَہَلَکَتْ سَبْعُوْنَ فِرْقَۃً وَخَلَصَتْ فِرْقَۃٌ وَاِنَّ اُمَّتِیْ سَتَفْتَرِقُ عَلَی اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ فِرْقَۃً فَتَہْلِکُ اِحْدٰی وَسَبْعُوْنَ وَتَخْلُصُ فِرْقَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کُلُّہَا فِی النَّارِاِلَّا فِرْقَۃٌ)۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ تِلْکَ الْفِرَقَۃُ؟ قَالَ: ((اَلْجَمَاعَۃُ الْجَمَاعَۃُ۔)) (مسند احمد:12507 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بنو اسرائیل (۷۱) گروہوں میں تقسم ہوئے تھے، ان میں سے (۷۰) گروہ ہلاک ہو گئے اور ایک گروہ کامیاب ہوا ، اور میری امت (۷۲) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، ان میں سے (۷۱) فرقے ہلاک ہوں گے اور صرف ایک گروہ نجات پائے گا، ایک روایت میں ہے: سارے کے سارے فرقے آگ میں جائیں گے، ماسوائے ایک فرقے کے۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسا گروہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماعت والا‘ جماعت والا۔
حدیث نمبر: 12790
۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِفْتَرَقَتِ الْیَہُوْدُعَلٰی اِحْدٰی اَوِ اثْنَتَیْنِ وَ سَبْعِیْنَ فِرَقَۃً وَ سَتَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عَلٰی ثَلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ فِرْقَۃً۔)) (مسند احمد:8377)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہود (۷۱) یا (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور میری امت (۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی ۔
حدیث نمبر: 12791
۔ وَعَنْ اَبِیْ عَمَّارٍ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ لُحَیٍّی قَالَ :حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اَبِیْ سُفْیَانَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَامَ حِیْنَ صَلّٰی صَلاَۃَ الظُّہْرِ فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ:(( اِنَّ اَہْلَ الْکِتَابِ اِفْتَرَقُوْا فِی دِیْنِہِمْ عَلٰی ثِنْتَیْنِ وَسَبْعِیْنَ مِلَّۃً وَاِنَّ ہٰذِہِ الْاُمَّۃَ سَتَفْتَرِقُ عَلٰی ثَلَاثٍ وَ سَبْعِیْنَ مِلَّۃً،یَعْنِیْ الْاَھْوَائَ، وَکُلُّہَا فِی النَّارِ اِلَّا وَاحِدَۃً وَھِیَ الْجَمَاعَۃُ‘ وَاِنَّہُ سَیَخْرُجُ فِی اُمَّتِیْ اَقْوَامٌیُجَارِیْ بِہِمْ تِلْکَ الْاَھْوَائُ کَمَا یُجَارِی الْکَلبُ بِصَاحِبِہِ لَا یَبْقٰی مِنْہُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ اِلَّا دَخَلَہُ۔)) وَاللّٰہِ!یَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُوْمُوْا بِمَا جَائَ بِہِ نَبِیُّکُمْ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِغَیْرُکُمْ مِنَ النَّاسِ اَحْرٰی اَنْ لَا یَقُوْمُ بِہِ۔ (مسند احمد:17061)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عامر عبداللہ بن لحی کہتے ہیں: ہم نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی معیت میں حج کیا، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو نماز ظہر کے بعد انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: اہل کتاب دین کے بارے میں (۷۲) گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور یہ امت (خواہشات کی وجہ سے) (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی، لیکن ایک گروہ کے علاوہ سب گروہ جہنم میں جائیں گے اور عنقریب میری امت میں بہت سے ایسے لوگ بھی ظاہر ہوں گے کہ ان میں خواہشات یوں سرایت کریں گی، جیسے باولے کتے (کے کٹنے کا زہر) آدمی میں اس طرح گھس جاتا ہے کہ اس کی کوئی رگ اور جوڑ باقی نہیں رہتا مگر اس میں سرایت کر جاتا ہے۔ اے عرب قوم! اللہ کی قسم! تمہارا نبی جس دین کو لے کر آیا ہے، اگر تم ہی اس پر کاربند نہ رہے تو ظاہر ہے کہ کوئی دوسرا اس پر قائم نہیں رہے گا۔
وضاحت:
فوائد: … علامہ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: شیخ صالح مقبلی رحمتہ اللہ علیہ نے (العَلَم الشامخ فی ایثار الحق علی الآباء والمشایخ: صـ ۴۱۴) میں کہا: بلا شک و شبہ کثیر روایات سے امت کا تہتر فرقوں میں بٹ جانا ثابت ہوتا ہے، … (پھر انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کی اورکہا:) اصل اشکال اس جملے میں ہے: ((کُلُّھَا فِیْ النَّارِ اِلَّا مِلَّۃً۔)) … سارے کے سارے فرقے جہنم میں جائیں گے، سوائے ایک کے۔
حدیث نمبر: 12792
