کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب دوم: شام اور اہل شام اور وہاں کے بعض علاقوں کے فضائل اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: مطلق طور پر شام کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 12717
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَيَصِيرُ الْأَمْرُ إِلَى أَنْ تَكُونَ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ جُنْدٌ بِالشَّامِ وَجُنْدٌ بِالْيَمَنِ وَجُنْدٌ بِالْعِرَاقِ“ فَقَالَ رَجُلٌ فَخِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلَيْكَ بِالشَّامِ عَلَيْكَ بِالشَّامِ ثَلَاثًا عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ وَلْيَسْقِ مِنْ غُدُرِهِ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اسلام کو اس قدر غلبہ حاصل ہو گا کہ اہل اسلام کے بہت سے لشکر ہوں گے، ایک لشکر شام میں ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہوگا۔ تو ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرمجھے یہ دور نصیب ہوتو میرے لیے کسی علاقہ کا انتخاب فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ملک شام میں رہنا، تم شام کو لازم پکڑنا، بس تم شام میں رہنا، جو اس علاقے کا انکار کرے تو وہ یمن میں چلا جائے اور وہاں کے جوہڑوں کا پانی پیے، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔
حدیث نمبر: 12718
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔
حدیث نمبر: 12719
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کتاب میں حدیث موجود نہیں۔
حدیث نمبر: 12720
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”بَيْنَا أَنَا فِي مَنَامِي أَتَتْنِي الْمَلَائِكَةُ فَحَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ مِنْ تَحْتِ وِسَادَتِي فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا فَالْإِيمَانُ حَيْثُ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس فرشتے آئے، میں نے خواب دیکھا کہ انہوں نے کتاب کا عمود میرے تکیے کے نیچے سے کھینچ لیا، پھر اس کو لے کر شام کی طرف کا قصد کیا، خبردار اصل ایمان شام کے اس علاقے میں ہو گا، جہاں فتنے بپا ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے کہا: معبرین اہل علم کا خیال یہ ہے کہ جو آدمی خواب میں عمود دیکھے گا، اس سے مراد دین یا قابل اعتماد شخص ہو گا، اس لیے انھوں نے عمود کی تعبیر دین اور سلطنت کی صورت میں کی ہے۔ (فتح الباری: ۱۲/ ۴۰۳)
عمود کے مختلف معانی ہیں، مثال کے طور پر: صبح کی کرن، سہارا، ستون، قابل اعتماد سردارِ قوم، آسمان میں چمکنے والا بگولا، موٹا بانس وغیرہ۔
عمود کے مختلف معانی ہیں، مثال کے طور پر: صبح کی کرن، سہارا، ستون، قابل اعتماد سردارِ قوم، آسمان میں چمکنے والا بگولا، موٹا بانس وغیرہ۔
حدیث نمبر: 12721
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ کتاب کا عمود میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا، پھر میں نے گمان کیا کہ اسے لے جایا جا رہا ہے، میں نے اپنی نگاہ کو اس کے پیچھے لگائے رکھا، پس اس کو شام لے جایا گیا، خبردار! جب فتنے واقع ہوں گے تو اصل ایمان شام میں ہو گا۔
حدیث نمبر: 12722
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ إِذْ قَالَ ”طُوبَى لِلشَّامِ“ قِيلَ وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے مختلف اشیاء پر مکتوب قرآن مجید جمع کر رہے تھے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام کے لیے خوشخبری ہے؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! وہ کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرشتوں نے اپنے پروں کو اس پر پھیلارکھا ہے۔
حدیث نمبر: 12723
عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْمَشَّاءِ وَهُوَ لَقِيطُ بْنُ الْمَشَّاءِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَحَوَّلَ خِيَارُ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى الشَّامِ وَيَتَحَوَّلَ شِرَارُ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى الْعِرَاقِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو الْمُثَنَّى يُقَالُ لَهُ لَقِيطٌ وَيَقُولُونَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَأَبُو الْمُثَنَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی، جب تک کہ اہل عراق میں سے اچھے لوگ شام کی طرف اور شام کے بد ترین لوگ عراق کی طرف منتقل نہ ہوجائیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شام کے ملک میں سکونت اختیار کرنا۔
