حدیث نمبر: 12765
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَانَ فُلَانٌ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ النِّسَاءَ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَهُ بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ مِرَارًا، قَالَ: وَجَعَلَ الْفَتَى يُلَاحِظُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”ابْنَ أَخِي! إِنَّ هَذَا يَوْمٌ مَنْ مَلَكَ فِيهِ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ وَلِسَانَهُ غُفِرَ لَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عرفہ کے دن فلاں آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھا، وہ آدمی عورتوں کی طرف غور سے دیکھنے لگا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پیچھے سے اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کے چہرے کو دوسری طرف پھیرتے تھے، لیکن وہ آدمی عورتوں کی طرف برابر دیکھتا رہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: بھتیجے! آج کے دن جو آدمی اپنے کانوں، آنکھوں اور زبان کو کنٹرول میں رکھ لے گا، اسکی مغفرت کر دی جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ کے دن یعنی نوذوالحجہ کو صبح کی نماز منیٰ میں ادا کی،اس کے بعد آپ عرفہ کو تشریف لے گئے اور وہاں جاکر وادیٔ نمرہ میں ٹھہرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں عرفہ میں آکر امام ٹھہرتے ہیں، جب ظہرکا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوپہر کے وقت آئے اورظہر اور عصرکی نمازیں جمع کرکے ادا کیں،اس کے بعد لوگوں کوخطبہ دیا، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں وقوف کی جگہ پر وقوف کیا۔
عرفہ کے دن کی فضیلت ثابت ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗ لَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) … عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ (صحیح مسلم)
عرفہ کے دن کی فضیلت ثابت ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا مِنْ یَوْمٍ اَکْثَرَ مِنْ اَنْ یُّعْتِقَ اللّٰہُ فِیْہِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ یَوْمِ عَرَفَۃَ، وَاِنَّہٗ لَیَدْنُوْ ثُمَّ یُبَاھِیْ بِھِمُ الْمَلَائِکَۃَ فَیَقُوْلُ: مَا اَرَادَ ھٰؤُلَائِ۔)) … عرفہ کے دن کی بہ نسبت کوئی ایسا دن نہیں ہے، جس میں اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ لوگوں کو آگ سے آزاد کرتا ہو، وہ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔ (صحیح مسلم)