کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے قیامت کے قریب ہونے کا بیان ۔
حدیث نمبر: 12777
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَبِيَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَغْرِسَهَا فَلْيَفْعَلْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کھجور کا چھوٹا پودا ہو، اگر وہ کھڑا ہونے سے پہلے اسے لگا سکتا ہوتو وہ ضرور ایسا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ان احادیث ِ کریمہ میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، بالخصوص پہلی حدیث میں، کہ اگر زندگی کے آخری لمحے میں کوئی پودا لگانے کا موقع مل جائے تو محروم نہیں رہنا چاہیے، تاکہ پچھلے لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں اور جب تک اس پودے کے اثرات باقی رہیں، اسے اجر ملتا رہے۔ امام بخاری نے الادب المفرد میں اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے: [بَابُ اِصْطِنَاعِ الْمَالِ ]پھر انھوں نے لقیط کا یہ قول نقل کیا ہے کہ: ہمارے ہاںجب کوئی گھوڑی بچہ جنم دیتی تو اس کا مالک اس کو ذبح کر دیتا اور کہتا: میں نے کوئی زندہ رہنا ہے کہ اس پر سوار ہوں گا؟ اتنے میں ہمیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط موصول ہوا، اس میں لکھا تھا: اللہ تعالیٰ نے تم کو جو رزق دیا ہے، اس کی اصلاح کرو، کیونکہ لمبی زندگی گزارنی ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے داؤد بن ا بو داود انصاری سے کہا: جب تجھے دجّال کے ظاہر ہونے کی خبر ملے اور تو وادی میں پودے لگا رہا ہو تو ان کی اصلاح کرنے میں جلدی مت کرنا، کیونکہ دجال کے بعد بھی لوگوں نے زندہ رہنا ہے۔
حافظ ابن حجر نے داؤد بن ابو داؤدکو مقبول کہا ہے۔
ابن جریر نے عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ سے کہتے ہوئے سنا: تم اپنی زمین میں پودے کیوں نہیں لگاتے؟ میرے باپ نے کہا: میں بوڑھا آدمی ہوں، کل مر جاؤں گا۔ سیدنا عمر نے کہا: میں تجھے سختی کے ساتھ پودے وغیرہ لگانے کا حکم دیتا ہوں۔ پھر میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ میرے باپ کے ساتھ پودے لگا رہے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ نے زمین کی اصلاح کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کا مزدور کہا۔ امام بخاری نے (الأدب المفرد: ۴۴۸) میں نافع بن عاصم سے بیان کیا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے وہْط سے نکلنے والے اپنے ایک بھتیجے سے کہا: کیا تیرے مزدور کام کرتے ہیں؟ اس نے کہا: پتہ نہیں۔ انھوں نے کہا: اگر تو ثقیف قبیلے کا ہوتا تو اپنے مزدوروںکے ساتھ کام کرتا، پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جو آدمی اپنے مزدوروں کے ساتھ مل کر اپنے گھر یا مال میں کام کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا عامل اور مزدور قرار پاتا ہے۔
طائف کے علاقے میں وَجّ مقام سے تین میلوں کے فاصلے پر ایک باغ کا نام وہْط تھا، جو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی اولاد میں بطورِ وراثت منتقل ہوا تھا۔
ابن عساکر نے اپنی تاریخ (۱۳/ ۲۶۴/ ۲) میں عمرو بن دینار سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے باغ وہط میں داخل ہوئے، جو طائف میں واقع تھا، اس میں دس لاکھ لکڑیاں پڑی تھیں، جو انھوں نے دس لاکھ درہموں کے عوض خریدی تھیں، ان کے ذریعے وہ انگوروں کی بیلوں کو کھڑا کرتے تھے۔
امام بخاری نے اس باب کی پہلی دو احادیث پر یہ باب قائم کیا ہے: [بَابُ فَضْلِ الزَّرْعِ اِذَا اُکِلَ مِنْہُ] (اس کھیتی کی فضیلت، جس سے کھایا جائے)
ابن منیر نے کہا: امام بخاری نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کھیتی لگانا مباح ہے۔ اس سے نہی والی احادیث کو ان صورتوں پر محمول کیا جائے گا، جن میں پڑنے کی وجہ سے لوگ جہاد جیسے شرعی مقاصد سے غافل ہو جاتے ہیں۔(صحیحہ: ۹)
یادداشت
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے داؤد بن ا بو داود انصاری سے کہا: جب تجھے دجّال کے ظاہر ہونے کی خبر ملے اور تو وادی میں پودے لگا رہا ہو تو ان کی اصلاح کرنے میں جلدی مت کرنا، کیونکہ دجال کے بعد بھی لوگوں نے زندہ رہنا ہے۔
حافظ ابن حجر نے داؤد بن ابو داؤدکو مقبول کہا ہے۔
