حدیث نمبر: 12732
عَنْ حُمْرَةَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَارَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى الشَّامِ بَعْدَ مَسِيرِهِ الْأَوَّلِ، كَانَ إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَهَا، بَلَغَهُ وَمَنْ مَعَهُ أَنَّ الطَّاعُونَ فَاشٍ فِيهَا، فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: ارْجِعْ، وَلَا تَقَحَّمْ عَلَيْهِ فَلَوْ نَزَلْتَهَا وَهُوَ بِهَا لَمْ نَرَ لَكَ الشُّخُوصَ عَنْهَا، فَانْصَرَفَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَعَرَّسَ مِنْ لَيْلَتِهِ تِلْكَ، وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ، فَلَمَّا انْبَعَثَ انْبَعَثْتُ مَعَهُ فِي أَثَرِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: رَدُّونِي عَنِ الشَّامِ بَعْدَ أَنْ شَارَفْتُ عَلَيْهِ لِأَنَّ الطَّاعُونَ فِيهِ، أَلَا! وَمَا مُنْصَرَفِي عَنْهُ مُؤَخِّرٌ فِي أَجَلِي، وَمَا كَانَ قُدُومِيَهُ مُعَجِّلِي عَنْ أَجَلِي، أَلَا! وَلَوْ قَدْ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَفَرَغْتُ مِنْ حَاجَاتٍ لَا بُدَّ لِي مِنْهَا، لَقَدْ سِرْتُ حَتَّى أَدْخُلَ الشَّامَ، ثُمَّ أَنْزِلَ حِمْصَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ عَلَيْهِمْ، مَبْعَثُهُمْ فِيمَا بَيْنَ الزَّيْتُونِ وَحَائِطِهَا فِي الْبَرْثِ الْأَحْمَرِ مِنْهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمر ہ بن عبد کلال سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے پہلے سفر کے بعد شام کی طرف روانہ ہوئے، جب شام کے قریب پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ وہاں تو طاعون کی وباء پھیلی ہوئی ہے، آپ کے ساتھیوں نے کہا کہ آپ وہاں نہ جائیں اور یہیں سے واپس چلیں، کیونکہ اگر آپ ادھر جائیں گے تو ہمیں اندیشہ ہے کہ آپ اسی میں مبتلا نہ ہوجائیں، پس آپ مدینہ منورہ کی طرف واپس چل پڑے، واپسی کی پہلی رات کے کسی حصہ میں آپ ذرا سستانے کے لیے کسی جگہ رکے، سب لوگوں کی نسبت میں آپ کے سب سے زیادہ قریب تھا، آپ بیدار ہوئے تو میں بھی اٹھ بیٹھا، میں نے آپ کو سنا آپ کہہ رہے تھے ، میں شام تک جا پہنچا تھا ان لوگوں نے مجھے واپس کر دیا ، محض اس لیے کہ وہاں طاعون تھا ، حالانکہ میری وہاں سے واپسی میری موت کو مؤ خر نہیں کرسکتی اور میرا وہاں جانا میری موت کو جلدی نہ لاتا، خبردار! اب مدینہ جا کر اپنے ضروری کام تکمیل کر کے میں دوبارہ شام کی طرف جاؤں گا اور پھر حمص میں قیام کروں گا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سن چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وہاں سے ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھائے گا، جن پر کوئی حساب و عذاب نہ ہوگا، انہیں وہاں کے زیتون اور اس کے باغات کے درمیان میں برثِ ا حمر سے اٹھا لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 12733
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ أَخِيهِ أَنَّ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ: ”أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ“، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُطِقْ أَنْ يَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ أَوْ يَأْتِيَهُ، قَالَ: ”فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَإِنَّ مَنْ أَهْدَاهُ كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ، انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ہمیں بیت المقدس کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگوں کے اٹھائے جانے اور جمع کیے جانے کی جگہ ہے، تم وہاں جا کر نماز پڑھا کرو، وہاں کی ایک نماز باقی مقامات کی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے۔ انہوں نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی وہاں نہ جا سکے یا سفر کی مشقت برداشت نہ کر سکے تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ وہاں جلانے کے لیے زیتون کا تیل بھجوا دے، جس نے وہاں تیل بھجوا دیا، اس نے گویا وہاں نماز ادا کر لی۔
حدیث نمبر: 12734
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا، أَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ، وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَهُ الثَّالِثَةُ، فَسَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ، وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی دو دعائیں قبول کر لیں، ہمیں امیدہے کہ اللہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کر ے گا، انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ ان کا فیصلہ اللہ کے فیصلہ کے مطابق ہو، اللہ نے ان کی یہ دعا قبول کر لی، انہوں نے دوسری دعا یہ کی کہ اللہ ان کو ایسی حکومت دے کر ایسی حکومت ان کے بعد کسی اور کونہ ملے، اللہ نے ان کی یہ دعا بھی قبول فرمائی، انہوں نے تیسری دعا یہ کی کہ جو آدمی اپنے گھر سے محض نماز ادا کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ کو جائے، وہ گناہوں سے یوں پاک صاف ہوجائے، جیسا وہ اپنی ولادت کے روز تھا، ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا بھی قبول کرلی ہوگی۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۱۲۶۹۹) والے باب میں بھی مسجد اقصی کا ذکر ہو چکا ہے۔