حدیث نمبر: 12766
وَعَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا، كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجُمَّارَةٍ فَقَالَ: ”إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً مَثَلُهَا كَمَثَلِ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ“، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ تک سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کیا، دروانِ سفر میں نے ان سے صرف ایک حدیث سنی، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ کھجور کے درخت کا گودا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ میں نے کہنا چاہا کہ اس درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے، مگر میں نے دیکھا کہ میں حاضرین مجلس میں سب سے کم سن ہوں، اس لیے میں خاموش رہا، بعدمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ہی فرما دیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔
حدیث نمبر: 12767
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”إِنِّي لَأَعْرِفُ شَجَرَةً بَرَكَتُهَا كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، هِيَ النَّخْلَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسا درخت جانتا ہوں کہ جس کی برکت مسلمان کی طرح ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔
حدیث نمبر: 12768
(وَعَنْهُ أَيْضًا) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، فَمَا هِيَ؟“، قَالَ: فَقَالُوا وَقَالُوا فَلَمْ يُصِيبُوا، وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: هِيَ النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ایک ایسے درخت جیسی ہے، جس کے پتے نہیں جھڑتے، وہ کون سا درخت ہوسکتا ہے؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگوں نے مختلف درختوں کے نام لیے، مگر وہ صحیح جواب نہ بتلا سکے، میں نے ارادہ کیا کہ کہہ دوں یہ کھجور کا درخت ہے، مگرمیں جھجک گیا، بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔
حدیث نمبر: 12769
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا تَطْرَحُ وَرَقَهَا“، قَالَ: فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَدْوِ، وَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”هِيَ النَّخْلَةُ“، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ! مَا مَنَعَكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ، فَوَاللَّهِ! لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ایک ایسے درخت کی مانند ہے، جس کے پتے جھڑتے نہیں ہیں۔ لوگ جنگل کے مختلف درختوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے لگے، میرے دل میں خیال آیا کہ یہ کھجور کا درخت ہے، مگر کم سن ہونے کی وجہ سے بولنے میں جھجکتا رہا، آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کھجور کا درخت ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس بات کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: بیٹے! تمہیں بات کرنے سے کون سی بات مانع رہی؟ اللہ کی قسم! اگر تم یہ بات وہاں کہہ دیتے تو یہ آج میرے لیے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … کھجور کے درخت کا پھل، عمر کے جس مرحلے میں ہو، مفید ہے، اس کی گٹھلی میں کئی امراض کا علاج پایا جاتا ہے اوراس کے پتوں سے ٹوکریاں، چٹائیاں، مصلے اور چارپائی بننے والے دھاگے تیار کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح مومن بھی اپنا مقام سمجھے اور کسی کو تکلیف نہ پہنچائے، بلکہ وہ ہر مسلمان کے لئے مفید ثابت ہو۔
امام مبارکپوریl نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لما بَرَکَتُہُ کَبَرْکَۃِ الْمُسْلِمِ۔))(بخاری: ۵۴۴۴) یعنی: ایک درخت ایسا ہے کہ اس کی برکت، مسلمان کی برکت کی طرح ہے۔ آپ کی مراد کھجور کا درخت تھا۔
کھجور کے تمام اجزاء مبارک ہیں اور ہر وقت ان برکات کا حصول ممکن ہے، جونہی کھجور کا دانہ وجود پکڑتا ہے، اس وقت سے لے کر خشک ہونے تک اس کی مختلف انواع کھائی جاتی ہے، پھر اس کی گٹھلی جانوروں کے چارہ میں استعمال کی جاتی ہے اور پتوں سے رسیاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح مومن کی برکتیں ہر قسم کے حالات میں عام ہونی چاہئیں، اس کا وجود ایسا ہو کہ وہ خودبھی اور دوسرے لوگ بھی اس کے وجود سے اس کی زندگی میں اور اس کی موت کے بعد مستفید ہو سکیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۹)
امام مبارکپوریl نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ لما بَرَکَتُہُ کَبَرْکَۃِ الْمُسْلِمِ۔))(بخاری: ۵۴۴۴) یعنی: ایک درخت ایسا ہے کہ اس کی برکت، مسلمان کی برکت کی طرح ہے۔ آپ کی مراد کھجور کا درخت تھا۔
کھجور کے تمام اجزاء مبارک ہیں اور ہر وقت ان برکات کا حصول ممکن ہے، جونہی کھجور کا دانہ وجود پکڑتا ہے، اس وقت سے لے کر خشک ہونے تک اس کی مختلف انواع کھائی جاتی ہے، پھر اس کی گٹھلی جانوروں کے چارہ میں استعمال کی جاتی ہے اور پتوں سے رسیاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں۔ اسی طرح مومن کی برکتیں ہر قسم کے حالات میں عام ہونی چاہئیں، اس کا وجود ایسا ہو کہ وہ خودبھی اور دوسرے لوگ بھی اس کے وجود سے اس کی زندگی میں اور اس کی موت کے بعد مستفید ہو سکیں۔ (تحفۃ الاحوذی: ۴/ ۳۹)