ابن جریر نے عمارہ بن خزیمہ بن ثابت سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ سے کہتے ہوئے سنا: تم اپنی زمین میں پودے کیوں نہیں لگاتے؟ میرے باپ نے کہا: میں بوڑھا آدمی ہوں، کل مر جاؤں گا۔ سیدنا عمر نے کہا: میں تجھے سختی کے ساتھ پودے وغیرہ لگانے کا حکم دیتا ہوں۔ پھر میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ میرے باپ کے ساتھ پودے لگا رہے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ نے زمین کی اصلاح کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کا مزدور کہا۔ امام بخاری نے (الأدب المفرد: ۴۴۸) میں نافع بن عاصم سے بیان کیا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے وہْط سے نکلنے والے اپنے ایک بھتیجے سے کہا: کیا تیرے مزدور کام کرتے ہیں؟ اس نے کہا: پتہ نہیں۔ انھوں نے کہا: اگر تو ثقیف قبیلے کا ہوتا تو اپنے مزدوروںکے ساتھ کام کرتا، پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جو آدمی اپنے مزدوروں کے ساتھ مل کر اپنے گھر یا مال میں کام کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا عامل اور مزدور قرار پاتا ہے۔
طائف کے علاقے میں وَجّ مقام سے تین میلوں کے فاصلے پر ایک باغ کا نام وہْط تھا، جو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کی اولاد میں بطورِ وراثت منتقل ہوا تھا۔
ابن عساکر نے اپنی تاریخ (۱۳/ ۲۶۴/ ۲) میں عمرو بن دینار سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنے باغ وہط میں داخل ہوئے، جو طائف میں واقع تھا، اس میں دس لاکھ لکڑیاں پڑی تھیں، جو انھوں نے دس لاکھ درہموں کے عوض خریدی تھیں، ان کے ذریعے وہ انگوروں کی بیلوں کو کھڑا کرتے تھے۔
امام بخاری نے اس باب کی پہلی دو احادیث پر یہ باب قائم کیا ہے: [بَابُ فَضْلِ الزَّرْعِ اِذَا اُکِلَ مِنْہُ] (اس کھیتی کی فضیلت، جس سے کھایا جائے)
ابن منیر نے کہا: امام بخاری نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کھیتی لگانا مباح ہے۔ اس سے نہی والی احادیث کو ان صورتوں پر محمول کیا جائے گا، جن میں پڑنے کی وجہ سے لوگ جہاد جیسے شرعی مقاصد سے غافل ہو جاتے ہیں۔(صحیحہ: ۹)
یادداشت
حدیث نمبر: 12779
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ“ وَمَدَّ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح متصل ہیں۔ ساتھ ہی آپ نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو پھیلا کر اشارہ کیا۔
وضاحت:
فوائد: … درمیانی اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مقاصد ہو سکتے ہیں: (۱) جس طرح یہ انگلیاں ایک دوسری کے قریب اور ملی ہوئی ہیں،یہی معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کا ہے، (۱) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت کے مابین اتنا فاصلہ رہ گیا ہے، جتنی درمیانی انگلی شہادت والی انگلی سے بڑی ہے۔
حدیث نمبر: 12780
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِإِصْبَعَيْهِ وَيَقُولُ ”بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا اور فرمایا: میری بعثت اور قیامت اب اس طرح ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں جیسے یہ انگلی اس کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 12781
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ عَنْ وَهْبٍ السَّوَائِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقَهَا“ وَجَمَعَ الْأَعْمَشُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُرَّةَ إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا وہب سوائی کا بیان ہے،وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری بعثت اور قیامت اس طرح متصل ہیں جیسے یہ انگلی دوسری انگلی کے ساتھ متصل ہے، یقینا قریب تھا کہ قیامت میری بعثت سے پہلے قائم ہوجاتی ۔ پھر امام اعمش نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 12782
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ جَمِيعًا إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقَنِي“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری بعثت اور قیامت کو ایک دوسرے کے ساتھ اس حد تک متصل کر دیا گیا کہ قریب تھا کہ قیامت مجھ سے سبقت لے جاتی۔
حدیث نمبر: 12783
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَهَاتَيْنِ“ وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ ثُمَّ قَالَ ”مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ فَرْسَيْ رَهَانٍ“ ثُمَّ قَالَ ”مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ طَلِيعَةً فَلَمَّا خَشِيَ أَنْ يُسْبَقَ أَلَاحَ بِثَوْبِهِ أُوتِيتُمْ أُوتِيتُمْ“ ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَنَا ذَلِكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور قیامت کے قرب کی مثال ان دو انگلیوں کی طرح ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھے کے ساتھ والی (انگشت ِ شہادت) اور درمیانی (انگلی) کو تھوڑا سا الگ کر کے اشارہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال مقابلہ کرنے والے دو گھوڑوں کی سی ہے۔ پھر فرمایا: میری اور قرب ِ قیامت کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہو، جب اسے خطرہ ہو ا کہ دشمن اس سے آگے نکل جائے گا تو وہ اپنا کپڑا لہرا لہرا کر قوم کو اطلاع دینے لگا کہ دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا، دشمن تمہارے پاس پہنچ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس میں وہی ہوں۔
