کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب چہارم: طائف اورمکہ کے مابین واقع وادی وج کی فضیلت
حدیث نمبر: 12752
عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ لِيَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا عِنْدَ السِّدْرَةِ وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي طَرَفِ الْقَرْنِ الْأَسْوَدِ حَذْوَهَا فَاسْتَقْبَلَ نَخِبًا بِبَصَرِهِ يَعْنِي وَادِيًا وَقَفَ حَتَّى اتَّفَقَ النَّاسُ كُلُّهُمْ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ صَيْدَ وَجٍّ وَعِضَاهَهُ حَرَمٌ مُحَرَّمٌ لِلَّهِ“ وَذَلِكَ قَبْلَ نُزُولِهِ الطَّائِفَ وَحِصَارِهِ ثَقِيفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں لیہ سے واپس آرہے تھے، جب ہم بیری کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کالے رنگ کے چھوٹے پہاڑ کے کونے میں بیری کے بالمقابل کھڑے ہو کر ایک وادی کی طرف غور سے دیکھا اور وہاں رکے رہے، یہاں تک کہ سب لوگ جمع ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وادیٔ وج کا شکار اور جھاڑیاں بھی حرم ہیں اور اللہ کے لیے لوگوں پر حرام کی گئی ہیں۔ یہ واقعہ آپ کے محاصرہ طائف و ثقیف سے پہلے کا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12752
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن عبد الله بن انسان، قال ابو حاتم الرازي: ليس بالقوي، وفي حديثه نظر، اخرجه ابوداود: 2032 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1416»