۔ وَعَنْ اَبِیْ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِیْ جَارٌ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: قَدِمْتُ مِنْ سَفَرٍ فَجَائَ نِیْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ رضی اللہ عنہ یُسَلِّمُ عَلَیَّ فَجَعَلْتُ اُحَدِّثُہُ عَنْ اِفْتِرَاقِ النَّاسِ وَمَا اَحْدَثُوْا فَجَعَلَ جَابِرٌیَبْکِیْ ثُمَّ قَالَ :سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ:(( اِنَّ النَّاسَ دَخَلُوْا فِی دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا وَسَیَخْرُ جُوْنَ مِنْہُ اَفْوَاجًا۔)) (مسند احمد:14752 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو عمار سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ایک ہمسائے نے کہا: جب میں ایک سفر سے واپس آیا تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ مجھے سلام کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں ان کو لوگوں کے افتراق اور ان کے ایجاد کردہ نئے نئے امور کے بارے میں بتلانے لگا، یہ سن کر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ رونے لگ گئے اور پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: لوگ دین میں جوق در جوق داخل ہوئے اور قریب ہے کہ وہ فوج در فوج دین سے نکلنا شروع کر دیں گے۔
حدیث نمبر: 12793
۔ وَعَنْ زَکَرِیَّا بْنِ سَلَامٍ یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَجُلٍ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ:((اَیُّہَاالنَّاسُ عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَاِیَّاکُمْ وَالْفُرْقَۃَ۔)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَھَا اِسْحٰقُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ)۔ (مسند احمد:23533 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تواس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں ارشاد فرما رہے تھے : لوگو! تم جماعت کے ساتھ مل کر رہنا اور تفرقہ بازی سے بچ کر رہنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔
حدیث نمبر: 12794
۔ وَعَنْ عَرْفَجَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ:(( تَکُوْنُ ھَنَاتٌ وَھَنَاتٌ فَمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّفَرِّقَ اَمْرَ الْمُسْلِمِیْنَ وَھُمْ جَمِیْعٌ فَاضْرِبُوْہٗبِالسَّیْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ فتنے اور ہنگامے ہوں گے، جب مسلمان متحد ہوں تو جو شخص ان کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا ارادہ کرے تو اسے تلوار سے قتل کر ڈالو، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اسلام نے جماعت کو بہت اہمیت دی ہے، جہاں تک ہو سکے، اسی کا اہتمام کرنا چاہیے، غور کریں کہ مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ ڈالنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس وقت ایک ارب سے زائد مسلمان دنیا میں موجود ہیں، لیکن مسلمانوں کا اجتماعی اور جماعتی نظام موجود نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 12795
۔ وَعَنْ بِلَالٍ الْعَبَسِیِّ قَالَ اَنْبَاْنَا عِمْرَانُ بْنُ حِصْنٍ الضَّبَّیُّ اَنَّہُ اَتَی الْبَصَرَۃَ وَبِہَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ اَمِیْرٌ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِیْ ظِلِّ الْقَصْرِ یَقُوْلُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ،صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ،لَا یَزِیْدُ عَلَی ذٰلِکَ، فَدَنَوْتُ مِنْہُ شَیْئًا فَقُلْتُ لَہٗ: لَقَدْاَکْثَرْتَمَنْقَوْلِکَ صَدَقَاللّٰہُوَرَسُوْلُہٗ فَقَالَ: اَمَاوَاللّٰہِ! لَئِنْشِئْتَلَاََخْبَرْتُکَ،فَقُلْتُ: اَجَلْ،فَقَالَ: اِجْلِسْاِذًا،فَقَالَ: اِنِّیْ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَھُوَبِالْمَدِیْنَۃِ فِیْ زِمَانِ کَذَا وَکَذَا وَقَدْکَانَ شَیْخَانِ لِلْحَیِّ قَدْ اِنْطَلَقَ اِبْنٌ لَھُمَا فَلَحِقَ بِہٖفَقَالَا: اِنَّکَقَادِمُالْمَدِیْنَۃِ وَاِنْ اِبْنًا لَنَا قَدْ لَحِقَ بِہٰذَا الرَّجُلِ فَأْتِہٖفَاَطْلُبْہٗمِنْہُ فَاِنْ اَبٰی اِلَّا الْاِفْتِدَائَ فَافْتَدِہْ، فَاَتَیْتُ اَلْمَدِیْنَۃَ فَدَخَلْتُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہ اِنَّ شَیْخَیْنِ لِلْحَیِّ اَمَرَانِیْ اَنْ اَطْلُبَ اِبْنَا لَھُمَا عِنْدَکَ فَقَالَ:(( تَعْرِفُہٗ؟)) فَقُلْتُ: اَعْرِفُنَسَبَہٗفَدَعَاالْغُلَامَفَجَائَ فَقَالَ:((ھُوَذَا، فَائْتِ بِہٖاَبَوَیْہٖ۔)) فَقُلْتُ: اَلْفِدَائُ یَانَبِیَّ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِنَّہُ لَا یُصْلِحُ لَنَا آلَ مُحَمَّّدٍ اَنْ نَّاْکُلَ ثَمَنَ اَحَدٍ مِنْ وُلْدِ اِسْمَاعِیْلَ۔)) ثُمَّ ضَرَبَ عَلٰی کَتِفِیْ ثُمَّ قَالَ:(( لَا اَخْشٰیْ عَلٰی قُرَیْشٍ اِلَّا اَنْفُسَہَا۔)) قُلْتُ: وَمَالَھُمْ یَانَبِیَّ اللّٰہِ!؟ قَالَ:(( اِنْ طَالَ بِکَ الْعُمُرُ رَاَیْتَہُمْ ھٰہُنَا حَتّٰی تَرَی النَّاسَ بَیْنَہَا کَالْغَنَمِ بَیْنَ حَوْضَیْنِ اِلٰی ہٰذَا وَمَرَّۃً اِلٰی ہٰذَا۔)) فَاَنَا اَرٰی نَاسًا یَسْتَاذِنُوْنَ عَلَی ابْنِ عَبْاسٍ رَاَیْتُہُمُ الْعَامَ یَسْتَاذِنُوْنَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ فَذََکَرْتُ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (مسند احمد:15999 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بلال عبسی سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ہمیں عمران بن حصن ضبی نے بیان کیا کہ وہ بصرہ گئے، ان دنوں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وہاں کے امیر تھے، انہوں نے محل کے سائے میں ایک آدمی کو کھڑے دیکھا جو بار بار یہ کلمہ دوہرا رہا تھا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا،میں اس کے قریب ہوا اور اس سے کہا: آپ بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا، اس کی وجہ کیا ہے؟اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم چاہو تو میں اس کی وجہ بیان کر دیتا ہوں، میں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر بیٹھ جاؤ، فلاں وقت کی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جانا چاہا، ایک قبیلہ کے دو بزرگ تھے، ان کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا ملا تھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم مدینہ منورہ جارہے ہو، ہمارا ایک بیٹا اس شخص کے ساتھ جا ملا ہے، تم ان سے ہمارے بیٹے کو طلب کرنا اور اگر وہ فدیے کا مطالبہ کریں تو تم ادا کر دینا۔ میں مدینہ منورہ پہنچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! فلاں قبیلہ کے دو بزرگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ان کا جو بیٹا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہے‘ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے طلب کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم اسے پہنچاتے ہو؟ میں نے کہا: جی، اس کا نسب جانتا ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لڑکے کو بلوایا اور فرمایا: یہ وہ لڑکا ہے، تم اسے اس کے والدین کے پاس لے جاؤ۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اس کا فدیہ کتنا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی کی قیمت لے کر کھائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: : مجھے قریشیوں سے متعلقہ کوئی اندیشہ نہیں ہے، ما سوائے اس کے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھائی کریں گے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی ! انہیں کیا ہوجائے گا کہ ایسا کرنے لگیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں طویل زندگی ملی تو دیکھنا کہ لوگ ان قریشیوں کے گروہوں کے درمیان ان بکریوں کی طرح آئیں جائیں گے جو دو حوضوں کے درمیان ہوں، کبھی اس حوض پر آجاتی ہوں اور کبھی دوسرے حوض پر ۔ پھر میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہاں حاضری کے لیے اجازت لے رہے ہیں، اور اس سال دیکھا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کے لیے اجازت طلب کر رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد یاد آگیا ۔
حدیث نمبر: 12796
۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ:(( سَاَلْتُ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ ثَلَاثًا فَاَعْطَانِیْ ثِنْتَیْنِ وَ مَنَعَنِیْ وَاحِدَۃً، سَاَلْتُ اَنْ لَّا یَبْتَلِیَ اُمَّتِیْ بِالسِّنِیْنَ فَفَعَلَ وَسَاَلْتُ اَنْ لَّا یَظْہَرَ عَلَیْہِمْ عَدُوُّھُمْ فَفَعَلَ وَسَاَلْتُ اَنْ لَّا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَاَبٰی عَلَیَّ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کیں، اس نے دو دعائیں قبول کر لیں اور ایک قبول نہیں کی، میں نے یہ دعا کی کہ وہ میری امت کو عام قحط میں مبتلا نہ کرے، اس نے یہ دعا قبول کر لی، پھر میں نے دوسری دعا یہ کی کہ میری امت کے دشمن اس پر غالب نہ آئیں، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے تیسری دعا یہ کہ وہ ان کو مختلف گروہوں میں بٹ جانے سے بچائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔
حدیث نمبر: 12797
۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنَّکُمُ الْیَوْمَ عَلٰی دِیْنٍ وَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ فَلَا تَمْشُوْا بَعْدِیْ اَلْقَہْقَرٰی۔)) (مسند احمد:14871 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم آج صحیح دین پر قائم ہو اور میں تمہاری کثرت کے سبب دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا میرے بعد تم دین سے واپس نہ پلٹ جانا۔