حدیث نمبر: 12784
وَعَنِ الْمُطَّلَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ حِينَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوبِ فَبَكَى وَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عِنْدَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ وَقَفْتَ مَعِيَ مِرَارًا لَمْ تَصْنَعْ هَذَا فَقَالَ ذَكَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِمَكَانِي هَذَا فَقَالَ ”أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ دُنْيَاكُمْ فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ میدانِ عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے، جب سورج غروب کے وقت ڈھا ل کی مانندہو کر نظر آنے لگا تو وہ رونے لگ گئے اور بہت زیادہ روئے، ان کے قریب کھڑے ایک آدمی نے کہا : اے ابو عبدالرحمن! آپ نے میرے ساتھ کئی بار وقوف کیا ہے، لیکن آپ نے کبھی بھی ایسے تو نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا:مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یاد آ گئے ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہیں میری جگہ کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا : لوگو! دنیا کی گزری ہوئی مدت کے مقابلے میں بقیہ زمانے کی وہی نسبت ہے جو آج کے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس باقی وقت کی ہے۔
حدیث نمبر: 12785
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ ذِئْبٌ إِلَى رَاعِي الْغَنَمِ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى انْتَزَعَهَا مِنْهُ قَالَ فَصَعِدَ الذِّئْبُ عَلَى تَلٍّ فَأَقْعَى وَاسْتَذْفَرَ فَقَالَ عَمَدْتَ إِلَى رِزْقٍ رَزَقَنِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ انْتَزَعْتَهُ مِنِّي فَقَالَ الرَّجُلُ تَاللَّهِ إِنْ رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ ذِئْبًا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ الذِّئْبُ أَعْجَبُ مِنْ هَذَا رَجُلٌ فِي النَّخَلَاتِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُخْبِرُكُمْ بِمَا مَضَى وَبِمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ وَكَانَ الرَّجُلُ يَهُودِيًّا فَجَاءَ الرَّجُلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَخَبَّرَهُ فَصَدَّقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهَا آمَارَةٌ مِنْ آمَارَاتِ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَدْ أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ فَلَا يَرْجِعَ حَتَّى تُحَدِّثَهُ نَعْلَاهُ وَسَوْطُهُ مَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ بَعْدَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑیا ایک چرواہے کی طرف آیا اور اس کے ریوڑ سے ایک بکری اٹھا کرلے گیا، چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری کو چھڑالیا۔ بھیڑیا ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا اور اگلی ٹانگیں کھڑی کر کے سرین پر بیٹھ کر کہنے لگا:میں نے ایسے رزق کا قصد کیا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا تھا، لیکن تو نے مجھ سے وہ چھین لیا، وہ چراوہا کہنے لگا: میں نے آج تلک ایسا منظر نہیں دیکھا کہ بھیڑیا انسانوں کی طرح باتیں کرتا ہو، یہ سن کربھیڑئیے نے کہا: تم میری بات سن کر تعجب کر رہے ہو، اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ دو حرّوں کے مابین کھجوروں کے باغات میں ایک ایسا شخص ہے، جو انسانوں کو ماضی اور مستقبل کی باتیں بتلاتا ہے، وہ چرواہا یہودی تھا، جب اس نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا: جانوروں کا انسانوں کی طرح باتیں کرنابھی علاماتِ قیامت میں سے ہے اور عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان اپنے گھر سے باہر جا ئے گا تو اس کے اہل خانہ نے اس کی عدم موجودگی میں جو کچھ کیا ہوگا، اس کی واپسی پر اس کے جوتے اور چھڑی اسے سب کچھ بتلا دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ درج روایت صحیح ہے:
حدیث نمبر: 12786