حدیث نمبر: 12724
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَيَمَنِنَا“ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ رَجُلٌ وَفِي مَشْرِقِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ وَلَهَا تِسْعَةُ أَعْشَارِ الشَّرِّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ یہ دعا کی: اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے شام اور یمن میں برکت فرما۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور ہمارے مشرق کے حق میں بھی دعا ہو جائے، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہاں سے تو شیطان کے سینگ نمودار ہوں گے اور دنیا کے شر و فساد کے دس حصوں میں سے نو حصے وہیں ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12725
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل شام خرابیوں اور فساد میں مبتلا ہوگئے، تو تم مسلمانوں میں کوئی بھلائی نہ ہوگی اور میری امت میں سے ایک گروہ کی اللہ کی طرف سے ہمیشہ مدد کی جائے گی، ان سے اختلاف کرنے والے قیامت تک ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے ۔
وضاحت:
فوائد: … علاقہ شام مبارک علاقوں میں سے ہے، اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے علاوہ اسے اپنی ظاہری اور باطنی خیرات و برکات کا مرکز بنایا ہے، علاقے کی زرخیزی و شادابی تو واضح ہے اور باطنی طور پر یہ علاقہ انبیا کی سر زمین رہا ہے۔ لوگ بالعموم فطری طور پر خیر چاہنے والے اور دین حق کے پیروں ہیں، بالخصوص اب اردن اور لبنان کے عوام میں خیر پائی جاتی ہے۔ آخر میں عیسی کا نزول اسی علاقہ میں ہو گا۔ اسی وجہ سے اس علاقے کی طرف ہجرت کی ترغیب دی گئی ہے۔ ہمیں جو سیاسی اور غیر سیاسی فتنے نظر آتے ہیں، یہ سب وقتی ہیں اور ان سے کوئی علاقہ بھی خالی نہیں ہے، یہ ان شاء اللہ وقت آنے پر ختم ہو جائیں گے۔
ایک مثال یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمَلَاحِمِ اَرْضٌ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ۔)) … جنگوں اور فتنوں کے دنوں میں مسلمان ایک ایسی جگہ خیمہ زن ہوں گے، جسے غوطہ کہتے ہوں گے۔ (ابوداود: ۴۶۴۰)
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ فُْسَطَاطَ الْمُسْلِمِیْنَ یَوْمَ الْمَلْحَمَۃِ بِالْغُوْطَۃِ، اِلٰی جَانِبِ مَدِیْنَۃٍ یُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ مِنْ خَیْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ۔)) … جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) دمشق نامی شہر کی جانب میں واقع مقام غوطہ ہو گا اور دمشق شام کے بہترین شہروں میں سے ہو گا۔ (ابوداود: ۴۲۴۸)
ایک مثال یہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِیْنَ فِیْ الْمَلَاحِمِ اَرْضٌ یُقَالُ لَھَا الْغُوْطَۃُ۔)) … جنگوں اور فتنوں کے دنوں میں مسلمان ایک ایسی جگہ خیمہ زن ہوں گے، جسے غوطہ کہتے ہوں گے۔ (ابوداود: ۴۶۴۰)
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ فُْسَطَاطَ الْمُسْلِمِیْنَ یَوْمَ الْمَلْحَمَۃِ بِالْغُوْطَۃِ، اِلٰی جَانِبِ مَدِیْنَۃٍ یُقَالُ لَھَا دِمَشْقُ مِنْ خَیْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ۔)) … جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) دمشق نامی شہر کی جانب میں واقع مقام غوطہ ہو گا اور دمشق شام کے بہترین شہروں میں سے ہو گا۔ (ابوداود: ۴۲۴۸)
حدیث نمبر: 12726
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا هُمْ يَا أَهْلَ الشَّامِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ میری امت میں سے ایک گروہ حق پر رہے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اہل شام ہوں گے۔
حدیث نمبر: 12727
