کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مسجد قباء اور اس میں نماز کی فضیلت اور مسجد فضیخ کا بیان
حدیث نمبر: 12702
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ فَيُصَلِّيَ فِيهِ كَانَ كَعَدْلِ عُمْرَةٍ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے گھر سے روانہ ہو کر مسجد ِ قباء میں جاکر نماز ادا کرے، اس کا یہ عمل عمرہ کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12702
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بشواهده، اخرجه ابن ماجه: 1412، والنسائي: 2/ 37 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16077»
حدیث نمبر: 12703
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهُ رَاكِبًا وَمَاشِيًا يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی سو ار اور کبھی پیدل جا کر قباء مسجد کی زیارت کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12703
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1191، ومسلم: 1399، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5330»
حدیث نمبر: 12704
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ أَقْبَلْتُ مِنْ مَسْجِدِ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءَ عَلَى بَغْلَةٍ لِي قَدْ صَلَّيْتُ فِيهِ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَاشِيًا فَلَمَّا رَأَيْتُهُ نَزَلْتُ عَنْ بَغْلَتِي ثُمَّ قُلْتُ ارْكَبْ أَيْ عَمِّ قَالَ أَيِ ابْنَ أَخِي لَوْ أَرَدْتُ أَنْ أَرْكَبَ الدَّوَابَّ لَرَكِبْتُ وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِلَى هَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى يَأْتِيَهُ فَيُصَلِّيَ فِيهِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَمْشِيَ إِلَيْهِ كَمَا رَأَيْتُهُ يَمْشِي قَالَ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَ وَمَضَى عَلَى وَجْهِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں قبا ء میں واقع مسجد بنی عمرو بن عوف میں نماز پڑھ کر اپنے خچر پر سوار ہو کر واپس آرہا تھا، راستے میں مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پیدل چلتے مل گئے، میں نے انہیں دیکھا تو میں اپنے خچر سے اترآیا اورمیں نے کہا: چچا جان! آ پ اس پر سوار ہو جائیں، انہوں نے کہا: بھتیجے! میں سواری پر سوار ہونا چاہتا تو ہوسکتا تھا، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مسجد کی طرف پیدل چل کرجاتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جا کر وہاں نماز ادا کی، پس میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدل جاتے دیکھا ہے، میں بھی پیدل ہی جاؤں اور انہوں نے سوار ہونے سے انکا ر کر دیا اور اسی طرح روانہ ہوگئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12704
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5999»
حدیث نمبر: 12705
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ إِلَى قُبَاءَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پیر کے دن قباء کی طرف گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12705
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 343 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11058»
حدیث نمبر: 12706
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِفَضِيخٍ فِي مَسْجِدِ الْفَضِيخِ فَشَرِبَهُ فَلِذَلِكَ سُمِّيَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مسجد فضیخ میں فضیخ پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ نو ش فرمایا، اسی مناسبت سے اس مسجد کا نام فضیخ رکھ دیا گیا۔
وضاحت:
فوائد: … کچی کھجور سے تیار شدہ مشروب کو فضیخ کہتے ہیں، یہاں اس سے مراد وہ مشروب ہے، جو نشہ آور نہ ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12706
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبدا لله بن نافع، اخرجه ابويعلي: 5733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5844»