۔ وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: اَخْبَرَنِیْ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِیْ بَیْتِہٖ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ مَتَی السَّاعَۃُ قَالَ: ((اَمَا اِنَّہَا قَائِمَۃٌ فَمَا اَعْدَدْتَّ لَھَا؟)) قَالَ: وَاللّٰہِ! یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا اَعْدَدْتُّ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ غَیْرَ اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ قَالَ: ((فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلَکَ مَا احْتَسَبْتَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُصَلِّیْ فَلَمَّا قَضٰی صَلَاتَہُ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃ؟)) فَاُتِیَ بِالرَّجُلِ فَنَظَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اِلَی الْبَیْتِ فَاِذَا غُلَامٌ مِنْ دَوْسٍ مِنْ رَھْطِ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَیُقَالُ لَہٗسَعْدُبْنُمَالِکٍفَقَالَرَسُوْلُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((ہٰذَا الْغُلَامُ اِنْ طَالَ بِہٖعُمُرُہُلَمْیَبْلُغْ بِہِ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) قَالَ الْحَسَنُ: وَاَخْبَرَنِیْ اَنَسٌ اَنَّ الْغُلَامَ کَانَ یَوْ مَئِذٍ مِنْ اَقْرَانِیْ۔ (مسند احمد:14057 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا،ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ تو قائم ہو کر رہے گی، تم نے اس کے لیے تیاری کیا کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا :اللہ کی قسم ! میں نے قیامت کے لیے کوئی زیادہ اعمال تو نہیں کیے ہیں، البتہ اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن کے ساتھ تم کو محبت ہو گی ‘ آخرت میں انہی کے ساتھ ہوگے اور تم جو امید رکھو گے، وہی کچھ تمہیں ملے گا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور جب نما ز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: قیامت کے بارے میں پوچھنے والا آدمی کہاں ہے؟ پس اسے لایا گیا، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر کی طرف دیکھا،تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے خاندان بنودوس کے ایک لڑکے پر نظر پڑی، اس کا نام سعد بن مالک رضی اللہ عنہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لڑکا اگر زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے کو پہنچنے سے پہلے پہلے قیامت آ جائے گی۔ حسن کہتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلایا کہ وہ نوجوان ان دنوں ان کا ہم عمر تھا۔
وضاحت:
فوائد: … آدمی اپنے محبوب کے ساتھ ہوگا، ملاحظہ ہوں احادیث نمبر (۹۴۲۹، ۹۴۳۰)، حدیث کے باقی حصے کی وضاحت کے لیے اگلی حدیث کے فوائد دیکھیں۔
حدیث نمبر: 12787
۔ وَعَنْ اَنَسٍ اَیْضًا رضی اللہ عنہ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَتٰی تَقُوْمُ السَّاعَۃُ وَعِنْدَہٗغُلَامٌمِنَالْاَنْصَارِیُقَالُ لَہُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ لَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اِنْ یَّعِشْ ہٰذَا الْغُلَامُ فَعَسٰی اَنْ لَّا یُدْرِکَہُ الْھَرَمُ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ۔)) (مسند احمد:13419 )
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ قیامت کب آئے گی؟اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب محمد نامی ایک انصاری لڑکا موجود تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوا ل کے جواب میں فرمایا : اگر یہ نوجوان زندہ رہا تو اس کے بوڑھا ہونے سے پہلے پہلے قیامت قائم ہوجائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں قیامت قائم ہونے سے مراد اس صدی کا گزر جانا یا مخاطَب لوگوں کا فوت ہو جانا ہے، جیسا کہسیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ہمیں نمازِ عشاء پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا: ((أَرَأَیْتَکُمْ لَیْلَتَکُمْ ھٰذِہٖ، فَاِنَّ رَأْسَ مِائَۃٍ مِنْھَا لَا یَبْقٰی مِمَّنْ ھُوَ الْیَوْمَ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ اَحَدٌ۔)) … کیا خیال ہے تمہارا اس رات کے بارے، (ذرا غور کرو کہ آج) جو زمین کی پشت پر موجود ہے، وہ سو برس تک باقی نہیں رہے گا۔ (صحیح بخاری: ۶۰۱، صحیح مسلم: ۲۵۳۷)
حدیث نمبر: 12788
۔ وَعَنِ الطُّفَیْلِ بْنِ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنْ اَبِیْہِ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((جَائَ تِ الرَّاجِفَۃُ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ جَائَ الْمَوْتُ بِمَا فِیْہِ۔))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین کو جھنجھوڑنے والی بس آ گئی ہے، اس کے بعد (سخت بھونچال) آنے والا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ موت اپنا سارا کچھ لے کر آ گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کا مفہوم درج ذیل آیات میںبیان کیا گیا ہے۔