حدیث نمبر: 12775
عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى أَقْوَامًا فِي رُءُوسِ النَّخْلِ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ ”مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ“ قَالَ يَا أَخُذُونَ مِنَ الذَّكَرِ فَيَحُطُّونَ فِي الْأُنْثَى يُلَقِّحُونَ بِهِ فَقَالَ ”مَا أَظُنُّ ذَلِكَ يُغْنِي شَيْئًا“ فَبَلَغَهُمْ فَتَرَكُوهُ وَنَزَلُوا عَنْهَا فَلَمْ تَحْمِلْ تِلْكَ السَّنَةَ شَيْئًا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّمَا هُوَ ظَنٌّ ظَنَنْتُهُ إِنْ كَانَ يُغْنِي شَيْئًا فَاصْنَعُوا فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَالظَّنُّ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ وَلَكِنْ مَا قُلْتُ لَكُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک نخلستان سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ ایک کھجور کا بور دوسری کھجور پر ڈال رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ نر کھجور کا بور مادہ کھجور پر ڈال کر اس کی افزائش کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہو گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بات ان لوگوں تک پہنچی تو انہوں نے اس عمل کو چھوڑ دیا اور وہ درختوں سے نیچے اتر آئے، اس سال کھجور کے درخت ثمر آور نہ ہوئے، جب اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو میرا محض اپنا خیال تھا، اگر اس عمل سے تمہیں فائدہ ہوتا ہے، تو یہ کام کر لیا کرو، میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں اور خیال غلط بھی ہوسکتا ہے اور درست بھی، البتہ میں تم سے جو بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کروں تو اس میں اللہ پر جھوٹ ہرگز نہ باندھوں گا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ دینی امور اور شرعی معاملات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال و افعال حجت ہوتے ہیں۔