حدیث نمبر: 12763
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”يَطَّلِعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى خَلْقِهِ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا لِاثْنَيْنِ: مُشَاحِنٍ وَقَاتِلِ نَفْسٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو اپنی مخلوق پر نظر ڈالتا ہے اور اپنے تمام بندوں کی مغفرت کر دیتا ہے، ما سوائے دو قسم کے آدمیوں کے، کسی سے بغض رکھنے والا اور کسی کا قاتل۔
وضاحت:
فوائد: … اسی رات کو ہمارے ہاں شب ِ براء ت کہتے ہیں، اس رات کی فضیلت کے بارے میں صرف مذکورہ بالا حدیث صحیح ہے، لیکن اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس رات کا خصوصی قیام کیا جائے اور اس کے دن کا خصوصی روزہ رکھا جائے، خاص عبادت کے لیے خاص دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس حدیث میں نصف شعبان کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے، یہ ہر سوموار اور جمعرات کی فضیلت بھی ہے۔
اس حدیث میں نصف شعبان کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے، یہ ہر سوموار اور جمعرات کی فضیلت بھی ہے۔
حدیث نمبر: 12764
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ لِي: ”أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟“، قَالَتْ: قُلْتُ: ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ، فَقَالَ: ”إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوگھر میں موجود نہ پایا، میں آپ کی تلاش میں نکلی تو آپ بقیع میں تھے آپ نے اپنا سرمبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو اس بات سے ڈر گئی کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کرے گا؟ کہتی ہیں، میں نے کہا: میں سمجھی تھی کہ آپ اپنی کسی دوسری بیوی کے ہاں چلے گئے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی نصف رات کوپہلے آسمان پر تشریف لاتاہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ انسانوں کی مغفرت فرماتا ہے۔