حدیث نمبر: 12707
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ فَانْطَلِقْ مَعِي“ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَقَفَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ قَالَ ”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ مِمَّا أَصْبَحَ فِيهِ النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يَتْبَعُ أَوَّلُهَا آخِرَهَا الْآخِرَةُ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى“ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ وَخُيِّرْتُ بَيْنَ ذَلِكَ وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةِ“ قَالَ قُلْتُ بِأَبِي وَأُمِّي فَخُذْ مَفَاتِيحَ الدُّنْيَا وَالْخُلْدَ فِيهَا ثُمَّ الْجَنَّةَ قَالَ ”لَا وَاللَّهِ يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ لَقَدِ اخْتَرْتُ لِقَاءَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَالْجَنَّةَ“ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَبُدِئَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ حِينَ أَصْبَحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آدھی رات کو مجھے بیدا رکیا اور فرمایا: ابو مویہبہ!مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بقیع قبرستان والوں کے لیے مغفرت کی دعا کروں، تم بھی میرے ساتھ چلو۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں جا کر جب ان کے درمیان کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے قبر والو! تم پر سلامتی ہو، تم جس حال میں ہو، وہ تمہیں مبارک ہو، ان حالات سے کہ جن میں اب لوگ ہیں، کاش کہ تم جان لو کہ اللہ نے تمہیں کس چیز سے بچا لیا ہے، فتنے اندھیری رات کے حصوں کی مانند ایک دوسرے کے پیچھے لگا تار آرہے ہیں، بعدمیں آنے والا فتنہ پہلے سے بدتر ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ابو مویہبہ! مجھے دنیا اور اس میں ہمیشگی کے خزانے دئیے گئے ہیں اور اس کے بعد جنت دی گئی ہے اور مجھے اختیار دیا گیا ہے کہ میں دنیا یا اپنے رب کی ملاقات اور جنت میں سے جس چیز کا انتخاب کرنا چاہوں، کر لوں۔ ابو مو یہبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا کے خزانوں اور اس میں ہمیشگی اور اس کے بعد جنت کا انتخاب فرما لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابومویہبہ! اللہ کی قسم! ایسا نہیں میں نے اپنے رب کی ملاقات اور جنت کا انتخاب کر لیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل بقیع کے حق میں مغفرت کی دعائیں کیں اور واپس چل دئیے، دوسرے دن صبح کو ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ بیماری شروع ہوگئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا سے اٹھالیا۔
حدیث نمبر: 12708
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ قَالَ ”يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ أَسْرِجْ لِي دَابَّتِي“ قَالَ فَرَكِبَ فَمَشَيْتُ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِمْ فَنَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ وَأَمْسَكْتُ الدَّابَّةَ وَوَقَفَ عَلَيْهِمْ أَوْ قَالَ قَامَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ ”لِيَهْنِكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ مِمَّا فِيهِ النَّاسُ أَتَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا الْآخِرَةُ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى فَلِيَهْنِكُمْ مَا أَنْتُمْ فِيهِ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا ابو مویہبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بقیع قبرستان والوں کے حق میں دعا کرنے کا حکم دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات میں تین مرتبہ ان کے حق میں دعائیں کیں، جب دوسری رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو مویہبہ! میری سواری تیار کرو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوار ہوئے اور میں پیدل چلا، تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے پاس جا پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے نیچے اترے اور میں نے سواری کو پکڑ لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اہل بقیع! تم جس حال میں ہو، تمہیں مبارک ہو، اِدھر تو رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے چڑھے آ رہے ہیں، ہر بعد والا فتنہ پہلے والے سے سخت ہے، لہذا تم جس حالت میں ہو، تمہیں یہ مبارک ہو۔
وضاحت:
فوائد: … بقیع قبرستان تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل بقیع کے لیے بخشش طلب کرنے کے لیے اس قبرستان کی طرف تشریف لے جاتے تھے۔
حدیث نمبر: 12709
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَفَلْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ فَلَمَّا بَدَا لَهُ أُحُدٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اللَّهُ أَكْبَرُ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سوید انصاری رضی اللہ عنہ ، جو کہ اصحاب ِ رسول میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں غزوہ ٔ خیبر سے واپس آ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احد پہاڑ دکھائی دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر، احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12710
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”إِنَّ أُحُدًا هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 12711
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمُ الْجَبَلُ فَقَالَ ”اسْكُنْ عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبل احد پر تشریف لے گئے، سیدناابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے آ گئے، ان کی آمد پر پہاڑہلنے لگا،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: رک جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … حجاز کی فضیلت اگلے باب میںبیان ہو گی۔