وَعَنْ شُرَيْحٍ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ قَالَ ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ فَقَالُوا الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شریح بن عبید سے مروی ہے کہ امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عراق میں تھے اور ان کے سامنے اہل شام کا تذکرہ ہونے لگا،لوگوں نے کہا: امیر المومنین! آپ ان پر لعنت کریں، انہوں نے کہا: نہیں، نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ شام میں چالیس آدمی ابدال کے مرتبہ سے شرف یاب ہوں گے، ان میں سے جب ایک فوت ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو لے آئے گا، ان کی وساطت سے بارش طلب کی جائے گی اور دشمن کے مقابلہ میں ان کے ذریعے مدد حاصل کی جائے گی اور ان کے سبب اہل شام سے عذاب ٹلیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … ابدال کے بارے میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں، ان تمام کی اسانید ضعیف ہیں اور وہ اس قابل نہیں ہیں کہ مطلب پورا ہو سکے۔
حدیث نمبر: 12728
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ يَقُولُ أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ كَيْفَ يَشَاءُ وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ وَلَنْ يَمُوتُوا إِلَّا هَمًّا أَوْ غَيْظًا أَوْ حُزْنًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ نے کہا: اہل شام زمین پر اللہ کی لاٹھی ہیں، اللہ ان کے ذریعے جس سے جس طرح چاہے گا، انتقام لے گا، اہل شام کے منافقین وہاں کے مومنین پر غالب نہ آسکیں گے اور وہ کسی نہ کسی پریشانی غصے یا غم سے ہلاک ہوجائیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … عمیر بن اسود اور کثیر بن مرہ حضرمی کہتے ہیں کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن سمط کہتے تھے: لَایَزَالُ الْمُسْلِمُوْنَ فِیْ الْأَرْضِ حَتّٰی تَقُوْمَ السَّاعَۃُ، وَذٰلِکَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((لَاتَزَالُ مِنْ أُمَّتِیْ عِصَابَۃٌ قَوَّامَۃٌ عَلٰی أَمْرِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَایَضُرُّھَا مَنْ خَالَفَھَا، تُقَاتِلُ أَعْدَائَ ھَا، کُلَّمَا ذَھَبَ حَرْبٌ نَشَبَ حَرْبُ قَوْمٍ آخَرِیْنَ، یَزِیْغُ اللّٰہُ قُلُوْبَ قَوْمٍ لِیَرْزُقَھُمْ مِنْہُ، حَتّٰی تَأْتِیَھُمُ السَّاعَۃُ، کَأَنَّھَا قِطَعُ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ، فَیَفْزَعُوْنَ لِذٰلِکَ حَتّٰی یَلْبَسُوْا لَہٗ أَبْدَانَ الدُّرُوْعِ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((ھُمْ أَھْلُ الشَّامِ۔)) وَنَکَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِإِصْبَعِہٖ، یُوْمِیُٔ إِلَی الشَّامِ حَتّٰی أَوْجَعَھَا۔ … مسلمان زمین میں قیامت کے برپا ہونے تک موجود رہیں گے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی ایک جماعت اللہ کے حکم پر قائم دائم رہے گی، اس کا مخالف اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، وہ اپنے دشمنوں سے جہاد کرتی رہے گی، جب کبھی ایک لڑائی ختم ہو گی تو دوسری جنگ چھڑ جائے گی، اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کو راہِ راست سے ہٹاتا رہے گا تاکہ ان سے (مالِ غنیمت کے ذریعے) ان کو رزق دیتا رہے، حتی کہ قیامت آ جائے گی، گویا کہ وہ اندھیری رات کے ٹکڑے ہوں گے، اس وجہ سے وہ گھبرا جائیں گے، حتی کہ وہ چھوٹی چھوٹی زرہیں پہنیں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اہل شام ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلی کے ساتھ زمین کو کریدا (یعنی شام کی طرف خط کھینچا)، حتی کہ آپ کو تکلیف بھی ہوئی۔ (تاریخ ابن عساکر: ۱/ ۵۲۸، صحیحہ: ۳۴۲۵)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بُشْرٰی لِاَھْلِ الشَّامِ الْمُؤْمِنِیْنَ کی سرخی ثبت کی۔ جغرافیائی حدود تبدیل ہونے کی وجہ سے موجودہ شام اور احادیث میں مذکورہ شام کی حدود میں بہت زیادہ فرق ہے، قدیم شام کئی ممالک میں تقسیم ہو چکا ہے، معجم البلدان کے بیان کے مطابق جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ شام کہلاتا تھا، یہ علاقہ انطاکیہ، موجودہ شام، اردن پر اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل تھا۔
مختلف احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاز، شام اور یمن اسلام و ایمان کے مراکز ہیں اور یہاں سے اسلام اور ایمان کاعلم بلند ہوتا رہے گا اور مدینہ سے مشرق کی جانب واقع عراق کا علاقہ فتنوں کا سرچشمہ اور ضلالت و گمراہی کا مرکز ہے، یہاں سے بہت سے فتنوں نے جنم لیا، یہاں خیر کم اور شر زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن و شام کے لیے خصوصی برکت کی دعا فرمائی۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیدائشی اور آبائی علاقہ مکہ مکرمہ یمن کا اور مدینہ منورہ شام کا شہر تھا، جیسا کہ علامہ شرف الدین طیبی نے مشکوۃ المصابیح کی شرح میں کہا ہے۔
