حدیث نمبر: 12759
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے لیے ان کے صبح کے اوقات میں برکت فرما۔
حدیث نمبر: 12760
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا“ قَالَ وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ قَالَ وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کے صبح کے اوقات میں برکت فرما۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو صبح کے وقت روانہ کیا کرتے تھے، صنحر ایک تاجر آدمی تھے، یہ اپنے غلاموں کو تجارت کے لیے صبح کے وقت روانہ کیا کرتے تھے، اس کی برکت سے ان کے پاس اس قدر مال جمع ہوگیا کہ وہ مالدار بن گئے اور ان کا مال بہت زیادہ ہو گیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس وقت کے مبارک ہونے کی تین وجوہات ہیں: (۱) اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت کا نازل ہونا، طبیعت کا تازہ دم ہونا اور (۲) وقت کی مقدار کا زیادہ ہونا۔
اب پاکستان میں ماہِ اگست شروع ہواہے، ۳۰:۴ پر لوگ نماز فجر سے فارغ ہو جاتے ہیں، ۳۰:۴ سے نماز ظہر تک آٹھ نو گھنٹوں کا پیریڈ بنتا ہے، جبکہ اہل پاکستان کی عادت یہ ہے کہ وہ نو دس بجے اپنی زندگی کے معمولات شروع کرتے ہیں اور دن کے شروع کے برکت والے پانچ چھ گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں۔
کراچی (پاکستان) میں گاڑیوں کے ایک مکینک کو یہ حدیث سناکر نمازِ فجر کے فوراً بعد ورکشاپ کھولنے کی تجویز دی گئی، آہستہ آہستہ اس کے اس وقت کی شہرت ہونے لگی اور کئی مالکان کے لیے یہ بڑا مناسب وقت ثابت ہوا، پھر اس وقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی آمدنی میں اتنی برکت ڈالی کہ اب وہ ایک فیکٹری کا مالک ہے۔
اب پاکستان میں ماہِ اگست شروع ہواہے، ۳۰:۴ پر لوگ نماز فجر سے فارغ ہو جاتے ہیں، ۳۰:۴ سے نماز ظہر تک آٹھ نو گھنٹوں کا پیریڈ بنتا ہے، جبکہ اہل پاکستان کی عادت یہ ہے کہ وہ نو دس بجے اپنی زندگی کے معمولات شروع کرتے ہیں اور دن کے شروع کے برکت والے پانچ چھ گھنٹے ضائع کر دیتے ہیں۔
کراچی (پاکستان) میں گاڑیوں کے ایک مکینک کو یہ حدیث سناکر نمازِ فجر کے فوراً بعد ورکشاپ کھولنے کی تجویز دی گئی، آہستہ آہستہ اس کے اس وقت کی شہرت ہونے لگی اور کئی مالکان کے لیے یہ بڑا مناسب وقت ثابت ہوا، پھر اس وقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی آمدنی میں اتنی برکت ڈالی کہ اب وہ ایک فیکٹری کا مالک ہے۔