حدیث نمبر: 12756
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَاخْرُجْ مِنْهَا“ قَالَ فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ فَخَرَجْتُ مِنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ عنقریب مصر کو فتح کرو گے، یہ وہ سر زمین ہے جس میں قیراط استعمال ہوتا ہے، جب تم اسے فتح کر لو تو وہاں کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کو امان حاصل ہے اور ان کا میرے ساتھ رشتہ داری کا تعلق بھی ہے اورجب تم وہاں دو آدمیوں کو ایک اینٹ کے برابر جگہ کے بارے میں جھگڑتا دیکھو تو وہاں سے نکل آنا۔ میں نے شرجیل بن حسنہ اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کے برابر جگہ کے بارے میں لڑائی کرتے دیکھا تو میں وہاں سے چلا آیا۔
وضاحت:
فوائد: … اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اہل مصر میں سے تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا بھی اہل مصر میں سے تھیں۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کا بیان بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو قوت و شوکت ملی اور مختلف ممالک کو فتح کر لیا۔ دینار اور درہم کے ایک جزء کو قیراط کہتے ہیں۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کا بیان بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو قوت و شوکت ملی اور مختلف ممالک کو فتح کر لیا۔ دینار اور درہم کے ایک جزء کو قیراط کہتے ہیں۔