ان احادیث میں شام میں بسیرا کرنے والے ان لوگوں کے لیے بشارت ہے، جو سنت کی تائید کرنے والے، اس پر عمل کرنے والے، اس کا دفاع کرنے والے اور اس کی طرف دعوت دینے میں صبر کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ان میں سے بنا دے اور ان کے زمرے میں ہمارا حشر کرے، جبکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے سائے میں ہوں۔ احادیث ِ مبارکہ میں سرزمینِ شام اور اہل شام کو سراہا گیا، ماضی میں یہ علاقہ اہل علم اور اہل تقوی لوگوں کی آماجگاہ بنا رہا، مستقبل میں بھی اس علاقے میں خیر و بھلائی زیادہ ہو گی۔
سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انجام یہ ہو گا کہ تم مختلف لشکروں میں بٹ جاؤ گے، ایک لشکر شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہو گا۔ ابن حوالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں یہ زمانہ پا لوںتو آپ میرے لیے کون سا علاقہ مختار (وپسندیدہ) سمجھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام کو لازم پکڑنا، یہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ زمین ہے، اللہ تعالیٰ اپنے مختار بندوں کو اس کی طرف لائے گا، اگر تم ایسا کرنے سے انکار کرو تو پھر یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے حوض سے پینا، بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے، (یعنی وہ فتنوں سے محفوظ رہیں گے)۔ (ابوداود: ۲۴۸۳)
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر بُشْرٰی لِاَھْلِ الشَّامِ الْمُؤْمِنِیْنَ کی سرخی ثبت کی۔ جغرافیائی حدود تبدیل ہونے کی وجہ سے موجودہ شام اور احادیث میں مذکورہ شام کی حدود میں بہت زیادہ فرق ہے، قدیم شام کئی ممالک میں تقسیم ہو چکا ہے، معجم البلدان کے بیان کے مطابق جزیرہ نماعرب کا شمالی علاقہ شام کہلاتا تھا، یہ علاقہ انطاکیہ، موجودہ شام، اردن پر اور فلسطین سے عسقلان پر مشتمل تھا۔
مختلف احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حجاز، شام اور یمن اسلام و ایمان کے مراکز ہیں اور یہاں سے اسلام اور ایمان کاعلم بلند ہوتا رہے گا اور مدینہ سے مشرق کی جانب واقع عراق کا علاقہ فتنوں کا سرچشمہ اور ضلالت و گمراہی کا مرکز ہے، یہاں سے بہت سے فتنوں نے جنم لیا، یہاں خیر کم اور شر زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن و شام کے لیے خصوصی برکت کی دعا فرمائی۔ اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیدائشی اور آبائی علاقہ مکہ مکرمہ یمن کا اور مدینہ منورہ شام کا شہر تھا، جیسا کہ علامہ شرف الدین طیبی نے مشکوۃ المصابیح کی شرح میں کہا ہے۔
ان احادیث میں شام میں بسیرا کرنے والے ان لوگوں کے لیے بشارت ہے، جو سنت کی تائید کرنے والے، اس پر عمل کرنے والے، اس کا دفاع کرنے والے اور اس کی طرف دعوت دینے میں صبر کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ان میں سے بنا دے اور ان کے زمرے میں ہمارا حشر کرے، جبکہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جھنڈے کے سائے میں ہوں۔ احادیث ِ مبارکہ میں سرزمینِ شام اور اہل شام کو سراہا گیا، ماضی میں یہ علاقہ اہل علم اور اہل تقوی لوگوں کی آماجگاہ بنا رہا، مستقبل میں بھی اس علاقے میں خیر و بھلائی زیادہ ہو گی۔
سیدنا ابن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انجام یہ ہو گا کہ تم مختلف لشکروں میں بٹ جاؤ گے، ایک لشکر شام میں، ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہو گا۔ ابن حوالہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں یہ زمانہ پا لوںتو آپ میرے لیے کون سا علاقہ مختار (وپسندیدہ) سمجھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شام کو لازم پکڑنا، یہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ زمین ہے، اللہ تعالیٰ اپنے مختار بندوں کو اس کی طرف لائے گا، اگر تم ایسا کرنے سے انکار کرو تو پھر یمن کو لازم پکڑنا اور اپنے حوض سے پینا، بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی ضمانت دی ہے، (یعنی وہ فتنوں سے محفوظ رہیں گے)۔ (ابوداود: ۲۴۸۳)